BN

اوریا مقبول جان


طالبان دورِ حکومت: حقائق


اس قدر تعصب، اس قدر بغض اور نفرت۔۔۔ یوں لگتا ہے جیسے ہی طالبان نے بے سروسامانی کے عالم میں اللہ پر توکل رکھتے ہوئے،اسی افغان سرزمین پر ایک اور عالمی طاقت'' امریکہ'' کو شکست کیا دی ہے، یار لوگوں کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ ان کا بس نہیں چلتا کہ دنیا کے تمام ظالموں، قاتلوں، فرعونوں کے مظالم ایک ساتھ جمع کرکے ان کی تمام سیاہی طالبان کے چہرے پر مل دیں اور انہیں چنگیز خان، ہلاکو اور نادرشاہ سے بھی زیادہ ظالم بنا کر پیش کریں۔ گذشتہ ڈیڑھ سو سالہ صحافت اور دانشوری کی تاریخ میں ایسا
جمعرات 12 مارچ 2020ء

جسم کیا، جسم کی حقیقت کیا

اتوار 08 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
جسم دنیا کی وہ واحد حقیقت ہے جس پر ہر کوئی اپنی مرضی چلانا چاہتا ہے۔ لیکن اس پر صرف اور صرف میرے اللہ کی مرضی چلتی ہے۔ وہ جتنی دیر تک اسے کمزور اور محتاج رکھتا ہے،یہ اس سے ایک سیکنڈ پہلے بھی اٹھ کر اپنی مرضی نہیں دکھا سکتا۔ اللہ کا دعوی ہے کہ ''وہی ہے جو ماؤں کے پیٹوں میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے (آل عمران:6)۔ وہ مالک کائنات جتنی دیر چاہتا ہے، اس جسم کو جاذب ِنظر، خوبصورت، توانا اور تندرست رکھتا ہے اور پھر اسے واپس محتاج و بے نواء بنا
مزید پڑھیے


آمدن سے زیادہ اثاثے

هفته 07 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
کیا بددیانتی اور کرپشن کے ناسور کا خاتمہ مروجہ جمہوری نظام میں ممکن ہے، جس کی جڑیں استحصال اور بددیانتی سے حاصل کردہ سرمائے سے توانائی لیتی ہوں۔یہ نظام انتہائی خوبصورت اور جاذب نظر بھی ہو جائے تو چہرے پر اگنے والے کیل مہاسوں جیسی کرپشن اور بددیانتی کو دور کرکے خود کو خوبصورت تو بنا لیتا ہے،لیکن اسکا پورا جسم کرپشن اور استحصال کے ناسور کی گلٹیوں سے بھرا ہوتا ہے اور اسکی رگوں میں جو خون دوڑ رہا ہوتا ہے وہ بد دیانتی کے خلیوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ جس نظام کے بنیادی ستون یعنی ممبران اسمبلی اگر
مزید پڑھیے


جمہوری بنیاد پرستی کی متشدد سوچ

جمعه 06 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
جو دانشور، ادیب، فلاسفر نما لکھاری اور ماڈرن اسلام کے داعی جدید مذہبی سکالر، بھارت نہیں صرف دلّی شہر میں مسلمانوں پر جو کچھ بیت رہا ہے، اسے دیکھنے کے بعد بھی یہ تصور رکھتے ہیں کہ اس دنیا میں جدید مغربی تہذیب و تمدن نے جو ''جمہوری مذہب'' بزور طاقت نافذ کیا اس میں انسانی معاشرے کی فلاح چھپی ہوئی ہے تو پھر مجھے ان کی اس کورچشمی پر ماتم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ ایک ایسا متعصب اندھا پن ہے جس کا عقل و ہوش کے پاس بھی کوئی علاج نہیں۔ گذشتہ تقریبا سو سال سے
مزید پڑھیے


ناکام حسرتوں کے امین

جمعرات 05 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
جس دن سوویت یونین کی افواج افغانستان میں داخل ہوئیں، یہ جشن منا رہے تھے۔ یہ نعرے بلند کرتے تھے کہ، دیکھو انقلاب نے ہمارے دروازے پر دستک دے دی ہے۔ اسلام پسندو! اپنی خیر مناؤ، مولویو! تاجکستان، ازبکستان اور ترکمانستان کے علاقوں کی تاریخ پڑھو،عبرت حاصل کرو اور اپنا انجام سوچ لو۔ یہ روس ہے امریکہ نہیں جو ویتنام کی طرح بھاگ جائے گا۔ یہ ایک نظریاتی ملک سوویت یونین ہے۔ یہ جہاں گیا ہے، وہاں سے کبھی نکلا نہیں، بلکہ آگے ہی بڑھا ہے۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کی باقیات، ادباء اسی طرح کے تبصرے تحریر کرتے۔
مزید پڑھیے



’’مشرکوں،کافروں کو بہت ناگوار ہے‘‘

اتوار 01 مارچ 2020ء
اوریا مقبول جان
اللہ کے فرمان کی حقانیت اور سچائی ہر بار کھل کر سامنے آتی ہے، اہل ایمان، کے ایمان میں اضافہ کرتی ہے اور اہلِ ہوش و عقل کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ جہاں میرے اللہ نے قرآن پاک میں یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ مومنین کو فتح و نصرت عطا کرے گا، اپنے دین کو غالب کرے گا، اپنے نور کی تکمیل کرے گا، وہیں اس نے یہ آیات بھی اتار یں ہیں کہ یہ نصرت و فتح ''کافروں کو بہت ناگوار ہے''۔ انسانی تاریخ کی کتنی بڑی گواہی ہے کہ ایک ہی سرزمین پر میرے اللہ نے
مزید پڑھیے


فتح و نصرت کا دن

هفته 29 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
آج کا دن محترم ہے۔ پوری امت کے لئے محترم۔ یہ دن میرے اللہ کی آیات (نشانیوں) میں سے ایک ہے۔ یہ دن اللہ کے اس اعلان کی تکمیل کا دن ہے کہ '' دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو، تم ہی سر بلند ہو گے اگر تم مومن ہو (آل عمران:139)۔ آج کے دن قطر کے شہر دوحہ میں طالبان اور امریکہ کے درمیان جو'' اتفاق نامہ'' دستخط ہوگا وہ ایک دستاویز نہیں، بلکہ ڈیڑھ ارب جیتی جاگتی، ہنستی بولتی اور عیش و عشرت میں گم،امت مسلمہ کے لئے ایک ایسی دستاویز ہے جو روزِ حشر ان کے
مزید پڑھیے


دو عالمی حکومتوں کے خواب اور انکے نقشے

جمعه 28 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
اس وقت پوری دنیا میں دو مذاہب کے پیروکاروں کی اکثریت ایسی ہے جو خود کو پوری دنیا میں آباد اقوام سے مذہب کی بنیاد پرایک الگ اکائی تصور کرتی ہے۔ دونوں مذاہب اپنی گذشتہ دو ہزار سالہ تاریخی غلامی پر ماتم کرتے ہیں اور دونوں ہی اس غلامی سے قبل اپنی عظمت رفتہ کی بحالی کے خواب بھی دیکھتے ہیں۔ دونوں کے خوابوں میں مستقبل میں قائم ہونے والی عظیم الشان حکومتوں کے نقشے سجے ہوئے ہیں۔ یہ دونوں مذاہب بلکہ قومیں یہودی اور ہندو ہیں۔ دونوں کا گذشتہ تقریبا دو ہزار سال کا ماضی ہر طرح سے ایک
مزید پڑھیے


تقدیرِ امم اور فراستِ مومن

جمعرات 27 فروری 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ کون لوگ ہیں، انہیں عالمی سفارتکاری کے داؤ پیچ کس نے سکھائے، ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس نے ہاورڈ کے سفارت کاروں کی تربیت کے مشہور ادارے،''فیلچر سکول آف ڈپلومیسی'' سے سفارتی زبان و بیان اور عالمی معاہدات کو تحریر کرنے کی تربیت لے رکھی ہو۔ ان میں سے اکثر تو ایسے ہیں جو گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پوری دنیا سے کٹے ہوئے تھے۔ کوئی گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں تھا تو کوئی پاکستانی جیل میں، اور باقی افغانستان کے پہاڑوں میں امریکہ سے جنگ لڑ رہے تھے۔ مگر کمال یہ ہے کہ گذشتہ ایک
مزید پڑھیے


کشمیری زبان و ثقافت پر یلغار ، یونیسکو سے فریاد

منگل 25 فروری 2020ء
افتخار گیلانی
بھارت میں وزیر اعظم نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے سے قبل یا اسکے فوراً بعد کشمیر، بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کے حوالے سے جو خدشات ظاہر کئے جا رہے تھے ، ایک ایک کرکے وہ سبھی درست ثابت ہو رہے ہیں۔ غالباً2014 ء اور 2015ء میں جب ان خطرات سے آگاہ کرانے کیلئے میں نے مودی کا کشمیر روڑ میپ ، کشمیر میں ڈوگرہ راج کی واپسی وغیرہ جیسے موضوعات پرکالم لکھے توکئی افراد نے قنوطیت پسندی کا خطاب دیکر مجھے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ کانگریس کی کمزور اور پس وپیش میں مبتلا سیکولر حکومت کے
مزید پڑھیے