BN

اوریا مقبول جان


جنگ کے امڈتے ہوئے زہریلے بادل


عالمی تجزیہ نگار اور میدانِ سیاست کے دانشور جوآجکل جنوبی ایشیا اور مشرقِ بعید میں لمحہ لمحہ بڑھتی ہوئی کشمکش کا مسلسل جائزہ لے کر ان پر گفتگو کرتے اور تجزیے تحریرکرتے ہیں،ان کے نزدیک اس وقت سب سے بڑا موضوع یہ ہے کہ برما میں سیاسی تبدیلی کے بعد اگلا کونسا ملک نشانے پر ہوگا، بنگلہ دیش یا پاکستان۔ چین کی دفاعی حکمتِ عملی کیلئے ان دونوں ملکوں میں سیاسی استحکام بہت ضروری ہے۔ پڑوس کا افغانستان بھی اس کی کامیابی کیلئے بہت اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان میںاس وقت سب سے زیادہ سرمایہ کاری چین کی
اتوار 07 فروری 2021ء

جنگ کے امڈتے ہوئے زہریلے بادل……(2)

هفته 06 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
بھارت کے تازہ ترین فوجی بجٹ میں اضافے اور اسلحہ کی خریداری کا جس طرح مذاق اس وقت چین کے دفاعی تجزیہ نگار اُڑا رہے ہیں ،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ چین ایسے امریکی چار ملکی اتحاد سے بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہے کیونکہ بھارت اس اتحاد کا فرنٹ لائن لڑاکا ہے۔ چین کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دوسرے ملکوں سے اسلحہ خرید کر کوئی ملک دنیا کے فوجی نقشے پر ایک قوت کے طور پر کبھی نہیں ابھرسکتا۔ چینی اخبار نے کرونا سے مارے ہوئے بھارت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اپنی گرتی ہوئی
مزید پڑھیے


جنگ کے امڈتے ہوئے زہریلے بادل

جمعه 05 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی سیاسی اشرافیہ اور دانشوربرادری روزمرہ کے لایعنی اور فضول جھگڑوں میں مستقل اور مسلسل الجھی ہوئی ہے، جلوسوں، جلسوں، شور مچاتے ٹی وی ٹاک شوز اور’’مہذب‘‘ پارلیمنٹ کے اکھاڑوں میں گونجتی آوازوں میں ان شخصیات کو نہ تو خطے میں آنے والی جنگ کے ڈھولوں کا شور سنائی دے رہا ہے اور نہ ہی آسمان پر منڈلاتے جنگ کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔میرے ملک کے محدود زاویۂ نظر رکھنے والے اکثر دانشور اور تجزیہ نگار جو عوامی مقبولیت کے لیئے روز پاپڑ بیلتے ہیں اور ’’ریٹنگ‘‘ کی دوڑ میں اندھے ہوچکے ہیں، ان کی حالت بالکل بغداد
مزید پڑھیے


گراں خوب چینی سنبھلنے لگے

جمعرات 04 فروری 2021ء
اوریا مقبول جان
ابھی ڈونلڈ ٹرمپ کے عرصۂ صدارت میں پورا ایک سال باقی تھا کہ 4نومبر 2019ء کوامریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے دستخطوں سے ایک دستاویز جاری ہوئی جس کا عنوان تھا ’’ایک آزاد اور کھلا بحرِ ہند و بحرالکاہل‘‘ (A free and open Indo-Pacific)۔ تیس صفحات پر مشتمل اس لائحہ عمل کا خواب نومبر 2017ء میں ویت نام میں ہونے والے پینتیس ممالک کے اجلاس میں دیکھا گیا تھا۔ یہ تمام ممالک ’’ہند چینی‘‘ علاقے میں امریکہ کے حلیف اور دوست قرار دیئے گئے تھے، جن کی امریکہ کے ساتھ دوطرفہ تجارت کا حجم دو ہزار ارب ڈالر تھا۔ان ممالک
مزید پڑھیے


ہمیں کس جہنم میں لے جایا جارہا ہے (آخری قسط)

اتوار 31 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
میڈیا اور نصابِ تعلیم کے گٹھ جوڑ سے معاشروں کو بدلنے کا تجربہ مغرب میں انتہائی کامیاب رہا۔ وہ معاشرے جہاں خاندانی اقدار و روایات، شرم و حیا اور مذہبی بالادستی چھائی ہوئی تھی وہاں سب سے پہلے ’’تحریکِ احیائے علوم‘‘ (Renaissance)کے نام پر آرٹ اور ادب میں نیم عریانی اور نیم فحاشی کے دروازے کھلے اور تحریر و تقریر میں جنسی جذباتیت کے اظہار کے لیے مذہبی اخلاقیات کو چیلنج کیا گیا۔ یوں تو اس تحریک کو اردو میں ’’احیائے علوم‘‘ کہا جاتا ہے لیکن یہ اپنے تمام تر مقاصد اور اہداف کے اعتبار سے ایک معاشرتی تبدیلی (Cultural
مزید پڑھیے



ہمیں کس جہنم میں لے جایا جا رہا ہے

هفته 30 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
گزشتہ کئی دہائیوں سے اس قوم کے زوال پرلکھنے والے اپنی تحریروں کا عمومی عنوان یہ رکھتے تھے کہ ’’ہم کہاں جارہے ہیں‘‘۔ ایسی تحریروں میں اخلاقی زوال، خاندانی روایات کے خاتمے، اور معاشرتی بے حسی کا تذکرہ ہوتا تھا۔ لیکن میں آج انتہائی دکھ ، کرب اور اذیت کے ساتھ یہ حقیقت بیان کر رہا ہوں کہ ہم بحیثیت قوم اپنے زوال کی طرف خود نہیں جارہے بلکہ ہمیں اس جہنم کی طرف زبردستی گھسیٹا جارہا ہے۔ اس اخلاقی زوال اور بدترین جنسی غلاظت کے گڑھے میں دھکیلنے کے ذمہ دار دو اہم گروہ ہیں، کار پردازانِ نظام تعلیم
مزید پڑھیے


یاجوج ماجوج کے آخری معرکے کی تیاریاں

جمعه 29 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
گیارہ جنوری 2007ء ایک ایسا دن تھا جس نے دنیا بھر کے عسکری ماہرین کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ امریکی عسکری ماہرین جو اپنی قوت و طاقت کا آخری مرکز و محور ’’خلا میں اپنی بادشاہت‘‘ کوسمجھتے تھے، سب کے سب انگشتِ بدندان رہ گئے۔اس دن چین کے خلائی مرکز ’’زی چنگ‘‘ (Xichang) سے خلا کی سمت ایک بلاسٹک میزائل نے اڑان بھری۔ اس میزائل کو ’’متحرک تباہ کن گاڑی‘‘(Kinetic Kill Vehicle) کہا جاتا ہے۔ میزائل تیزی سے پرواز کرتا ہوا زمین کے مدار سے نکلا اور خلا میں زمین سے 863کلومیٹر بلندی پر، چین کے موسمیاتی سیٹلائٹ ’’فینگین
مزید پڑھیے


شام پھر خون آشام ہونے کو ہے

جمعرات 28 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
یہ شخص امریکی سفارت کار ہے اور انگریزی کے علاوہ عربی، فرانسیسی، ترکی اور جرمن زبانوں پر عبور رکھتا ہے۔ اس کیبنیادی تعلیم کا مرکز و محور، مشرقِ وسطیٰ کی سیاست، معاشرت اور معیشت رہی ہے ۔ اس نے جانز ہوپکنز (Johns Hopkins University) سے مشرقِ وسطیٰ کی معاشرت و معیشت میں ایم اے کیا اور پھرقاہرہ کی امریکی یونیورسٹی سے عربی زبان و ادب کی تعلیم حاصل کی۔ اس نے اپنی تمام سفارت کاری کی نوکری مشرقِ وسطیٰ میں گذاری۔ جب عراق میں امریکی افواج داخل ہوئیں تو یہ ازمیر، قاہرہ، الجزائر، کیمرون اور بحرین میں سفارت کا تجربہ
مزید پڑھیے


پاکستانی سیاست کا مجرمانہ مزاج اور جسٹس عظمت سعید

اتوار 24 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کی جمہوری سیاست کا خمیر دراصل اس ڈیرہ دار معاشرت سے اٹھا ہے جس میں کسی گاؤں، گوٹھ یا کِلّی کا چوہدری، وڈیرہ، خان یا ملک اپنے زیرِ سایہ افراد پر مکمل تسلط رکھتا ہے۔ لوگوں کی ضروریات اس سے وابستہ ہوتی ہیں اور ان کے مسائل کے حل کاہر راستہ اس کی دہلیز پر جانکلتا ہے۔ چند سو افراد کے چھوٹے سے گاؤں سے لے کر چند ہزار افراد کے گاؤں نما قصبے تک لوگوں کی معاشرت میں ایک شخص مرکز و محور ضرور ہوتا ہے جو ان کے جائز و ناجائز مفادات کا تحفظ کرواتا ہے۔ عمومی
مزید پڑھیے


پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے

هفته 23 جنوری 2021ء
اوریا مقبول جان
طالبان کی قید میں اسے تقریباً دو سال بیت چکے تھے۔ وہ اور اس کا ساتھی امریکی پروفیسر کیون کنگ (Kevin King) کابل یونیورسٹی سے گھر کی طرف جاتے ہوئے اغواکر لئے گئے تھے۔ اگست 2016ء میں اغوا ہونے والے اس آسٹریلوی استاد ٹموتھی ویکس (Timothy weeks) اور اس کے امریکی ساتھی کا ابتدائی طور پراخبارات اور دیگر میڈیا میں کوئی تذکرہ تک نہ کیا گیا۔ امریکی صدر باراک اوبامہ اس خبر کے افشا ہونے کو عالمی طاقتوں کے اتحاد کی ذلت اور لڑنے والے سپاہیوں کے حوصلے پست کرنے کی وجہ خیال کرتا تھا، اسی لئے اس نے ان
مزید پڑھیے








اہم خبریں