BN

اوریا مقبول جان



ریاست مدینہ: مقصد اولیٰ کیا ہے


جمہوریت اور جمہوری سیاست کا المیہ یہ ہے کہ اس کی معراج اور کامیابی کی منزل مادی خوش حالی سے زیادہ نہیں۔ دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک کی سیاسی پارٹی کے منشور کو اٹھا کر دیکھ لیں اس کے اندر دنیا میں کامیابیوں کی ایک طویل فہرست دی گئی ہوگی۔ بہت سے بلند بانگ دعوے کئے گئے ہوں گے کہ اگر ہم برسراقتدار آ گئے تو صحت، تعلیم، صاف پانی، روزگار، شاندار مواصلاتی نظام، بہترین شاہراہیں، تجارتی منڈیاں اور کاروباری سہولیات میسر کریں گے۔ یوں ہمارے برسراقتدار آنے سے خوشحالی راج کرے گی۔ امریکہ ہو یا برطانیہ، فرانس
پیر 07 جنوری 2019ء

اٹھارہویں ترمیم کی نسلی یا انتظامی اکائیاں

جمعه 04 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
ہمیں گزشتہ ستر سال سے معاشرتی علوم کی درسی کتابوں‘ سیکولر ‘ لبرل اور ترقی پسند دانشوروں کی مرتب کردہ تاریخوں سے یہ سب پڑھایا جاتا رہا ہے کہ پاکستان دراصل پانچ اکائیوں‘ بنگال‘ سندھ‘ پنجاب‘ اس دور کا برٹش بلوچستان اور اس دور کے شمال مغربی سرحدی صوبے نے مل کر بنایا ہے۔ یہ تاثر گزشتہ ستر سالوں میں اس لئے لوگوں کے ذہن میں کوٹ کوٹ کر بھرا گیا کہ کہیں پاکستان میں بسنے والے تحریک پاکستان کی اصل روح یعنی مسلمان ایک قوم یا ایک امت کو بھولے سے بھی یاد نہ کرلیں۔ کیا یہ پانچوں اکائیاں
مزید پڑھیے


سال نو کا پہلا مجرم

بدھ 02 جنوری 2019ء
اوریا مقبول جان
سال نو کی خوش بختی اور خوش نصیبی ہے کہ 2019ء کا آغاز میرے ٹیلی ویژن پروگرام ’’حرف راز‘‘ پر پابندی سے ہوا۔ ایک آگ جو مدت سے سلگ رہی تھی شعلہ بن کر بھڑک اٹھی۔ یہ چنگاری گزشتہ ڈیڑھ سال سے سلگ رہی تھی۔ عین اس دن سے جب سات ستمبر 2017ء کو میں نے پاکستان کی دوسری آئینی ترمیم والے دن‘ اس ترمیم کی یاد میں پروگرام کیا۔ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کی بنیاد‘ رنگ‘ نسل‘ زبان اور علاقے پر نہیں‘ مذہب یعنی اسلام پر رکھی گئی ہے۔ جس طرح ہر ملک اپنی وجۂ تخلیق
مزید پڑھیے


عالمی سودی اسٹیبلشمنٹ اور قرضوں کا جال(2)

پیر 31 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
قرضہ دینے والے امیر ممالک جو زیادہ تر شمال میں واقع ہیں اور ایک استحصالی سودی نظام کی لڑی میں پروئے ہوئے ہیں‘ عالمی سطح پر ایک ملک یا بہت بڑی کمپنی کی طرح کام کرتے ہیں اور قرضہ لینے والے غریب ممالک کو بھی وہ ایک ہی مقروض ملک یا زیر بار کمپنی کی طرح لیتے ہیں۔ ان کی صورت ایک خون چوسنے والے ساھوکار جیسی ہے جس کی مٹھی میں ایک کمزور مقروض کی گردن آ چکی ہو۔ ساٹھ کی دہائی کے ٹھیک بیس سال بعد جب ان قرضہ دینے والے ممالک کو اندازہ ہوا کہ اب دنیا
مزید پڑھیے


عالمی سودی اسٹیبلشمنٹ اور قرضوں کا جال:1

جمعه 28 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
اتنی معاشیات تو ایک مزدور بھی جانتا ہے کہ اگر اس کی ماہانہ آمدنی پندرہ ہزار روپے ہے تو وہ اپنے گھر کی ضروریات اس آمدن تک محدود کر دے گا‘ اپنا بجٹ انتہائی کفایت شعاری اور محنت سے بنائے گا۔ اس کی اس کفایت شعاری اور آمدن تک خود کو باندھ کر رکھنے کی تگ و دو میں اس کی بیوی اور بچے برابر کے شریک ہوں گے۔ اگر کبھی فوری ضرورت آن پڑے‘ کسی شادی‘ بیماری یا تعلیم کے لئے بجٹ سے زیادہ سرمایہ کی ضرورت ہو تو خاندان کا سربراہ انتہائی سوچ بچار کے بعد اتنا ہی
مزید پڑھیے




میرے وطن کی سیاست کا حال مت پوچھو

بدھ 26 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
24 دسمبر 2018ء سے زیادہ تکلیف دہ دن میں نے اپنی بقائمی ہوش و حواس والی تقریباً ساٹھ سالہ زندگی میں نہیں دیکھا۔ پاکستان کی سیاست پر قابض دو سیاسی خاندانوں کی بددیانتی، کرپشن، لوٹ مار کی داستانیں اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہی تھیں۔ صبح آصف زرداری اور بھٹو خاندان کی کرپشن کی ہوشربا کہانی منظر عام پر آئی اور شام ہونے سے پہلے پہلے نوازشریف کو ایک ایسی فیکٹری کے مالک ہونے کی وجہ سے سزا سنا دی گئی جس کے بارے میں وہ عدالت کو ایک لفظ بھی نہ بتا سکے کہ اس فیکٹری کو بنانے کے
مزید پڑھیے


ابصار عبدالعلی اور میرا نا سٹیلجیا

پیر 24 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
یہ ریڈیو پاکستان ہے، اب آپ ابصار عبدالعلی سے خبریں سنیے۔ میرے بچپن کی ایک مانوس آواز جسے ادا کرنے والا منوں مٹی تلے جا سویا لیکن یہ آواز آج بھی کانوں میں گونج رہی ہے۔ آدمی زندگی بھر اپنے ماضی کے تعاقب میں رہتا ہے۔ برا ہویا بھلا، عمر کے ایک حصے میں اس کی ساری تلخ و شیریں یادیں سب کی سب حسین ہو جاتی ہیں۔ اسی کو انگریزی کے ایک خوبصورت لفظ ’’ناسٹیلجیا‘‘ میں سمو دیا گیا ہے۔ اس لفظ میں جس طرح ماضی کی کشش کو سمویا ہے، اسے اردو زبان کا جزو ہونے کا اتنا
مزید پڑھیے


بھارت کی افغانستان اور ایران دوستی کے مقاصد اور انجام…(2)

جمعه 21 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
پاکستان کے خلاف افغانستان میں اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے بھارت کا راستہ ایران سے ہو کر جاتا ہے۔ افغانستان اور بھارت کے درمیان پاکستان حائل ہے جس کے وجود سے نفرت پر اس بھارتی سیاسی گروہ کا نعرہ ہے جو اقتدار پر قابض ہونا چاہتا ہے۔ بھارت کے اقتدار کا راستہ پاکستان سے دشمنی‘ مسلمانوں سے نفرت اور عظیم اکھنڈ ہندو توا کی پگڈنڈیوں سے ہو کر جاتا ہے۔ چانکیہ کے اصولوں پر مرتب کردہ بھارتی خارجہ پالیسی اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ دشمن کے پڑوسی ملک سے دوستانہ تعلقات استوار کرو۔ جب تک ایران میں
مزید پڑھیے


بھارت کی افغانستان اور ایران دوستی کے مقاصد اور انجام… (1)

بدھ 19 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
دیومالائی کہانیوں اور قصوں کی غیرمستند تاریخ کے مقابل میں ہندوستان کی تاریخ کا کھوج لگائیں تو اتنی بڑی سرزمین پر لاتعداد راجے اپنی اپنی علیحدہ سلطنتوں پر آزادانہ طور پر حکمران تھے اور کسی ایک متحدہ ہندوستان کا سراغ نہیں ملتا۔ شمالی ہندوستان جو بنگال کی سرحدوں سے پنجاب کی سرحدوں تک پھیلا ہوا ہے اس حصے پر پہلا حکمران چندرگپت موریہ تھا جو لاتعداد راجواڑوں کے اتحاد پر شامل ایک حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ 340 قبل مسیح میں پیدا ہونے والا چندر گپت 322 قبل مسیح سے 298 قبل مسیح تک چوبیس سال حکمران رہا۔ آج
مزید پڑھیے


مسلمانوں کی کثرت کا خوف

پیر 17 دسمبر 2018ء
اوریا مقبول جان
جس دن سے رنگ‘ نسل ‘ زبان اور علاقے کی بنیاد پر قومی ریاستوں کو عالمی سطح پر قانونی حیثیت عطا کی گئی ہے‘ اسلام تو دور کی بات ہے‘ عیسائیت کا ذکر بھی کسی قومی سلطنت کے نام سے خارج کر دیا گیا۔ وہ جو کبھی تاریخ کی کتابوں میں مسیحی یورپ کہلاتا تھا اب فقط یورپ رہ گیا ہے اور اس کی عظیم رومن سلطنت سے بکھرنے والے ممالک فرانس‘ جرمنی‘ انگلینڈ‘ بلجیم یا تو اپنے علاقوں سے پہچانے جانے لگے یا پھر نسلی حوالے سے انہیں پکارا جاتا تھا۔ دنیا بھر میں جتنے سروے ہوئے‘ تحقیقاتی رپورٹیں
مزید پڑھیے