BN

اوریا مقبول جان


دیارِ مغرب ’’میں‘‘ رہنے والو


جیسے جیسے وہ وقت قریب آتا جا رہا ہے کہ جب سید الانبیاء ﷺ کی احادیث کے مطابق پوری دنیا ایک بڑی اور آخری جنگ کی لپیٹ میں آجائے گی، سب سے زیادہ فکر و تردّداور پریشانی ان مسلمانوں کے بارے میں لاحق ہوتی ہے جو یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا کے براعظموں کے ایسے ممالک میں رہائش پذیر ہیں، جنہیں اسلامی تعلیمات کی کسی بھی توجیہہ کے تحت ’’دارالسلام‘‘ نہیں کہا جاسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان ممالک کو ہمارے مسلمان فقیہہ کھلم کھلا ’’دارالکفر‘‘ بھی کہنے سے ہچکچاتے رہے ہیں، لیکن کسی بھی فقیہہ سے اگر فتویٰ
جمعرات 10 جون 2021ء مزید پڑھیے

سڑیٹیجک گہرائی کے دشمن

اتوار 06 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
جیسے جیسے افغانستان میں ذلّت آمیز شکست کے بعد امریکی افواج کے مکمل انخلاء کے دن قریب آرہے ہیں، بہت سے لوگوں کے شکموں میں طرح طرح کے مروڑ اٹھنا شروع ہوگئیہیں۔ شکست تو امریکہ اور اسکے حواریوں کی ہوئی ہے لیکن ماتمی چہرے آپ کو زیادہ تر پاکستان اور ہندوستان میں ملیں گے۔ بنارس کے گھاٹوں، کاشی وشوا ناتھ کے مندروں اور ناگ پور کے راشٹریہ سیوک سنگھ کے ٹریننگ سینٹروں میں یہ ماتم اپنی دو سو ساٹھ سالہ (260) پرانی تاریخ رکھتا ہے۔14جنوری 1761ء کا پانی پت کسے یاد نہیں۔ہندوستان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کبھی بھی
مزید پڑھیے


افغانستان اور ٹیکنالوجی پرست ’’مشرکینِ جدید‘‘

هفته 05 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
وہ جن کے دلوں میں ٹیکنالوجی کے حیران کن اور کرشماتی طاقتوں والے ’’ بت‘‘ کا شرک جڑیں پکڑ چکا تھا، گذشتہ بیس سالوں سے وہ مغرب کی سمت سے طلوع ہونے والے اس سورج اور افغانستان کی سرزمین پر اس کی یلغار کی شان میں تسبیح کرتے، قصیدے گاتے اور اس کی چوکھٹ پر اپنی جبینِ نیازجھکاتے رہے تھے۔ لیکن آجکل ان ’’مشرکینِ جدید ‘‘ کی حالت دیدنی ہے۔ یوں تو گذشتہ دو سالوں سے یہ اپنے ’’عظیم‘‘ اور ’’محیّر العقول‘‘ٹیکنالوجی کے بت کی افغانستان میں ٹوٹی ہوئی کرچیاں چن رہے تھے اور ان کی سمجھ نہیں آرہی تھی
مزید پڑھیے


آنسوؤں کی راہگذر

جمعه 04 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
یہ تو ابھی کل کی بات ہے۔ صرف دو صدیاں قبل جب ابھی تک مسلم دنیا تہذیب و تمدن، علم و عرفان اور خوشحالی کی علامت سمجھی جاتی تھی، خلافتِ عثمانیہ کا استنبول، شاہانِ ایران کا اصفہان اور برصغیرپاک و ہند کا دلّی و لاہور ایسے مراکز تھے جن کی جانب دنیا بھر کے سیاح سفر کرنے کے خواب دیکھا کرتے تھے۔لاہور کے شاہی قلعے میں یورپ کے مصوروں کی پینٹنگز کی ایک بہت بڑی تعداد ’’پرنسز بمبا کا مجموعہ‘‘ (Princess Bamba Collection)کے نام سے موجود ہے۔ یہ ،یورپ کے ان مصوروں کی تصاویر ہیں جو ہندوستان کا سفر اس
مزید پڑھیے


زمینی پیغمبروں کا زوال

جمعرات 03 جون 2021ء
اوریا مقبول جان
کیا کسی کے کانوں اور آنکھوں کویقین آئے گا کہ چین جس کی آبادی ایک ارب چوالیس کروڑ ہے اور جو آبادی کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے وہ پکار اٹھا ہے کہ اگر ہم نے آئندہ اپنی آبادی میں اضافہ نہ کیا تو ہم ایک معاشی، معاشرتی، سیاسی اور عسکری قوت کے طور پر دنیا کے نقشے سے مٹ جائیں گے۔ آج سے صرف دو دہائی قبل جب یورپ کے ممالک میں آبادی پر کنٹرول کے خطرناک اور تباہ کن نتائج سامنے آنے لگے تو مشہور میگزین ’’اکانومسٹ‘‘(Economist)نے تین درجن صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی
مزید پڑھیے



قومی یہودی فنڈ سے’’ایلاد‘‘ تک…(آخری قسط)

اتوار 30 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
یروشلم شہر میںیہودیوں کی دو ہزار سال بعد واپس آباد کاری کے پیچھے جہاں گزشتہ ڈیڑھ سو سال کی صہیونی تحریک اور عالمی طاقتوں کی پشت پناہی ہے وہیں دنیا بھر کو اس جگہ کی اہمیت اور حیثیت سے آگاہ کرنے اور اسے ایک عالمی ورثہ قرار دلوانے کے لئے آثار قدیمہ کے تحفظ کا نعرہ ایسا خوش کن تصور ہے کہ ہر کوئی ماضی کی کھوج اور اس کی بھول بھلیوں میں کھو جاتا ہے۔وہ ظالموں‘ قاتلوں اور حیوان صفت انسانوں کی تباہ حال بستیوں کو انسانی ورثے کے احترام کے طور پر دیکھتا ہے۔’’ایلاد‘‘کا قیام بنیادی طور پر
مزید پڑھیے


قومی یہودی فنڈ سے ’’ایلاد‘‘ تک……( 2)

هفته 29 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
قومی یہودی فنڈ اس وقت مذہبی شدت پسندی، مذہبی منافرت اور غیرقانونی آبادکاری جیسے لاتعداد عالمی سطح کے جرائم میں ملوث ہونے کے باوجوداپنے مقاصد کے حصول کے لیے گذشتہ 120 سال سے کام کررہا ہے اور اس وقت دنیا کی تمام رفاحی (Charity)تنظیموں میں مرتبہ و مقام کے اعتبار سے ’’چار ستاروں‘‘ (Four Star)والا ہے۔ یعنی اس فنڈ نے عالمی حکومتوں،عالمی تنظیموں،انسانی حقوق کی انجمنوں سے چار ستاروں میں سے چاروں والی ریٹنگ (Rating) حاصل کر رکھی ہے۔یہ بظاہر ایک ’’رجسٹرڈ خیراتی فنڈ‘‘ہے جسے سرمایہ صرف یہودی سرمایہ دار ہی فراہم نہیں کرتے،بلکہ دنیا کی تین بڑی حکومتیں
مزید پڑھیے


قومی یہودی فنڈ سے ’’ایلاد‘‘ تک

جمعه 28 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
سوئٹزرلینڈ کے بیسل شہر میں 1897ء کے ایک دن دنیا بھر کے تمام یہودی خفیہ طور پر اکٹھے ہوئے۔ اس اجتماع کو آج کی دنیا، صیہونیت کی پہلی عالمی کانفرنس کے طور پر بخوبی جانتی ہے۔ مدتوں یہ تنظیم، اس کے مقاصد، ممبران کی تعداد اور وسائل خفیہ رہے۔ یورپی اور امریکی حکمرانوں میں بھی صرف وہی چند افراد باخبر تھے ،جو اس عالمی سازش میں شریک تھے۔ اس پہلی کانفرنس میں ہائیڈل برگ یونیورسٹی میں حساب (Mathematics) کا پروفیسر ہیرمن ہیرسش شیپرا (Hermenn Hirsch Sehapira)بھی موجود تھا۔ یہ لتھووینیا کا ایک یہودی ربائی تھا جو عبرانی زبان اور ادب
مزید پڑھیے


یہ 2021ء ہے 2001ء نہیں

جمعرات 27 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
شاہ محمود قریشی کے لہجے میں یہ کھنک، یہ جرأت کس نے بخشی کہ وہ پاکستان کی سینٹ میں کھڑے ہو کر ببانگِ دہل یہ کہے کہ اب اس سرزمین پر کوئی امریکی اڈہ نہیں دیا جائے گا۔ کیا پاکستان کا کوئی وزیر خارجہ گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد سے لے کر آج تک یہ لہجہ اختیار کر سکتا تھا۔ گذشتہ بیس سال گنگ زبانوں اور مصلحت کوش لہجوں کے گواہ ہیں۔یہ سب ان مردانِ حّرکی قربانیوں اور جہاد کی دولت کے امین طالبان کی مسلسل جدوجہد، جنگ اور جہاد کا نتیجہ ہے کہ آج ہمارے لیڈروں کو بھی ایسی
مزید پڑھیے


اصل قاتل کون؟ (آخری قسط)

اتوار 23 مئی 2021ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھرمیں یہودی ابھی تک معتوب ہی سمجھے جاتے تھے ،مگر وہ آسٹریا کے مشہور صحافی، ڈرامہ نگاراور سرگرم سیاسی رہنماتھیوڈر ہزال کی (Theodor Herzal) کی سربراہی میں خفیہ طور پر منظم ہو چکے تھے۔ ہزال نے 1897ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر بیسل (Basel)میں صیہونیت کی عالمی کانگریس بلائی تھی۔ اس وقت اس کا نام اور مقام تک خفیہ رکھا گیا تھا ۔ یہودیوں نے اسی کانگریس میںپوری دنیا کے معاشی اور سیاسی اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ’’پروٹوکولز‘‘ تحریر کئے تھے۔یہ پروٹوکولز صیہونیت کی اگلے سو سال کے لیے حکمت عملی تھی، جسے انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا۔
مزید پڑھیے








اہم خبریں