BN

اوریا مقبول جان


مخلوط معاشرہ: کیا بنیادی انسانی حق ہے؟


جنگ عظیم اوّل و دوم کی تباہ کاریوں کی کوکھ سے جنم لینے والی دنیا میں جہاں فاتح اتحادی قوتوں نے پوری دنیا پر ایسا ایک خاص مالیاتی نظام زبردستی ٹھونسا، جو مصنوعی کاغذی کرنسی، سود، بینکاری اور دیگر خصوصیات رکھتا ہے، وہیں اس مالیاتی نظام کے تحفظ کیلئے ایک نئے سیاسی جمہوری ، سیکولر، لبرل معاشرے کو بھی انسانی تہذیب و تمدن کا معیار قرار دے دیا گیا ہے۔ کہا گیا کہ یہ ایک ایسا سیاسی نظام ہے جو جمہوریت اور انسانی حقوق کی پاسداری کرتا ہو اور سب سے اہم یہ کہ اس نظام میں عورت کے حقوق
جمعه 08 اکتوبر 2021ء مزید پڑھیے

مخلوط معاشرہ: کیا بنیادی انسانی حق ہے؟

جمعرات 07 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
افغانستان میں طالبان کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد سے یہ بحث ایک دفعہ پھر زندہ ہوگئی ہے کہ کیا عورت، مردوں سے معاشرتی سطح پر علیحدہ رہ کر ترقی کر سکتی ہے یا نہیں۔ یوں تو انسانی معاشرہ اپنی ہیتِ ترکیبی کے اعتبار سے ایک مخلوط معاشرہ ہی ہے کیونکہ اس کے بغیر تو افزائش ِنسل کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا۔ نہ صرف انسانی معاشرہ بلکہ اس کے اردگر گرد آباد چرند و پرند اور حیوانات کی دنیا کی بنیاد بھی جسمانی اختلاط ، نسلوں کی پرورش، تربیت اور دیکھ بھال پر ہی رکھی گئی ہے۔ تمام
مزید پڑھیے


عام معافی کے فوائد

اتوار 03 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
میں نے، مارچ 1980ء سے لے کر اگست 2004ء تک، چوبیس سال کا عرصہ ایک ایسے بلوچستان میں گزارا ہے،جو اپنے زمانے میں پاکستان کا سب سے پر امن اور پر سکون خطہ تھا۔ یہ بلوچستان کے شدت پسند گروہوں کی ذوالفقار علی بھٹو کے آرمی ایکشن کے بعد ضیاء الحق کی عام معافی کے اعلان کے بعد کا دَور تھا۔اس امن اور سکون کا شاہد صرف اکیلا میں ہی نہیں، بلکہ وہ لاکھوں لوگ ہیں جو وہاں رہتے، کاروبار کرتے، دُور دراز سُنسان علاقوں میں موجود سیاحتی مقامات دیکھنے جاتے اور حسین یادیں لیکر لوٹتے۔ میں نے 18 مارچ
مزید پڑھیے


بھارت یا افغانستان

هفته 02 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
دہشت گردی کے خلاف جنگ جس کا آغاز گیارہ ستمبر 2001ء کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے سے ہوا، اسے آناً فاناً ایک عالمی جنگ میں تبدیل کر دیا گیا۔دوعمارتوں کا گرنا اور چند ہزار لوگوں کا مرنا اس قدر بڑا جرم بنا دیا گیا،جس کی پاداش میں ایک نہتے اور بے سروسامان ملک افغانستان پر چڑھ دوڑنے کا لائسنس اس اقوامِ متحدہ نے دیا جس کا قیام اس لئے ہوا تھا کہ وہ امن کی ضمانتیں حاصل کرے اور جنگوں کو روکے۔ پاکستان کو پڑوس میں ہونے کی وجہ سے ایک بار بہت زیادہ اہمیت مل گئی۔کچھ ہمیں بھی
مزید پڑھیے


بھارت یا افغانستان

جمعه 01 اکتوبر 2021ء
اوریا مقبول جان
پاکستان اب ایک ایسے دوراہے پر آ کر کھڑا ہو چکا ہے، کہ اس کے پاس فیصلہ کرنے کو چند ماہ باقی ہیں۔ یہ چند ماہ،چند لمحوں میں بھی اچانک بدل سکتے ہیں۔ اس لئے کہ پاکستان کے اردگرد جو جال بُنا جا رہا ہے، اس کے شکاری کبھی بھی، اور کچھ بھی فیصلہ کر سکتے ہیں کہ اس ’’پرندے‘‘ کو پکڑ کر اس کے پَر کاٹنے کا بہترین وقت کب ہے۔ جال تو قیامِ پاکستان کے فوراً بعد ہی پھیلا دیا گیا تھا، جب امریکہ کی سڑکوں پر 3 مئی 1950 کو لیاقت علی خان کے شاندار استقبال نے
مزید پڑھیے



بزدلی سے بڑھ کر کوئی عار نہیں

جمعرات 30  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
جس دن پاکستان کے فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے طالبان کے خلاف امریکہ کا ساتھ دینے کا اعلان کیا تھا، اس اعلان کے فوراً بعد بھی پاکستان کے گلے میں نہ عزت و توقیر کا ہار پہنایا گیا اور نہ ہی دوستی کے عارضی مقام و مرتبے پر ہی ہمیں فائز کیا گیا۔ بلکہ وہ تاریخی فقرہ جو امریکی سی آئی اے کے سربراہ جارج ٹیننٹ (George Tenet)نے پاکستان کے اس مکمل طور پر سرنگوں ہو کر تمام امریکی مطالبات ماننے پر کہا تھا، وہ آج بھی اور بعد میں آنے والی تاریخی دستاویزات میں بھی مشرف کی خوفزدگی اور
مزید پڑھیے


ایران اورافغان اسلامی انقلابات:جوہری فرق (آخری قسط)

اتوار 26  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
ایرانی معاشرے اور افغان معاشرے میں اس قدر جوہری فرق ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضد نظر آتے ہیں۔ ایرانی طرزِ زندگی تکلفات،زبان و بیان کی دلآویزیوں اور خوشامد و چاپلوسی سے بھر پور ہے۔ آپ اگر کسی ایرانی سے ملاقات کریں تو وہ پہلے چند فقرے آپ کی تعریف و توصیف میں بولے گا،جن کے بارے میں ایرانی خود کہتے ہیں کہ ہمارے یہ فقرے بس رسماً ہیں، ان پر یقین مت کریں۔آپ نے کسی دکاندار سے سودا لینے کے بعد اسے پیسے دیئے تو وہ پیسے پکڑ کر آپ کو واپس کرتے ہوئے کہے گا ’’قابل نہ
مزید پڑھیے


ایران اور افغان اسلامی انقلابات:جوہری فرق ……( قسط 2 )

هفته 25  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
آیت اللہ خمینی کی قیادت میں جو ایرانی انقلاب آیا تھا،اس کی اساس دراصل شاہِ ایران کے ظلم و ستم سے نجات اور امریکی بالادستی کے خاتمہ پر رکھی گئی تھی۔ اسی لئے یہ تحریک وسیع البنیاد تھی۔ شدت پسند علمائے کرام بھی اس میں شامل تھے اور کٹر ملحد، بے دین اور سیکولر بھی۔ شاہِ ایران کی خفیہ ایجنسی ’’ساواک‘‘ بیک وقت دو طرح کے لوگوں کو گرفتار کر کے اذیت خانوں میں لے جاتی، ایک وہ نوجوان جس نے اچانک داڑھی رکھ لی ہوتی اور وہ بار بار حُسینیاں (امام بارگاہ) یا مصلیٰ(مسجد) کے چکر لگاتا ہوا نظر
مزید پڑھیے


ایران اور افغان اسلامی انقلابات: جوہری فرق

جمعه 24  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
گذشتہ پینتالیس سال سے ایران اور افغانستان کا خطہ انقلابات کی زد میں ہے۔ ان انقلابات کے پسِ پردہ محرکات دراصل امریکہ اور سوویت یونین کی علاقائی کشمکش اور ’’سوشلزم‘‘ اور ’’کیپٹلزم‘‘ کی نظریاتی جنگ کا تار پود تھے۔ افغانستان میں 1973ء میں جب سردار دائود نے ظاہر شاہر کا تختہ اُلٹ کر اس ملک کو ’’بادشاہت‘‘ سے ’’جمہوریہ‘‘ میں بدلا تو اس وقت ایران پر شاہ رضا شاہ پہلوی کا اقتدار بہت مضبوط تھا۔ اس قدر مضبوط کہ بلوچ سردار آج بھی یہ الزام لگاتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو نے بلوچستان میں آرمی ایکشن دراصل شاہِ ایران کی
مزید پڑھیے


طالبان کا ’’شعبِ ابی طالب‘‘

جمعرات 23  ستمبر 2021ء
اوریا مقبول جان
ابتدائے آفرینش سے لے کر آج تک انسانوں نے اپنے مدِمقابل کو شکست دینے کیلئے تین محاذوں پر جنگ کی ہے۔ عسکری، معاشی اور معاشرتی۔ عموماً جنگوں یا دُشمنیوں کا آغاز ایک دوسرے کو معاشی طور پر نقصان پہنچانے سے کیا جاتا تھا۔ اس کیلئے ہر وہ حربہ استعمال کیا جاتا جس کے نتیجے میں دُشمن کوڑی کوڑی کا محتاج ہو جائے۔ کھڑی فصلوں کو آگ لگانے، قافلے لوٹنے اور دُکانیں جلانے سے بھی گریز نہ کیا جاتا تھا۔ تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ آلو کی کاشت کا رواج دراصل جنگوں میں فصلوں کو اُجڑنے سے بچانے کیلئے
مزید پڑھیے








اہم خبریں