BN

اوریا مقبول جان


ہندوپاک کے ’’ناریل‘‘ اور ان کے آبا و اجداد


انگریز جب اس برصغیر پاک و ہند کو چھوڑ کر گیا تو اس نے اپنے پیچھے تین گروہ ایسے چھوڑے جن کے دلوں میںتاجِ برطانیہ کی وفاداری، اس کی ثقافت سے عشق اور سیکولر نظامِ سیاست و معاشرت پیوست ہو چکا تھا۔ ان تینوں طبقات کو بڑی محنت سے منظم کیا گیا اور بڑی جانفشانی سے ان کے خیالات و افکار اور رہنے سہنے کے اطوار کو جدید سیکولر تہذیب کے رنگ میں رنگا گیا تھا۔ ان تینوں طبقات کی تخلیق پر انگریز آج بھی فخر کرتا ہے اور ان کی وفاداریوں پر ناز کرتا ہے۔ ان لوگوں کی ماہیتِ
اتوار 21 جون 2020ء

تخلیق پاکستان: عمرانی معاہدہ نہیں نظریاتی ملک

هفته 20 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
تخلیقِ پاکستان کی کہانی بیان کرتے ہوئے گذشتہ سات دہائیوں سے ہم بظاہر ایک بے ضرر اور سادہ سا فقرہ سنتے چلے آرہے ہیںاور یہ فقرہ بولنے والے یا تو سادہ لوح پاکستانی ہیں یا پھروہ عیاّر سیکولر قوم پرست ہیں جنہوں نے اساسِ پاکستان اور نظریۂ پاکستان ’’اسلام‘‘ سے بغض و عناد اور دشمنی کی وجہ سے اس جملے کو بار بار دہرایا اور اس فقرے میں چھپی ہوئی قوم پرستی کی مدتوں نشوونما کی۔ فقرہ در اصل اس وقت دنیا میں موجود قومی ریاستوں کی تخلیق کے بنیادی اصول کو بیان کرتا ہے، اس لئے لوگوں کو اس
مزید پڑھیے


دے مجھے اذنِ مسیحائی دے

جمعه 19 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
گجرات شہر کا فوارہ چوک کتنی یادوں کا امین ہے۔ ایک جانب اپنے زمانے کی خوبرو خاتون رام پیاری کا محل ہے کہ جس کے حسن کا پورے شہر میں چرچا تھا۔دوسری جانب اپنے زمانے کے مشہور تاجر، کیدارناتھ کی دلکش حویلی۔ رام پیاری کے حسن کا شہرہ سن کر گجرات آیا، محل کے سامنے ڈیرہ لگا یا، زمین خریدی اور شاندار محل تعمیر کروایا۔ ابھی وہاں بسنے کی آرزو دل میں ہی تھی کہ ٹھیکیداری کے سلسلے میں کوئٹہ گیا اور 1935 ء کے زلزلے میں سورگباش ہو گیا۔ پاکستان بنا، رام پیاری نے سامان سمیٹا اور سنگِ مرمر
مزید پڑھیے


کیا اللہ ہم سے ناراض ہے

جمعرات 18 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
اللہ نے کسی ایرانی، شامی، سعودی یا پاکستانی سے مدد اور نصرت کا وعدہ نہیں کیا، بلکہ ان سے کیا ہے جو اس کی مدد کرتے ہیں فرمایا، ’’اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا‘‘(محمد:8)۔ جو اللہ کے دین میں اس کی مدد نہیں کرتے، رسوائی ان کا مقدر ہو جاتی ہے اور وہ جس دنیا کی طلب میں مرے جارہے ہوتے ہیں وہ بھی کئی دفعہ ان کے ہاتھ نہیں آتی۔ یہ ہے وہ افتاد ہے جو بحیثیت مجموعی آج قوموں پر ٹوٹی ہوئی ہے۔ ایسی قوموں کی نشانی یہ ہے کہ ان
مزید پڑھیے


لیاقت علی خان سے حفیظ شیخ تک

اتوار 14 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
زوال و پستی کی المناک داستان ہے، نا اہلی کی طرف بڑھنے کی کہانی ہے۔ ایک ایسی خوفناک روداد جس کے ایک ایک ورق پر میرے ملک کے سادہ لوح، محنتی، ذہین اور وطن سے محبت کرنے والے عوام کے مستقبل سے اربابِ اقتدار کے کھیلنے کے مناظر نظر آتے ہیں۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد جب برطانوی آقائوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ انہوں نے ہندوستان چھوڑنا ہے تو گیارہ صوبوں میں موجود اسمبلیوں کے ارکان کے ووٹوں سے ایک آئین ساز اسمبلی منتخب کی گئی، جس میں جمہوری اصولوں کے مطابق ہندو ووٹوں کی اکثریت کے بل
مزید پڑھیے



سالانہ بجٹ اور خوئے غلامی

هفته 13 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
یہ میلہ ہر سال لگتا ہے، عین گرمی کے موسم میں، حدّتِ آفتاب سے بچنے کے لئیے اسمبلیوں کے یخ بستہ ماحول میںگرماگرم بحثیں ہوتی ہیں، لوگوں کا مستقبل بدلنے کے دعوے کئیے جاتے ہیں اور ان دعوئوں کی قلعی کھولنے والے بھی اسی ایوان میں دھواں دار گفتگو کرتے ہیں۔ میزوں پر ممبرانِ اسمبلی کے سامنے کئی کلو گرام وزنی بجٹ دستاویزات، ایک خوبصورت ربن میں باندھ کر رکھی ہوتی ہیں۔ کبھی کبھی یہ دستاویزات پھاڑ کر احتجاجا ً ہوا میں لہرانے کے کام آتی ہیں، ورنہ عمومی طور پر پورے سیشن میں اکثرممبران کی میزوں پر پڑی دستاویزات
مزید پڑھیے


دنیا: خاتمے کے قریب یا نئے دور کا آغاز

جمعه 12 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
دنیا بھر کے مفکرین، دانشور، معیشت دان اور اہلِ دانش اس سال، یعنی 2020ء کے آغاز سے ہی حیرت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ وہ جس کورونا وائرس کو گذشتہ صدی میں پھیلنے والی دیگر وبائوں، ایڈز، ایبولا، کانگو، سارس، برڈفلو اور سوائن فلو جیسی کوئی وبا تصور کر رہے تھے، یہ ان سے بالکل مختلف نکلی اور اس کی وسعت نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ وبائوں کے بارے میں سائنس دانوں کا عمومی تجزیہ یہ ہوتا ہے کہ یہ مخصوص علاقوںسے شروع ہوتی ہیں اورجیسے ہی محدود علاقوں میں پھیلتی ہیں، ان کووہیں روکا جا سکتا ہے۔
مزید پڑھیے


اُلٹی ہو گئیں سب تدبیریں

جمعرات 11 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
جس ملک میں روزانہ لاتعداد لوگ موٹر سائیکل سے گر کر مرتے ہوں یا دماغی چوٹ کی وجہ سے عمر بھر کے لیے معذور ہو جاتے ہوں، لیکن حکومتی احکامات، چالان کے خوف اور پکڑے جانے کے ڈر کے باوجودبھی ہیلمٹ نہ پہنیں اور جس ملک کے صحافی، اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلوں پریہ دور کی کوڑی لے کر آئیں کہ ہیلمٹ کے قانون پر اس لیے سختی کروائی جارہی ہے، تاکہ ہیلمٹ بنانے والے فیکٹری مالکان کوفائدہ پہنچاکر ان سے کمیشن وصول کیا جا سکے۔ روازنہ اموات اور معذوری اپنی آنکھوں سے دیکھنے والی یہ قوم بلاتمیزِ امیروغریب احتیاط
مزید پڑھیے


جمہوری طرزِحکومت اور اوسط درجہ سیاسی رہنما

اتوار 07 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
اگرتمام کاروبار ِزندگی، جمہوری اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے اورفیصلہ سازی میں سب کی شمولیت اور اکثریت کی رائے کے نفاذ پر چلایاجانے لگے ،تو تمام شعبہ ہائے زندگی چند دنوں میں ٹھپ ہو کر رہ جائیں۔ ہسپتال کے انتظام، مریضوں کی دیکھ بھال اورعلاج تک کے فیصلوں میں اگر دروازے کے چوکیدار، ڈسپنسر، نرس، ڈاکٹرزاور ماہرپروفیسرحضرات کو یکساں ووٹ اور یکساں رائے دہندگی کے ساتھ شریک کر لیا جائے تو عین ممکن ہے کہ اکثر مریض ہسپتالوں کی راہداریوں میں سسکتے ہوئے دم توڑدیں۔ایک عمومی جمہوری تصور میں، چوکیدار سے لے کر ماہر پروفیسر تک سب کے سب ہسپتال
مزید پڑھیے


مرکزِملتِ اسلامیہ ۔ افغان سرزمین

هفته 06 جون 2020ء
اوریا مقبول جان
مرشدی، سیدّی علامہ محمد اقبال کی لوحِ مزار پر جو اشعار کندہ ہیںوہ امتِ مسلمہ کے قرآنی تصور اور سیدالانبیاء ﷺ کی تعلیمات کی روشنی سے عبارت ہیں۔ اقبال کے سارے کلام اور پیغام کا نچوڑ یہ اشعار ہیں۔یہ لوحِ مزار سنگِ لاجورد میں افغانستان کے امیر کی طرف سے اقبال کے حضور نذرانہ عقیدت ہے۔ نہ افغانیم و نے ترک و تتاریم چمن زادیم و ازیک شاخساریم تمیزِ رنگ و بو بر ما حرام است کہ ماپروردۂ یکِ نو بہاریم ترجمہ: ’’نہ ہم افغان ہیں، نہ ترک اور نہ تاتاری۔ ہم چمن زاد(یعنی ایک اُمت کا حصہ ہیں) اور ایک ہی شاخ سے ہیں۔
مزید پڑھیے