BN

سجاد میر



جمہوریت بڑے کام کی چیز ہے…


آخر وہ ہمارے حکمران رہے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ سلطنت برطانیہ میں سورج کبھی غروب نہیں ہوتا تھا۔ ہم نے ان کی آن بان دیکھی ہے۔ مہذب دنیا کی بہت سی اقدار اور انسانی ترقی کی ابتدا کا سفر بھی اسی سرزمین سے وابستہ تھا۔ سب سے بڑی قدر جمہوریت سے اور برطانیہ کو آج بھی جمہوریت کی ماں کہا جاتا ہے۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ برطانیہ نے جمہوریت کی خاطر بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اس نے ہٹلر سے ٹکڑا کر خود اپنے وجود کو خطرے میں ڈال دیا اور یہ سب
بدھ 06 نومبر 2019ء

تاریخ کا پہیہ

پیر 04 نومبر 2019ء
سجاد میر
مرے ذہن میں یہ سوال کھد بد کر رہا ہے کہ یہ جو دھرنا ورنا ہے یہ درست ہے یا غلط۔ سچ پوچھئے تو اب تک کی جو سرگرمی تھی‘ میں نے بھی اس کا خوب مزہ اٹھایا ہے۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ کی سیاسی بے بسی کا نظارہ بھی کیا ہے اور حکمرانوں کو تلملاتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ حکومت نے سمجھ لیا تھا کہ طاقت کا استعمال ممکن نہیں‘ کچھ صلح صفائی سے راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے۔ یہ بات حکمرانوں کے موجودہ سالار کے لئے بہت مشکل تھی مگر لگتا
مزید پڑھیے


یہ قیامتیں جو گزر گئیں!

هفته 02 نومبر 2019ء
سجاد میر
کہتے ہیں سوچ سمجھ کر دعا مانگنا چاہیے۔ بار بار سوچتا تھا کہ یہ دھرنے کا مرحلہ ختم ہو تو کچھ اور بات کروں اور نہیں تو دو چار ایسے موضوعات پر ہی گفتگو کر لوں جن کاتعلق براہ راست اس سیاست اور اس کے فریقین سے ہے۔ کچھ تو ہٹ کر بہت دنوں سے سوئی اسی پر اٹکی ہوئی ہے اور کوئی بات سوجھ ہی نہیں رہی۔ یہ عجیب اذیت کا مرحلہ ہوتا ہے یوں معلوم ہوتا ہے جیسے قومی زندگی ایک بھنور یا گرداب میں پھنس کر رہ گئی ہے۔ یہ دعا تو قبول ہوئی مگر اس سے
مزید پڑھیے


راستہ دے دو یا راستہ بنا دو

جمعرات 31 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
سچ پوچھئے تو مجھے اس دھرنے سے بھی اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ شاید اس کی وجہ اس میں طاہرالقادری کی غیر سنجیدہ شمولیت تھی یا اس کا اچانک ابھر آنا تھا۔ کچھ بھی ہو اس لئے اگر میں یہ کہوں کہ مجھے اس دھرنے سے بھی ایسی دلچسپی نہیں ہے تو یہ غیر معقول بات نہ ہو گی۔ پر کیا کروں یہ اب سر پر آن پہنچا ہے۔ اس وقت لاہور میں اپنے وجود کے پورے احساس کے ساتھ موجود ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اس کی اٹھان 2014ء والے دھرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ آگے خدا
مزید پڑھیے


ٹک ٹاک لائف سٹائل

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
یہ ٹک ٹاک کیا ہے۔ اللہ رکھے اب تو قومی سطح پر ٹک ٹاک سٹار کے چرچے بھی ہونے لگے ہیں۔ ضرور کوئی بڑی چیز ہو گی جس کے سٹار بھی بن گئے ہیں اور آسمان شہرت پر جگمگا رہے ہیں۔ میں ان باتوں کو سرسری نہیں لیتا۔ نظرانداز کر کے دیکھ لیا ہے۔ یہ تو سر پر ہی چڑھتے جا رہے ہیں پہلی بار جب میں نے یہ لفظ سنا تو اس کے صوتی آہنگ سے اس کا ایک تصور باندھ لیا، مگر زیادہ توجہ نہ دی، بلکہ اہمیت نہ دی۔ ہمارے ہاں ایک ڈش ہے جو پہلی بار
مزید پڑھیے




خدا کا خوف کرو‘عقل کے ناخن لو

پیر 28 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
یہ تو حد ہو گئی نا! کہتے ہیں حمد اللہ نام کا یہ شخص پاکستانی نہیں ہے۔ غیر ملکی ہے۔ جو سینیٹر ہے۔ وزیر رہ چکا ہے ۔ پاکستان کے عوام نے اسے اپنے ووٹوں سے منتخب کیا ہے اور منتخب لوگوں نے بھی اسے اپنی نمائندگی کا سزا وار سمجھا ہے۔ ہمارے تمام اداروں نے اس کی سکروٹنی کی ہے۔ صرف الیکشن کمشن ہی نے نہیں‘ اس ادارے نے بھی جو پاکستانی شہریوں کو شناختی کارڈ جاری کرتا ہے انہیں پاکستانی ہونے کی شناخت دیتا ہے اور کیسا ہوتا ہے پاکستانی۔ ذرا یہ بھی بتائو وہ غیر ملکی ہے تو
مزید پڑھیے


بیمار کے لئے چند پھول

هفته 26 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
دل دکھی ہے۔ پہلی بار خواہش پیدا ہو رہی ہے کہ کاش میں ایک کہنہ شخص ہوتا۔ بیہودہ ‘ گھٹیا‘ منہ پھٹ اور ذلت کی حد تک پہنچا ہوا ناہنجار شخص۔ کم از کم اس زبان میں بات کر کے دل کی بھڑاس تو نکال لیتا جیسی زبان آج کل بعض سیاسی بقراطوں نے اختیار کر رکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر آدمی کے اندر ایک کمینگی ہوتی ہے۔ اس کے خلاف لڑنا ہی جہاد ہے۔ آج میں اس جہاد سے گزر رہا ہوں۔ دکھ اس بات کا نہیں کہ یہ نواز شریف کے خلاف ایسی زبان استعمال کر رہے
مزید پڑھیے


کشمیر اور بے اعتباری کا موسم

جمعرات 24 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
کوئی ہے جو یہ کہہ سکے کہ ہم کشمیر کے تنازعے پر آخری حد تک جانے کے لئے تیار بیٹھے ہیں۔ کوئی ہے‘ میں پھر پوچھتا ہوں۔ کوئی ہے! اللہ کا خوف کرو‘ یوں لگتا ہے کہ کشمیر کے مسئلے سے فرار چاہتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول پر جھڑپیں تو کشمیر کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ تو ہم خود بتاتے ہیں ہمیشہ ہوتی رہتی ہیں۔ کسی نے تعداد بھی بتائی ہے۔ 2018ء میں کتنی ہوئی تھیں اور اب کتنی ہوئی ہیں۔ کیا نتیجہ نکالتے ہیں ہم اس سے کل بھی ہم نے بتایا تھا ایک کوّا مارا گیا۔ آج بھی
مزید پڑھیے


این جی او کی سواری آ رہی ہے

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
فیض احمد فیض ایک این جی او کا نام ہے۔ کیا مطلب ہے اچھے بھلے شاعر کو این جی او بنا دیا۔ ان کے مداح یہی کر رہے ہیں۔ اسے سول سوسائٹی بھی کہتے ہیں۔ کسی جگہ لکھا دیکھا ہے کہ یہ سول سوسائٹی وہی ہے جو فرانسیسی معاشرت میں سوسائٹی کہلاتی تھی۔ ذرا فرانسیسی ادب پڑھئے،بالزاک، فلابیئرکوئی بھی دیکھ لیجئے حتیٰ کہ روسو اور والٹیئر کی زندگیوں کا مطالعہ کر لیجئے آپ کو اس سوسائٹی کی جان ایک مادام نظر آئے گی۔ ہمارے ہیرو کو معاشرے میں پذیرائی تب ملتی ہے جب وہ اس مادام کے حلقہ میں رسوخ
مزید پڑھیے


پاکستان کے صنعتی دارالخلافہ سے

پیر 21 اکتوبر 2019ء
سجاد میر
میں کراچی میں ہوں بلکہ سٹیل ٹائون میں ہوں۔ ایک عجب کرب سے دوچار ہوں۔ ایک تو بھائی کے انتقال کا دکھ، دوسرا سٹیل ملز کے حالات پر تبصرے سن سن کر پریشان ہو رہا ہوں۔ میرا یہ بھائی مجھ سے 11سال چھوٹا تھا۔ لاکھ کہیں ماموں زاد تھا مگر سب جانتے ہیں کہ وہ بھائی ہی تھا۔ برسوں میرے پاس رہا، میرے ساتھ رہا۔ شادی ہو گئی تو بھی کراچی میں اس کا اصل ٹھکانا ہمارا گھر ہی تھا۔ اب میں نے میرا کی بجائے ہمارا کا لفظ استعمال کیا اس لیے کہ اب یہ مجھ سے زیادہ اس
مزید پڑھیے