BN

سجاد میر



ریاست مدینہ اور ایف بی آر


میں چند روز پہلے بڑی صراحت کے ساتھ عرض کر چکا ہوں کہ کہیں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست سے آپ کی مراد خدانخواستہ سکینڈے نیویائی ماڈل تو نہیں ہے۔ دنیا میں ان ریاستوں کو ویل فیئرسٹیٹ یا فلاحی ریاست کہا جاتا ہے۔ اب وہی ہوا ناکہ جناب وزیراعظم نے اس ماڈل کو آئیڈیل ماڈل کے طور پر پیش کیا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ ان ممالک نے چند قوانین ایسے اختیار کئے ہیں جنہیں یہ عمر لاء کہتے ہیں لیکن مدینے کی ریاست اور جدید فلاحی ریاست میں بہت بڑا بنیادی اور جوہری فرق ہے۔ یہ فرق بھی
هفته 09 مارچ 2019ء

اک اور دریا کا سامنا ہے

پیر 04 مارچ 2019ء
سجاد میر
تین باتیں عرض کرنا ہیں جنہیں میں ابتدا ہی میں بیان کئے دیتا ہوں۔ 1۔ ہم اس وقت بھارت کا الیکشن نہیں لڑ رہے ہیں کہ مودی کو جتانے یا ہرانے کی کوشش کریں۔ ہمارے بعض انداز سے ایسے ہی جھلک رہا ہے گویا ہم ہندوستان کا الیکشن لڑ رہے ہیں۔ 2۔ یہ جنگ کا زمانہ تو گزر جائے گا لیکن ایک زمانہ اس کے بعد آنا ہے۔ ہمارے اپنے اندر بھی ایک جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ یہ صورت حال خاصی خطرناک ہوتی ہے۔ ہمیں اس کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ 3۔ اور سب سے آخری بات یہ کہ دنیا بالخصوص
مزید پڑھیے


تو یہ ملک کیوں بنتا

هفته 02 مارچ 2019ء
سجاد میر
جب سے سرحدوں کے حالات کشیدہ ہوئے ہیں، ہمارے اندر کی ایک اور جنگ بھی جاگ اٹھی ہے۔ یہ بہت پرانی جنگ ہے۔ اس سے ہمیں اپنے اندر کے تضادات کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔ یہ جو سرحدوں پر موم بتیاں جلانے والے ہیں، اس بات پر خوش ہیں کہ پاکستان امن کی بات کر رہا ہے بلکہ زیادہ وضاحت سے کہوں تو ان کی خوشی امن سے نہیں، بھارت کے ساتھ امن سے ہے اور زیادہ کھل کر کہوں تو بھارت سے دوستی سے ہے۔ مجھے سونیا گاندھی کا ایک فقرہ رہ رہ کر یاد آ رہا ہے
مزید پڑھیے


سمجھ آ گئی نا!

جمعرات 28 فروری 2019ء
سجاد میر
جن لوگوں نے 65ء کی جنگ دیکھی ہے ‘ صرف وہ اندازہ کر سکتے ہیں کہ طبل جنگ بجتے ہی یہ قوم کس طرح سب کچھ بھول بھال کر ایک ہو جاتی ہے۔ شرط صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ ہم حق پر ہوں اور جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہو۔ آپ پاکستانی میڈیا پرسن رہے ہوں گے کہ صرف دو چار دن پہلے ہی ہمارے اہل سیاست کے درمیان کیسی جوتم پیزار تھی۔ کیسی کیسی زبان استعمال ہو رہی تھی‘ ایک دوسرے پر کیسے کیسے الزام لگ رہا تھا اور اب سب یک زبان ہو کر
مزید پڑھیے


مرے پیارو‘ پیارے پیارے لوگو

پیر 25 فروری 2019ء
سجاد میر
چرچل سے منسوب ایک فقرے کا اکثر حوالہ دیا جاتا ہے کہ جنگ اتنی آسان چیز نہیں ہے کہ اسے محض جرنیلوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ کچھ ایسا ہی فقرہ ہے جس کو الٹ پلٹ کر مختلف انداز میں معنی پہنائے جاتے ہیں۔ مجھے ان تہہ داریوں سے اس وقت کوئی غرض نہیں‘ میں اس سے فی الحال ایک سادہ اور سیدھا سا مفہوم لے رہا ہوں جو یقینا اس کے کلی مفہوم کا تو احاطہ نہیں کرتا‘ مگر حسب حال ضرور ہے۔اور وہ یہ کہ جنگیں صرف فوج یا جرنیل نہیں جیتتے۔ بلکہ پوری
مزید پڑھیے




ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم

جمعرات 21 فروری 2019ء
سجاد میر
عجیب فکری مغالطے پیدا ہو رہے ہیں۔ میں ہر بار ان پر گفتگو کا آغاز کرنے کا سوچتا ہوں‘ پھر ڈر کر رک جاتا ہوں۔ اس وقت بھارت نے جو صورت حال پیدا کر دی ہے۔ وہ خود کئی سوال اٹھا رہی ہے۔ کیا جمہوریت اسی کا نام ہے کہ الیکشن جیتنے کے لئے جنگ کا طبل بجا دیا جائے۔ دو سال پہلے سے یہ بات کہی جا رہی تھی۔ کہ انتخابات کے قریب مودی پاکستان کے خلاف جنگ جویانہ فضا پیدا کرے گا اور اس کے بس میں ہوا تو کوئی مہم جوئی بھی کرنے سے باز نہیں
مزید پڑھیے


پریشان اور حیران کر دینے والی باتیں

هفته 16 فروری 2019ء
سجاد میر
مجھے کسی بزرگ نے مشورہ دیا تھا کہ اپنے کالموں میں کتابوں پر تبصروں کا سلسلہ کبھی شروع نہ کرنا۔ ایسا کیا تو اس دلدل میں دھنس جائو گے اور اس سے نکل نہ پائو گے۔ ہر کوئی کتاب لئے کھڑا ہو گا اور تم مروت دکھائو گے تو اپنے ساتھ بہت ظلم کرو گے۔ پر کیا کروں‘ کچھ کتابیں ایسی ہوتی ہیں جن پر بات کرنا کتابوں کے تبصرے کے ذیل میں آتا ہی نہیں‘ ان کے ساتھ تو بہت کچھ وابستہ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر الطاف حسن قریشی پر برادرم طاہر مسعود کی مرتب
مزید پڑھیے


عہد بے وفا کا خوف

جمعرات 14 فروری 2019ء
سجاد میر
آج صبح سے عبیداللہ علیم کی ایک غزل کے دو شعر جانے کیوں یاد آ رہے ہیں۔ علیم ایک طرحدار شاعر ہی نہیں‘ بڑی جاندار شخصیت کا مالک بھی تھا۔ ٹوٹ کر محبتیں کیں اور ڈٹ کر دشمنیاں لیں۔ کیا مزے کی بات کی ہے ؎ عزیز اتنا ہی رکھو کہ جی سنبھل جائے اب اس قدر بھی نہ چاہو کہ دم نکل جائے میں سوچ میں ہوں کہ آج اس شعر کا طاری ہونا کس کارن ہے۔ ٹھیک ہے ہم مشکل حالات سے گزر رہے ہیں۔ اس وقت ہمیں ضرورت ہے کہ کوئی حوصلہ دے۔ محبت اور شفقت
مزید پڑھیے


سالگرہ مبارک۔ قصیدہ در مدح خود

پیر 11 فروری 2019ء
سجاد میر
کبھی کبھی اپنی شان میں بھی قصیدہ پڑھ لینا چاہیے۔ کوئی حرج نہیں ہوتا۔ اپنا کتھارسس ہی ہو جاتا ہے۔ اس وقت میڈیا کا جو چلن ہو گیا ہے‘ اس میں اس طرح کی کوشش شاید رفعِ شرکے لئے بھی کارآمد ہو سکتی ہیں ابھی دو چار دن پہلے 92نیوز نے اپنی سالگرہ منائی۔ یہ یوں تو ہمارے ٹی وی چینل کی سالگرہ تھی۔ اخبار کی نہیں۔ مگر یہ مجموعی طور پر اس ادارے کے لئے ایک سنگ میل تھا۔ میں نے نوائے وقت ‘ حریت ‘ جنگ بڑے بڑے اداروں میں کام کیا ہے اور لکھا ہے اور ہمیشہ
مزید پڑھیے


ریاست مدینہ اور کرپشن

هفته 09 فروری 2019ء
سجاد میر
ہر کوئی اپنے کام کی بات نکالتا ہے۔ ماسکو میں افغان مسئلے پر مذاکرات ہورہے تھے جہاں طالبان کے نمائندے بھی موجود تھے۔ ایک تو وہ طالبان کے نمائندے کے طور پر مذاکرات میں شامل نہیں ہوئے ہیں بلکہ انہیں امارات اسلامیہ افغانستان کا نمائندہ سمجھا جاتا ہے۔ یعنی افغانستان کی اس قانونی حکومت کا نمائندہ جو امریکی حملے سے پہلے وہاں قائم تھی اور جس کی رٹ افغانستان کے طول و عرض میں بڑی مضبوطی سے ہر جگہ پھیلی ہوئی تھی۔ دل تو چاہتا تھا کہ اس وفد کے سربراہ کی اس تقریر کا تجزیہ پیش کروں جوانہوں
مزید پڑھیے