BN

سجاد میر


تیل دیکھو ‘تیل کی دھار دیکھو


قیامت کی گھڑی ہے‘ کبھی سوچا تھا کہ تیل ٹکے سیر بکے گا۔ہو سکتا ہے تیل سے بات سمجھ نہ آئے‘ کہنا یہ ہے کہ پٹرولیم کی مصنوعات یوں بے وقعت ہوں گی کہ کوئی خریدار نہیں ملے گا۔ منتیں اور خوشامدیں کرنا پڑیں گے کہ لے لو‘ مفت ہی لے لو۔ کوئی مفت کا خریدار ہی نہیں ملے گا۔ اچھا تو ساتھ ڈالر بھی لے لو‘ مگر تیل یہاں سے اٹھا لو یہ طلسم ہوش ربا کا جادو نہیں‘ آج کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ تیل کوئی معمولی شے نہیں اس نے سونے کی حیثیت اختیار کر لی
جمعرات 23 اپریل 2020ء

نجیب ہارون کا استعفیٰ

پیر 20 اپریل 2020ء
سجاد میر
کورونا کو ایک منٹ کے لئے بھول جائیے حالانکہ یہ بھولنے کی چیز ہے نہیں۔ یہ اس زمانے کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ تاہم میں ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ چوبیس سال پرانی بات تھی کہ نجیب ہارون تشریف لائے اور یہ اطلاع دی کہ وہ اور ڈاکٹر عارف علوی تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے میں وہ دوستوں سے مشاورت کر رہے ہیں۔ اسی خاطر وہ میرے پاس تشریف لائے تھے میری رائے جاننا چاہتے تھے۔ میں کہیں لکھ چکا ہوں کہ اگر میں بھی سیاست کے میدان میں اترنا چاہتا تو
مزید پڑھیے


سرمایہ داری کی جنگ

هفته 18 اپریل 2020ء
سجاد میر
اچھی خبر آئی ہے کہ عالمی مالیاتی اداروں نے کورونا کے خطرے کا احساس کرتے ہوئے چند اقدامات کئے ہیں۔عالمی بنک ہو یا عالمی مالیاتی فنڈز ان کے بارے میں تاثر یہی ہے کہ یہ سرمایہ دارانہ نظام کے پشتی بان ہے۔ یہ جو دنیا کو ریوڑیاں بانٹتے ہیں تو اس بات کا خیال رکھتے ہوئے ایسا کرتے ہیں کہ اس سے فائدہ اس نظام کو پہنچے ‘گرنہ یہ غریب ملکوں اور ان کے عوام کا خون چوسنے سے قطعاً گریز نہیں کرتے۔ ان کا جاگنا اس بات کا اعلان ہے کہ عالمی نظام زر خطرے میں ہے۔ میں بار
مزید پڑھیے


دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

جمعرات 16 اپریل 2020ء
سجاد میر
ابھی ابھی میں ایک اشتہار دیکھ رہا ہوں۔ ایک عالمی شہرت کا برطانوی جریدہ پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے سے مل کر اردو میں ایک سالانہ شمارہ شائع کرتا ہے۔ اس شمارے میں نئے سال کے حوالے سے بعض ماہرین کے مضمون ہوتے ہیں جس میں بتایا جاتا ہے کہ یہ سال کیسا ہو گا۔ اپریل آ گیا اور نئے سال کا سارا نقشہ بدل گیا‘ مگر یہ اشتہار چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ 2020ء کیسا ہو گا۔ بھلا کوئی ہے جو بتا سکے کہ آنے والے دن کیسے ہوں گے۔ مغرب میں کئی اہل دانش اس
مزید پڑھیے


احفاظ الرحمن اور سعید اظہر

پیر 13 اپریل 2020ء
سجاد میر
اس نے طیش میں آ کر کرسی اٹھائی اور مارنے کے لیے آگے بڑھنا چاہا۔ وہ اس وقت ایک دبلا پتلا شخص تھا اور میں شاید اس وقت بھی تن و توش رکھتا تھا۔ اس کھلے تضاد پر بھی دوست ہنستے ہوں گے مگر مزے کی اصل بات یہ تھی کہ یہ 77کی تحریک کا زمانہ تھا اور کراچی پریس کلب میں سیاست کے سوا کچھ نہ ہوتا تھا، مگر اس گرما گرمی کی وجہ یہ تھی کہ غزل کے کسی پہلو پر اختلاف پیدا ہو گیا تھا۔ موضوع مجھے اس لئے یاد ہے کہ کسی نے ہنستے ہوئے کہا
مزید پڑھیے



انسان کو بچا لو

هفته 11 اپریل 2020ء
سجاد میر
پروفیسر کرار حسین عجیب شخصیت تھے۔ میں انہیں اپنے اساتذہ میں سے سمجھتا ہوں۔ انہوں نے کہیں اپنے بارے میں یہ بات لکھی ہے کہ میں اشتراکیت اور تصوف کا وہ نقطہ اتصال ہوں جو وجود نہیں رکھتا۔ اس وقت مجھے اس بات پر تبصرہ نہیں کرنا۔ بتانا صرف یہ ہے کہ جب دو خط ایک دوسرے کو کاٹتے ہیں تو نہ خط کا وجود ہوتا ہے نہ نقطے کا۔ کوئی ریاضی دان تو ایسا دماغ رکھتا ہے کہ اس بات کو سمجھ سکے‘ وگرنہ ہم جیسے ’’نکتہ سنج‘‘ اس حقیقت کو جاننے میں لاچار رہتے ہیں۔ بالکل اس طرح
مزید پڑھیے


کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے

پیر 06 اپریل 2020ء
سجاد میر
کہتے ہیں ورلڈ آرڈر بدل رہا ہے۔ عام معانی میں کہیں تو یوں کہا جاتا ہے کہ دنیا اب وہ نہیں رہے گی جو کرونا سے پہلے تھی‘ مگر جب ہنری کسنجریا ٹام چومسکی اس پر غور کرتے ہیں تو ان کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دوسری جنگ کے بعد 1944ء میں جو عالمی نظام طے ہوا تھا اور جس پر عمل کیا جا رہا تھا وہ اب ختم ہونے کو ہے۔ دنیا کی جیتی ہوئی اقوام نے اس وقت مل کر جو اقتصادی‘ سیاسی اور انتظامی فعالیت کی تھی۔ وہ اب چلنے کی نہیں ۔خیر اس وقت یہ
مزید پڑھیے


بہت ہو گئی

هفته 04 اپریل 2020ء
سجاد میر
دوستو‘ ہم حالت جنگ میں ہیں۔ ایک ایسی جنگ جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کے بعد دنیا ویسی نہیں رہے گی جیسی ہے۔ اس جنگ سے پہلے بھی ایک جنگ ہے۔ کسی نے اس دوسری جنگ کے حوالے سے بہت خوبصورت بات کہی ہے کہ یہ جنگ خوف کے خلاف ہے۔ خوف جو خود ایک وائرس ہے۔ کہنے والے نے مزید کہا ہے کہ یہ جنگ جیتنا ہے تو اس کے لئے وار ٹائم لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ میں بار بار سوچتا ہوں کیا ہمارے پاس ایسی قیادت ہے۔ یہ بات پہلے میں پوری
مزید پڑھیے


کارپوریٹ سیکٹر کا سانڈ

هفته 28 مارچ 2020ء
سجاد میر
کئی دن سے ایسی باتیں میں سن رہا تھا‘ مگر اب اس پر حسین ہارون کی تفصیلی گفتگو سنی ہے تو بات کرنے میں جو ہچکچاہٹ تھی وہ دور ہو گئی ہے۔ سوچتا تھا یہ بات زباں پر نہ لائوں‘ وگرنہ لوگ اسے سازشی تھیوری قرار دے کر طعن و تشنیع شروع کر دیں گے۔ یہ حسین ہارون اقوام متحدہ میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔ سندھ اسمبلی کے سپیکر بھی رہ چکے ہیں۔ میرے لئے ان کا تعارف یہ ہے کہ یہ ڈان گروپ کے حمید ہارون کے بھائی ہیں اور تحریک پاکستان کے ممتاز قائد عبداللہ ہارون کے پوتے
مزید پڑھیے


وقت دعا ہے!

جمعرات 26 مارچ 2020ء
سجاد میر
دفتر قائد اعظم کے مزار کے عین سامنے تھا۔یہ بند رروڈ کا ایک سرا ہے۔ یہاں سے ہر طرف سڑکیں نکلتی ہیں۔ بڑا ہی پررونق علاقہ ہے۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ سڑک پار کرنا اتنا مشکل تھا کہ لمبا انتظار کرنا پڑتا۔ پھر وہ زمانہ آیا جب کراچی میں روز ہڑتال ہونے لگی‘ کرفیو لگنے لگا۔ ہنستا بستا بلکہ چیختا چلاتا شہر سونا ہونے لگا۔ آپ آرام سے یہ سڑک بھی ایسے پار کر سکتے تھے جیسے اپنے گھر میں ٹہل رہے ہوں۔ یہ تجربہ بار بار ہونے لگا تو ایک دن دل میں ہوک سی اٹھی اور
مزید پڑھیے