BN

سجاد میر



فطرت لہو ترنگ ہے غافل نہ جل ترنگ


برادرم ارشاد احمد عارف کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کے بارے میں تاثر ہے کہ وہ موجودہ حکومتی قیادت کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اس میں حرج بھی نہیں ہے‘ تاہم آج ان کی رگ حمیت نے وہ ساز چھیڑاہے جس سے میں قومی یکجہتی کے نام پر احتراز کر رہا تھا۔ میں یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ یہ تاثر ملے کہ میں حکمراں مقتدرہ کی ہر بات میں کیڑے نکالتا ہوں۔ جنگ کا طبل بجے تو اس پر ہزار اختلاف قربان کئے جا سکتے ہیں۔ میں نے اتنا تو عرض کیا تھا کہ
پیر 02  ستمبر 2019ء

ابونصرمولانا منظور احمد شاہ

جمعرات 29  اگست 2019ء
سجاد میر
ان کی عظمتوں کی داستان سنائوں یا اپنے ماضی کا وہ ورق الٹائوں جو آج مرے بہت سے ساتھیوں سے پوشیدہ ہے۔ میں کئی دن سے سوچ رہا تھا کہ خاص طور پر ساہیوال جا کر ان سے ملاقات کروں۔ ان سے ملے ہوئے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہو گا مگر ان دنوں کی داستان ذہن میں ایسے تازہ ہے جیسے کل کی بات ہو۔ یہ دن مری اپنی شخصی تشکیل میں بھی بہت اہم رہے ہیں۔ آج برادرم ڈاکٹر عبدالقادر نے ان کے انتقال کی خبر دی توپہروں ان کی باتیں کرتے رہے۔ منظورشاہ صاحب
مزید پڑھیے


میں بھی بزدل ہوں

پیر 26  اگست 2019ء
سجاد میر
ایسے ہی یہ خیال نہیں آیا ‘میں برسوں اس پر سوچتا رہا ہوںحتمی جواب اب بھی مرے پاس نہیں ہے۔ یا شاید دل یکسو ہے مگر اس جواب کو دو ٹوک انداز میں زبان دینے کا ابھی سلیقہ اپنے میں نہیں پاتا۔ اس بات کا مجھے اچھی طرح اندازہ ہے کہ اہل مغرب ایک طویل عرصے سے جس بات سے خوفزدہ ہیں اسے مشہور برطانوی مورخ ٹانن بی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ اسلام نے مسلمانوں کے دل سے موت کا خوف نکال دیا ہے۔ خلافت عثمانیہ اور سلطنت مغلیہ کے خلاف لڑتے ہوئے یہ سوال بڑی
مزید پڑھیے


لفظوں کی جنگ یا خیالات کی جنگ

هفته 24  اگست 2019ء
سجاد میر
آج انگریزی کے ایک مضمون پر نظر پڑی تو ایک خواہش دوبارہ جاگ اٹھی۔ یہ مضمون تو خیر قومیت یا نیشنلزم کے بارے میں تھا۔ مگر جو خواہش جاگی وہ اردو میں چند قاعدے مرتب کرنے کا شوق تھا۔ یہ شوق حسن عسکری صاحب کی خاص طور پر اس تحریر سے پیدا ہوا تھا جو انہوں نے دینی مدارس کے طلبہ کو علم جدید کی گمراہیاں بتانے کے لئے ایک خاکے کی شکل میں تیار کی تھی۔ مگر اس میں اتنے سوال پیدا کر دیے تھے کہ آدمی ان کے سادہ فہم جواب تلاش کرے تواس کا سارا زاویہ نگاہ
مزید پڑھیے


خلا میں بے وزنی کی کیفیت

جمعرات 22  اگست 2019ء
سجاد میر
کشمیر فتح ہو چکا۔ جشن ترقی و کمال منایا جا چکا۔ چن چن کر سارے مخالف جیل میں ڈال دیے گئے اور آخری مرحلے کے طور پر سول اینڈ ملٹری تعلقات ایسے عروج پر پہنچ چکے‘ آرمی چیف کومدت ملازمت میں توسیع دی جاچکی۔ اب کیا باقی ہے اخبارات پر نظر ڈالئے۔ یا ٹی وی کے روبرو پل بہ پل بیٹھنے سے یہی تاثر ملتا ہے۔ ایسے میں گزشتہ دو تین روز سے میں نے یہ حکمت عملی اختیار کر رکھی ہے کہ ٹی وی صرف خبروں کے لئے دیکھتا سنتا ہوں۔ تجزیوں اور تبصروں سے پرہیزکرتا ہوں۔ اخبارات کی
مزید پڑھیے




آن پہنچی ہے امتحان کی گھڑی

هفته 17  اگست 2019ء
سجاد میر
جب آپ یہ سطریں پڑھ رہے ہوں گے سلامتی کونسل کے ارکان کا نیو یارک میں اکٹھ ہو چکا ہو گا جس میں وہ اس بات پر غور کریں گے کہ پاکستان نے جو کشمیر کے مسئلے کو دوبارہ اٹھایا ہے اس کا کیا کیا جائے‘ اجلاس بلایا جائے یا بس غیر رسمی بات چیت پر اکتفا کیا جائے۔ اجلاس میں کیا ہوتا ہے یہ دوسری بات ہے۔ دیکھے کیا گزرے ہے قطرے پہ گوہر ہونے تک۔ تاہم اس وقت بڑے اعتماد سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ فوری طور پر کسی غیر معمولی پیش رفت کی توقع نہیں
مزید پڑھیے


سمجھ جائیں اور سنبھل جائیں

جمعرات 08  اگست 2019ء
سجاد میر
آخر کیا وجہ ہے کہ ہم کشمیر کے حالیہ سانحے کا تقابل سقوط ڈھاکہ سے کر رہے ہیں۔ کوئی تو وجہ ہو گی کہ ہمارے ہاں یہ احساس ابھر رہا ہے کہ 71ء میں ہم نے آدھا پاکستان گنوا دیا تھا، خاکم بدہن کہیں اب کشمیر سے تو ہاتھ نہیں دھو بیٹھے ہیں۔ ایسا تو نہیں ہے کہ کشمیر کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ تو، ایک یک طرفہ اعلان ہے۔ پھر دلوں میں یہ وسوسے کیوں جنم لے رہے ہیں۔ کیا ہمارے اندر کہیں اس خوف کے سائے امنگ رہے ہیں کہ یہ سب کچھ بھارت کے ایک جنونی
مزید پڑھیے


خسارے کا سودا

پیر 05  اگست 2019ء
سجاد میر
اے مرے دوست‘ مرے ریا کار قاری‘ مرے بھائی! جب سے بزرگوں نے بودیلیئرکی ان لائنوں سے متعارف کرایا ہے‘ اکثر اوقات دن رات ان کی گردان کرتے رہتے ہیں۔ اچھے دن تھے‘ اب بھی کہاں کے سیانے ہیں ‘ پھر بھی نادانی کے زمانوں میں اس سوال پر غور کرتے عمر گزر گئی کہ آدمی ریا کار کیوں بنتا ہے۔ ویسے استادوں نے تو یہ بتا رکھا تھا کہ زر نہاد معاشرے میں جو شخص ریا کاری سے کام لیتا ہے‘ وہ کم ازکم اعلیٰ تر اقدار کو خراج تحسین پیش کرنا نہیں بھولتا اور یہ مان لیتا ہے
مزید پڑھیے


اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے

جمعرات 01  اگست 2019ء
سجاد میر
آج مجھے کراچی بہت یاد آ رہا ہے۔ جب سے بارش کی تباہ کاریوں کی خبریں آ رہی ہیں۔ مجھے اس کے گلی‘ کوچے‘ سڑکیں ‘ بازار‘ مقامات ‘ ندی نالے سب کی یاد ستا رہی ہے۔ ایک عجیب تقابل مرے ذہن میں ابھرا ہے۔ جب غالب منزلوں سے منزلیں مارتے دلی سے کلکتے پہنچے تھے تو واپسی پر ان کا جانے کیا حال ہو گا جو وہ پکار اٹھے: کلکتہ کا جو ذکر کیا تونے ہم نشیں اک تیر میرے سینے پہ مارا کہ ہائے ہائے جب ہم اپنے عہد کے کلکتہ کا ذکر سنتے ہیں جہاں لاکھوں انسان فٹ پاتھ پر
مزید پڑھیے


عرفان صدیقی۔ ایسا بھی ہوتا ہے باہم

پیر 29 جولائی 2019ء
سجاد میر
میں اعلان کر چکا تھا کہ مجھے آج اپنے گزشتہ کالم کی اگلی قسط لکھنا ہے اور وزیر اعظم کے دورہ امریکہ کے احوال و کوائف کا تجزیہ کرنا ہے۔ مگر میں اپنے ارادے سے احتراز کرنے پر مجبور ہوں۔ یہ تو نہیں ہو سکتا کہ عرفان صدیقی کی مضحکہ خیز انداز سے گرفتاری پرخاموش رہوں۔ میں خاموش رہا تو میرا ضمیر مجھے ملامت کرے گا۔ فرانس دوسری جنگ عظیم میں ایک بڑے کربناک تجربے سے گزرا۔ اس پر جرمنی نے پہلے ہی ہلے میں قبضہ کر لیا تھا جو شخص مزاحمت کی اس جنگ کا ہیرو بنا اور بعد میں
مزید پڑھیے