BN

سجاد میر



استعارے کی موت


میں کوئی تعزیت نامہ لکھنے نہیں بیٹھا۔ اگر یہ تعزیت نامہ ہے بھی تو کسی فرد کا نہیں‘ گزری ہوئی تہذیبی قدروں کا نوحہ کہہ لیجیے ۔وہ بھی کیا زمانہ تھا جب مجھ جیسوں نے ادب کی دنیا میں قدم رکھا تھا وہ ویسے بھی وقت کے کروٹ لینے کا سمے تھا۔ مگر ادبی طور پر تو ایک طوفان برپا تھا۔ لاہور بالخصوص ایک نئی ادبی تحریک کا مرکز تھا۔ افتخارجالب اور ان کے ساتھیوں کا طوطی بولتا تھا۔ ایک لحاظ سے جیلانی کامران بھی ‘ انیس ناگی‘ زاہد ڈار ‘ تبسم کشمیری ‘ گوہر نوشاہی ‘ عباس اطہر‘ ذوالفقار
پیر 10 جون 2019ء

ادریس بختیار کی یاد میں

پیر 03 جون 2019ء
سجاد میر
بس بیٹھے بیٹھے درمیان سے اٹھ کر چل دیا۔ میں نے کسی سے اس کی تعزیت بھی نہیں کی۔ ایک چپ سی لگ گئی ہے ویسے میں اس کی تعزیت کیوں کروں اور کس سے کروں دوسروں کو تو اس کی تعزیت مجھ سے کرنا چاہیے تھی۔ بعض لوگوں سے ایسے ہی تعلقات ہوتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب صلاح الدین صاحب شہید ہوئے۔ جونہی خبر ملی ان کے گھر پہنچے تو پروفیسر غفور احمد صاحب موجود تھے وہ سب کو چھوڑ چھاڑ کر سیدھا میری طرف آئے اور مجھے گلے سے لگا کر دلاسا دینے لگے۔ جیسے کہہ رہے
مزید پڑھیے


خدارا بات کو سمجھ جائیے

جمعرات 30 مئی 2019ء
سجاد میر
میں نے وزیری اور محسود کا ذکر پہلی بار اقبال کے ہاں پڑھا۔ وہ بھی شیر شاہ سوری کے حوالے سے۔ سوری ہندوستان کا وہ حکمراں تھا جس نے حکومت مغلوں کے ہاتھ سے چھینی تھی اور اپنے مختصر دور حکومت میں ایسے کارنامے انجام دیے اور حکمرانی کا ایسا طریق اپنایا کہ آج بھی اس کا نام ہماری تاریخ میں روشن ہے۔ یہ برصغیر کے طول و عرض کو ملاتی ہوئی شاہراہ شیر شاہ سوری اسی کی یادگار ہے۔ انگریز نے اسی تصورکو جی ٹی روڈ میں بدل کر ہندوستان کو متحد کرنے کا راستہ نکالا۔ سوری کے
مزید پڑھیے


ترجیحات درست کیجیے

پیر 27 مئی 2019ء
سجاد میر
ہو سکتا ہے‘ آپ سوچیں‘ یہ سیدھی بات نہیں کرتا‘ ہمیشہ الٹی ہی سوچتاہے۔ کیا کروں‘ سچ تو بولنا ہی ہے۔ اسے مری مجبوری سمجھیں۔ یہ جو چیف آف نیب کا سکینڈل بنا ہے‘ اس پر بہت سی باتیں ہو رہی ہیں ممکن ہے۔ مرے پاس بھی بہت سی معلومات ہوں کہانی میں چسکا خاصا ہے۔ بہت کچھ بیان کیا جا سکتا ہے۔ میں تو اس ادارے کے بانی ارکان میں سے ہوں جس نے یہ خبر نشر کی ہے۔ میں اس ٹی وی چینل کا ایگزیکٹوڈائریکٹر رہ چکا ہوں۔ایک قومی اخبار کی ایڈیٹر شپ چھوڑ کر اس کے آغاز
مزید پڑھیے


بچا لو، بچا لو، مری روح کو بچا لو!

هفته 25 مئی 2019ء
سجاد میر
آج کل جنگیں میدان جنگ میں نہیں ہاری جاتیں، معیشت کے میدان میں ہاری جاتی ہیں۔ ساری کی ساری فوجیں دھری رہ جاتی ہیں اور قوم جنگ ہار جاتی ہے۔ سامنے کی بات ہے، روس سے بڑی عسکری طاقت تو کم ہی ہوا کرتی ہے۔ ایٹمی اسلحے میں بھی وہ ایک سپر پاور تھا۔آدھی دنیا پر اس کا راج تھا، اس کے نظریے اور اس کے سامراجی جاہ و جلال کی ہیبت تھی۔ کیا ہوا، سب کچھ دھرے کا دھرا رہ گیا۔ اتنی بڑی سلطنت دھڑام سے ایسے گری کہ کئی ٹکڑے ہو گئے۔ روسی ٹینک صرف اپنی پارلیمنٹ
مزید پڑھیے




خدمت خلق کے ادارے

پیر 20 مئی 2019ء
سجاد میر
جب بھی رمضان آتا ہے‘ مجھے ہمیشہ یہ خیال آتا ہے کہ اس عبادت کا ذکر کروں جو ان دنوں سب عبادتوں سے افضل ہے۔ چلئے یوں نہ کہیے۔ کوئی جمع تفریق نہ ہو جائے ویسے یہ میں اس لئے کہہ رہا تھا کہ اس میں حقوق العباد کا عنصر شامل ہے۔ ہمارے اشفاق صاحب نے ایک بابا جی کے حوالے سے یہ سنہری جملہ کہہ رکھا ہے کہ نماز کی قضا ہے‘ خدمت کی قضا نہیں۔ مرے منہ سے یہ جملہ جانے کیوں اس طرح نکلتاہے کہ عبادت کی قضا ہے‘ خدمت کی قضا نہیں۔ شاید اس لئے کہ
مزید پڑھیے


جمیل نقش کا نقشِ جمیل

هفته 18 مئی 2019ء
سجاد میر
چلیے آج اس نقشِ جمیل کی بات کریں جس کا نام جمیل نقش تھا۔ اور اس حوالے سے اپنے دیس کی اس تخلیقی روایت کو یاد کریں جو مرتی جا رہی ہے۔ جمیل نقش کی موت کی خبر نے مری کئی کیفیتیں تازہ کر دی ہیں۔ میں اپنی چھت سے اسے اپنی چھت پر سرگرم عمل دیکھ سکتا تھا۔ بارہ برس میں نے کراچی کے طارق روڈ پر تنہا گزارے ہیں‘ چند دوستوں کے ساتھ۔ اس گھر کا نمبر 120-u-2تھا۔ اس حوالے سے وہ نوجوان ادبی حلقوںمیں یو ٹو کے نام سے مشہور تھا۔ می ٹو کی طرح نہیں شاید اس
مزید پڑھیے


مسئلہ سلامتی کا ہے!

جمعرات 16 مئی 2019ء
سجاد میر
میں نے پروگرام کا آغاز کیا اور پوچھا‘ آج آپ سب اداس کیوں ہیں‘ پھر وضاحت کی سبھی کے چہروں پر ایک سی کیفیت ہے۔ گہری اور شدید اداسی کی۔ سب نے تصدیق کی۔ یہ وہ دن تھا جب حکومت پاکستان کی طرف سے مشیر خزانہ نے یہ اعلان کیا تھا کہ پاکستان کا آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گیاہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہ تھی جو انہونی ہو۔ کافی عرصے سے اس گھڑی کا انتظار تھا۔ سب جانتے تھے یہ ہونے والا ہے۔ اچانک مجھے وہ دن یاد آیا جب میں نے ریڈیو پاکستان سے سقوط ڈھاکہ
مزید پڑھیے


داتا دربار کا سانحہ۔ پس منظر

پیر 13 مئی 2019ء
سجاد میر
داتا دربار پر حملہ ہوا تو میں سوچ میں پڑ گیا۔ یہ کون لوگ ہیں جو بزرگوں کے مزارات کو بھی نہیں بخشتے۔ بلکہ شاید اسے اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیںیہ کوئی مسلکی بحث نہیں ہے بلکہ ایک مزاج کا رونا ہے جو ہمارے ہاں تشکیل پاتا جا رہا ہے۔ یہاںمیں اس سے ہٹ کر ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ شاید اس سے مری بات زیادہ واضح ہو جائے۔ پروفیسر سراج پنجاب یونیورسٹی مرے انگریزی ادبیات کے استاد تھے۔ بلا شبہ ایک لیجنڈری شخصیت تھے۔ بعد میں پنجاب یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہوئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انہوںنے ایک انگریزی اخبار
مزید پڑھیے


اکنامک ہٹ مین آ گئے

جمعرات 09 مئی 2019ء
سجاد میر
پنبہ کجا کجا نہم۔ ایک زخم ہو تو اس کی مرہم پٹی کر لیں۔ یہاں تو سارے کا سارا بدن زخموں سے چور ہے۔ رات گئے تک ٹی وی پر نواز شریف کی ریلی دیکھتا رہا چند دنوں سے مسلم لیگ نے اپنی تنظیم نو کی تھی۔ کئی سوال سر اٹھا رہے تھے‘ لیکن ہمارے مسخرے پن کی نذر ہو رہے تھے۔ مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں۔ شیکسپئر کے ہاں ایک Clownمسخرے کا کردار ہوتا ہے جس کے بارے میں ہمیں بتایا جاتا ہے کہ اس کی حماقتوں سے بھی عقل کی باتیں جھلکتی ہیں۔ حماقتوں کی عقل
مزید پڑھیے