عارف نظامی



آزادیٔ جمہور


جنرل ضیاالحق کے اقتدار پر شب خون مارنے کو 42 برس گزر گئے ۔5 جولائی 1977ء کی علی الصبح انہوں نے منتخب وزیراعظم ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر مارشل لا لگا دیا اور اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔بھٹومارچ 1977ء کے عام انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کے بعد اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل پاکستان قومی اتحاد (پی این اے)سے بظاہر معاملات طے کر چکے تھے لیکن اپوزیشن کے سرکردہ قائدین ائیر مارشل اصغر خان،چودھری ظہور الٰہی ،ولی خان،شیرباز خان مزاری،نوابزادہ نصراللہ خان،شاہ احمد نورانی ،پروفیسر غفور احمد میں سے بعض کی فوجی قیادت کے ساتھ پوری ساز
هفته 06 جولائی 2019ء

پھر گھوڑوں کا کاروبار؟

بدھ 03 جولائی 2019ء
عا رف نظا می
تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد بلکہ عام انتخابات سے قبل بھی یہ بازگشت سنائی دیتی رہی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے بہت سے ارکان پی ٹی آئی میں شامل ہونے کے لیے بے تاب ہیں لیکن’’ہم ‘‘دانستہ اس راستے پر نہیں چل رہے ۔ انتخابات سے پہلے ہی اپوزیشن نے الزام لگانا شروع کردیا تھا کہ ’پولیٹیکل انجینئرنگ ‘ ہو رہی ہے ۔یہ باتیں زبان زدعام تھیں کہ کس انداز سے الیکٹ ایبل امید واروں کو پی ٹی آ ئی کے پرچم تلے اکٹھا کیا جا رہا ہے ۔اس ضمن میں ’خلائی مخلوق ‘کا فقر ہ بھی
مزید پڑھیے


معاشی چیلنج اور اجتماعی ذمہ داری

پیر 01 جولائی 2019ء
عا رف نظا می
چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی اس بات سے اصولی طور پر اختلاف نہیں کیا جاسکتا کہ مشکل حکومتی اقدامات کی کامیابی کے لیے سب کو ذمہ داری نبھانا ہوگی ، جنرل صاحب جنہیں حال ہی میں وزیراعظم نے نوتشکیل شدہ نیشنل ڈویلپمنٹ کونسل میں شامل کیا ہے نے اب کھل کر اقتصادی معاملات پر رائے دے دی ہے ۔نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں قومی معیشت پرسیمینار سے خطاب کرتے ہو ئے انھوں نے درست طور پر نشاندہی کی کہ اقتصادی خود انحصاری کے بغیر آزادی کا کوئی تصور نہیں،اگر معیشت کمزور ہوگی تو ملکی سلامتی کی صورتحال
مزید پڑھیے


اے پی سی،ناکام؟

هفته 29 جون 2019ء
عا رف نظا می
مختلف حکومتی ترجمان ببانگ دہل یہ دعویٰ کر کے کہ بدھ کو مولانا فضل الرحمن کی دعوت پر ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس یکسر ناکام رہی۔یہ کہہ کرنہ جانے نمبر بنا رہے ہیں یا اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کر رہے ہیں کہ یہ تو محض نشستند گفتند و برخاستند تھی۔ یہ بات درست ہے کہ مولانا فضل الرحمن کی اے پی سی سے کوئی بہت بڑا طوفان برپا نہیں ہوا۔ شرکا میں سے ماسوائے فضل الرحمن کسی کا بھی مطمح نظر یہ نہیں تھا کہ چٹ منگنی پٹ بیاہ کے مترادف اے پی سی کے فوراً بعد اپوزیشن سڑکو
مزید پڑھیے


دل کے بہلانے کو غالب۔۔۔۔

بدھ 26 جون 2019ء
عا رف نظا می
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس FATFنے پاکستان کو گرے لسٹ میں ہی رکھتے ہوئے بلیک لسٹ میں ڈالنے کا معاملہ اکتوبر تک موخر کرکے اسے آخری توسیع قراردے دیا ہے ۔ گویا کہ دہشت گردی کو فروغ دینے والی تنظیموں کے بارے میںپاکستان کو ایف اے ٹی ایف کو مطمئن کرنا ہو گا ۔ یہ تو کہنا درست نہیں ہو گا کہ پاکستان نے اس حوالے سے کچھ نہیں کیا اور ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا رہا۔ جماعتہ الدعوہ اور جیش محمد پر پابندی دیرآید درست آید کے مصداق لگائی گئی ۔یہ گروپ دیدہ دلیری سے اپنی سرگرمیوں میں
مزید پڑھیے




بال خان صاحب کے کو رٹ میں

پیر 24 جون 2019ء
عا رف نظا می
سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مصالحت کنند ہ کا کردار ادا کر رہے ہیں ، ان کا دعویٰ ہے کہ ان کی کاوشوں کے نتیجے میں حکومت بھی میثاق معیشت پر بات چیت کے لیے تیار ہے ۔اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف اپنی بجٹ تقریر اور اس سے پہلے بھی میثاق معیشت پر بات چیت کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں ۔ آصف علی زرداری جو پروڈکشن آرڈرز کے ذریعے بدھ کو قومی اسمبلی میں آئے تھے ،غیر معمولی مصالحانہ موڈ میں تھے،انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پیپلز
مزید پڑھیے


کون سنتا ہے فغانِ درویش۔۔

هفته 22 جون 2019ء
عا رف نظا می
چیف جسٹس آف پاکستان آصف سعید خان کھوسہ اپنے پیشرو میاں ثاقب نثار کے برعکس قانونی اورآئینی معاملات کے سوا لب کشائی نہیں کرتے ۔ لہٰذا ان کا یہ کہنا کہ عدلیہ کے سوا اچھی خبر نہیں، بہت معنی خیز ہے ۔فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں ماڈل کورٹس کے ججوں سے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ دیکھیں تو ڈپریشن، چینل بدل کر کرکٹ لگائیں تو مایوسی، معیشت کی خبریں بھی مایوس کن اورعالمی سطح پر بھی بری خبریں مل رہی ہیں۔پاکستان کے منصف اعلیٰ کے اس تجزیئے سے اختلاف نہیں کیا جا سکتا۔ جمہوریت کی گاڑی جس انداز
مزید پڑھیے


مزاحمت کے آثار نہیں

بدھ 19 جون 2019ء
عا رف نظا می
اتوار کو میاں نواز شریف کی حقیقی سیاسی جانشین محترمہ مریم نوازنے پیپلزپارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں جاتی امرا میں ظہرانہ دیا ۔ ویسے تو یہ دعوت مریم نواز سمیت مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے اعزاز میں بلاول بھٹو کی افطار پارٹی کے جواب میں تھی لیکن اس کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی کہ اس افطار میں شریک دوکلید ی کردار آصف علی زرداری اور حمزہ شہباز نیب کے طفیل اب جیل کی ہوا کھا رہے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس افطارپارٹی میں شہبازشریف بیرون ملک ہونے کی وجہ سے شریک
مزید پڑھیے


بھارت سے تعلقات کی توقعات؟

پیر 17 جون 2019ء
عا رف نظا می
حکمرانوں کو واثق امید تھی کہ بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس کی سائیڈ لائن پر وزیراعظم عمران خان کی بھارت کے دوبارہ منتخب ہونے والے ہم منصب نریندر مودی کے ساتھ غیر رسمی ملاقا ت ہو جائے گی لیکن یہ توقعات نقش بر آب ثابت ہوئیں ۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جو سب سے زیادہ پُر امید تھے نے جھینپتے ہوئے انداز میں کہا کہ ہمیں بھی ملاقات کی کوئی جلدی نہیں ۔ نہ جانے کیوں خان صا حب اور ان کی جماعت جو نوازشریف کے خلاف یہ نعرہ لگاتے نہیں تھکتی تھی کہ’ مودی کا جو
مزید پڑھیے


قابل غور!

هفته 15 جون 2019ء
عا رف نظا می
بجٹ کی آمد کے ساتھ گرفتاریوں کی بھی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے ۔پہلے زرداری اور پھر حمزہ کی باری، ساتھ ہی ساتھ لندن میں بانی ایم کیو ایم الطاف حسین بھی دھر لے گئے لیکن24گھنٹوں میں ہی ضمانت پر رہا ہو گئے کیونکہ وہاںتو نیب ،نیب عدالتوں اور پراسیکیوٹرز کا طوطی نہیں بولتا ،نیب قانون کے سوا پاکستان میں بھی برطانوی لیگل سسٹم نافذ ہے جس میں جب تک ملزم پر جرم ثابت نہ ہو جائے وہ مجرم نہیں ٹھہرتا ۔قومی بجٹ جس کے بارے میں چرچا تھا کہ شیر آیا شیر آیا، آچکا ہے اور واقعی جیسا کہ
مزید پڑھیے