BN

محمد عامر رانا


نیشنل ازم اور ترقی کے نئے رجحانات


ملک بھر کی شاہراہوں کے کنارے مساجد، مدارس اور دیگر چھوٹی بڑی عمارتیں نظر آنا معمول کی بات ہے۔کراچی سے طورخم، اسلام آباد سے گلگت اور پشاور سے کوٹری تک پھیلے ہوئے مختلف مذہبی ادارے ملک کے اندر مذہبی تمدن کی موجودگی کا واضح مظہر ہیں۔ ان مساجد و مدارس اور مذہبی مراکز کا طرز تعمیر ایسی مذہبی قوتوں کی موجودگی کی نشاندہی کرتاہے جو ایک طرح سے قومی ہم آہنگی پیداکرنا چاہتی ہیں۔ مذہبی اداروں کی باقاعدہ تشکیل کے عمل سے استفادہ کرنے والوں کی زیادہ تعدادکم آمدن والے طبقات سے تعلق رکھتی ہے۔ پنجاب میں یہ عمل سماجی
جمعه 14 فروری 2020ء

پاکستان غیر جانبداری کے مشکل مرحلہ میں

هفته 18 جنوری 2020ء
محمد عامر رانا
مشرق وسطیٰ کے تنازع کی سیاسی تعبیرات کو متشدد واقعات کے زاویے سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرچہ پاکستان اس کا براہ راست فریق نہیں ہے تاہم اس تنازعے کی تپش یہاں بھی پہنچتی ہے خاص طور پر مشکل یہ درپیش ہے کہ اس معاملے میں غیر جانبدار کیسے رہا جائے۔ مذہبی سطح کے سرگرم سیاسی ماحول اور متنوع پس منظر میں کسی ملک کے لئے سب سے اہم معاملہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے عروج پر اپنے ہاں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنا ہے۔ اسی لئے کسی ایک جانب کے لئے کوئی واضح موقف اختیار کرنا ایک مشکل مرحلہ
مزید پڑھیے


دہشتگردی کا چیلنج ابھی باقی ہے

جمعرات 02 جنوری 2020ء
محمد عامر رانا
سال 2019ء کے دوران پاکستان میں ہونے والے دہشتگرد حملوں میں مزید کمی ہوئی اور اس وجہ سے جانی نقصان بھی کم ہوا۔ اگرچہ اس کی ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ دہشتگرد عناصر کی عملی صلاحیتیں کمزور ہوگئی ہیں تاہم دہشتگردی کے خلاف جنگ ابھی بھی جاری ہے۔ دہشتگرد عناصر تتر بتر تو ہوگئے ہیں تاہم ابھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے اور سماج میں وقوع پذیرانتہاپسندانہ افکار تاحال ان کے لیے انسانی، مالی اور نظریاتی کمک کا باعث ہیں۔اسلام آباد میں موجود تھنک ٹینک پاک انسٹی ٹیوٹ فار پیس اسٹڈیز کی جانب سے اکٹھے کئے
مزید پڑھیے


چین کا ہم آہنگی ماڈل

جمعرات 19 دسمبر 2019ء
محمد عامر رانا
امریکی ایوان نمائندگان میں ایغور حقوق انسانی پالیسی ایکٹ 2019 کی منظوری کے بعد ریاستہائے متحدہ امریکہ اور چین کے مابین کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ امریکی ایوان نمائندگان کا یہ فیصلہ عالمی سطح پر حقوق انسانی کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور عالمی میڈیا کے ان متواتر الزامات کے بعد سامنے آیا جن کے مطابق چینی حکومت ایغور مسلم برادری پر ظلم و ستم اور ان کے انسانی حقوق کی پامالی کررہی ہے۔ البتہ چین ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ چینی حکومت کے مطابق اس امریکی اقدام کی نوعیت سیاسی ہے جس کا مقصد عالمی دنیا میں چین
مزید پڑھیے


نوجوانوں کا مسئلہ اور مقتدر اشرافیہ کے مفادات

جمعرات 05 دسمبر 2019ء
محمد عامر رانا
ہمارے ہاں ’’سیاست‘‘ کا لفظ ایک گالی کی سی حیثیت اختیار کرچکا ہے اور اس کوچہِ خراباں میں نوجوانوں کا قدم دھرنا معیوب سمجھا جاتا ہے۔ تاہم کچھ عرصہ سے پاکستان میں یہ تصور پنپ رہا ہے کہ مقتدر اشرافیہ ملک میں سیاسی سماج کی تشکیل پر یقین رکھتی ہے اور اس مقصد کے لیے وہ نوجوانوں کو متحرک کرنے اور ان میں بیداریِ شعورپیدا کرنے پر مائل نظرآتی ہے۔ دوسری طرف یہ رائے بھی سامنے آتی ہے کہ یہ سچ ادھورا ہے، مقتدر اشرافیہ سیاست پر یقین ضرور رکھتی ہے لیکن وہ اسے مخصوص طبقات تک محدود رکھنا چاہتی
مزید پڑھیے



عظمت کی تلاش میں

اتوار 17 نومبر 2019ء
محمد عامر رانا
مولانا فضل الرحمن نے اپنا دھرنااور مارچ سمیٹ کر ایک دوسرے پُرجوش احتجاجی (نام نہاد پلان بی)مرحلے میں داخل کرلیا ہے۔ملک بھر کی بڑی شاہرائوں کو بندکرنے کے ،اس منصوبے پر مبنی مرحلے کے حوالے سے بہت سارے لوگ پُراُمید نہیں ہیں ۔تاہم مولانا فضل الرحمن نے موجودہ سیاسی منظرنامے میں خود کو ایک اہم شخصیت کے طورپر منوانے کے ساتھ ساتھ جمعیت کے نوجوانوں کو اپنی حمایت میں متحرک کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔ مذہبی حمایت کی بنیاد میں مسئلہ یہ ہے کہ اس حمایت کا حصول صرف مذہبی نعرے بازی اور موجودہ سیاسی سیاق وسباق کے ساتھ ملاکر
مزید پڑھیے


بھوک کی سیاست

اتوار 20 اکتوبر 2019ء
محمد عامر رانا
بظاہر تو حکومت پاکستان کا معصومانہ بیانیہ ایک فلاحی ریاست کا نعرہ ہے مگر یہ صرف عوام کے دل کو بہلانے کے لئے ہی ہے جسے حکومت مصنوعی اقدامات کے ساتھ مذہبی عقائد سے جوڑ کر بڑھا چڑھا کر پیش کرتی ہے۔ احساس سیلانی لنگر خانوں کی سکیم بھی حکومت کے اس طرح کے نمائشی اقدامات کا حصہ ہے ،جو تبدیلی کا احساس دلانے کے لئے کئے جاتے ہیں۔ کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ حکومت ملک سے بھوک اور افلاس کے خاتمے کے نام پر چند لوگوں میں مفت کھانا تقسیم کا اہتمام کرے۔ حکومت نے ابتدائی طور
مزید پڑھیے


افغان طالبان دوراہے پر!

اتوار 06 اکتوبر 2019ء
محمد عامر رانا
افغان طالبان ایک بار پھر تاریخ کے ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں جہاں انہیں افغانستان میں اپنی عسکری قوت کھوئے بغیر سیاسی حکمت عملی تشکیل دینا ہے۔ ابھی تک تو طالبان کی قیادت کو یہی یقین تھاکہ امن مذاکرات ان کی فتح پر منتج ہوں گے۔ درحقیقت طالبان نے امریکہ سے مذاکرات کا آغاز ہی فتح کے احساس کے ساتھ کیا تھا اور انہوں نے امن عمل کے دوران خود کو سخت مذاکرات کار ثابت بھی کیا۔ طالبان کابل کی گلی بازاروں میں ایک فاتح فوج کی حیثیت سے داخل ہونے کے لئے مکمل طور پر تیار بیٹھے تھے مگر
مزید پڑھیے


گھوٹکی کی تہذیب سوزی

اتوار 22  ستمبر 2019ء
محمد عامر رانا
گزشتہ ہفتے سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ہندوئوں کے مندروں کو مسمار کیا گیا اور نجی املاک تباہ ہوئیں یہ ایک وارننگ ہے کہ ہم مذہبی شدت پسندی اور انتہا پسندی کے بارے میں جو سوچتے ہیں حقیقت اس سے کہیں زیادہ گھمبیر ہے ۔حکومت کو ان واقعات کی لفظی مذمت کرنے کے بجائے زمینی حقائق کاادراک کرتے ہوئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ دیگر تمام ضروری اقدامات کے حکومت کو فوری طور پر دو اقدام اٹھانے چاہئیں۔ پہلا یہ کہ انفرادی اور اجتماعی حیثیت میں مذہب کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے پر قانونی قدغن لگائی جائے۔
مزید پڑھیے


نئے نظم کی تشکیل

اتوار 08  ستمبر 2019ء
محمد عامر رانا
یہ بات باعث تعجب ہے کہ اس بارکچھ سیاسی جماعتوں اور مذہبی گروہوںکی سرگرمیاں کشمیر کے بارے میں عوام میں جوش و خروش پیدا کرنے کے بجائے محض رسمی سوانگ رچانے تک ہی محدود ہیں۔ جبکہ ماضی میں اس سے کہیں کم شدت کے واقعات پر بھی مذہبی جماعتیں سڑکوں پر نکل آتی تھیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سارے حلقے اس تبدیلی کوقومی اور سٹریٹجک معاملات پر مذہبی جماعتوں کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کے تبدیل ہوتی سوچ کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں ۔دائیں بازو کی جماعتوں کے بارے میں عام تاثر یہی رہا ہے کہ جب بھی
مزید پڑھیے