BN

ہارون الرشید



تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا


رفوگری سے کام نہیں چلے گا۔ ایک صدی ہوتی ہیں جب شاعر نے کہا تھا مصحفی ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ ہوگا کوئی زخم تیرے دل میں تو بہت کام رفو کا نکلا عمران خان کے بہی خواہ پریشان ہیں ،بہت پریشان۔یہ ان کا ذکر نہیں جو دورکھڑے تماشائی ہیں۔ یہ وہ ہیں، عمر بھر جو معرکوں میں شریک رہے اور پے در پے کامیابیاں حاصل کیں۔ مشکلات اور بحرانوں میں جنہیں یاد کیا جاتا ہے۔ کم از کم تین ایسے آدمی ہیں جنہیں میں جانتا ہوں، ممکن ہے کچھ دوسرے لوگ اس سے بھی زیادہ اہل ہوں۔ روزازل ابلیس نے
اتوار 22  ستمبر 2019ء

شاید،شاید

هفته 21  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
نالائق اور خود غرض افسروں اور مشیروں سے وزیرِ اعظم کیا چھٹکارا پا سکتے ہیں ؟ بد قسمتی سے اس سوال کا جواب نفی میں ہے ۔ سوچنے سمجھنے والوں کی ذمہ داری بہرحال یہ ہے کہ تضادات کی نشاندہی کرتے رہیں۔اپنی بات دہراتے رہیں۔ اصرار کرتے رہیں، شاید ،شاید! لیڈر کامیاب نہیں ہو سکتا ، اپنے ماتحتوں کی جو رہنمائی نہ فرما سکے۔ خود جوسمجھتا نہ ہو ، دوسروں کو کیسے سمجھائے گا؟ وزیرِ اعظم کو خلقِ خدا مہلت دینا چاہتی ہے تو ظاہر ہے کہ خود خالق بھی ۔ اس لیے کہ آوازِ خلق نقارہء خدا ہوتی ہے
مزید پڑھیے


عمران خان اب تک ناکام کیوں ہے

جمعرات 19  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
ساری خرابی تجزیے کی ہوتی ہے ۔ تجزیہ ناقص ہوتو عمل بے ثمر ۔ اپنی ذات سے اوپر اٹھنا ہوتا ہے ۔ وہ نہیں اٹھ سکتا ۔ اب تک نہیں اٹھ سکا ۔ اللہ اس کا حامی و ناصر ہو ۔ عمران خان کا مسئلہ کیا ہے ۔بطورِ وزیرِ اعظم ، اب تک کوئی بڑی کامیابی کیوں حاصل نہ کر سکا؟ سب جانتے ہیں ، بس وہی ایک نہیں جانتا ۔ پتہ پتہ ، بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے ، باغ تو سارا جانے ہے کرکٹ پر اپنی خود نوشت میں اس
مزید پڑھیے


یہ کہانی پھر کبھی

اتوار 15  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
تین صدیاں پہلے مغرب میں صنعتی انقلاب اور سلطانی جمہور کی تحریک پھوٹی تھی ‘بلکہ سائنسی انداز فکرکی ایک ہمہ گیر اخلاقی تحریک بھی ‘ مگر یہ کہانی پھر کبھی۔ رفیق سہگل مرحوم نے روزنامہ آفاق کے اجرا کی افتتاحی تقریب میں یہ کہا:دو آرزوئیں تھیں‘ ٹیکسٹائل مل اوراخبار۔ پروردگار نے آج دوسری تمنا بھی پوری کر دی۔ استاد گرامی جناب جمیل اطہر راوی ہیں کہ میزبان کے بعد روزنامہ عوام کے مدیر خلیق قریشی مرحوم اٹھے اوریہ کہا:میری خواہش بھی یہی تھی۔ حماقت یہ ہو گئی پہلے اخبار نکالا۔ روزنامہ آفاق غتر بودہو گیا۔ پارچہ بافی کا کاروبار پھیلتا گیا۔
مزید پڑھیے


مردِ آزاد

هفته 14  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
بہت دنوں کے بعد ایک مردِ آزاد کو دیکھا ۔ بہت دن کے بعد پھر سے یاد آیا کہ دنیا کی سب سے بڑی متاع آزادی ہے ۔ بہت دن کے بعد اپنے دوست حکمت یار کا یہ جملہ یاد آیا : اللہ کی دنیا کتنی خوبصورت تھی ۔ آدمی نے کتنا اسے بھدّا کر دیا ۔ جنرل ناصر جنجوعہ نے مجھے لکھا: کتنی بری بات ہے ، وعدہ کر کے کیپٹن طارق سے آپ نہیں ملنے گئے ۔ کیپٹن طارق سے سیکنڈ لیفٹیننٹ ناصر جنجوعہ کی ملاقات 1977ء میں ہوئی تھی ۔ اس ناچیز سے 2011ء میں بے تکلفی
مزید پڑھیے




’’خود سے خدا تک ‘‘

جمعه 13  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
عارف نے کہا تھا : راہِ محبت میں پہلا قدم ہی شہادت کا قدم ہوتاہے ۔یہ بھی کہا تھا : عقل جہاں رکتی ہے ، وہیں بت خانہ تعمیر ہوتا ہے ۔ ناصر افتخار کی کتاب ’’خود سے خدا تک ‘‘ میں پروفیسر احمد رفیق اختر اس طرح دکھائی دیتے ہیں ، جیسے بلال الرشید کے کالموں میں ۔پتھر کو پارس چھو لے تو وہ سونا ہو جاتا ہے ۔ رہی مٹی تو وہ دائم مٹی ہی رہتی ہے ۔یہ ناصر افتخار کی کتاب سے چند اقتباسات ہیں ۔ مفہوم واضح کرنے کے لیے کہیں کہیں ایک آدھ لفظ بدل دیا
مزید پڑھیے


اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی

جمعرات 12  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
شیکسپئر کو اقبالؔ کی طرف سے پیش کیا جانے والا خراجِ تحسین ان پہ صادق آتا ہے ۔ حفظِ اسرار کا فطرت کو ہے سودا ایسا رازداں پھر نہ کرے گی کوئی پیدا ایسا ایک جملے میں شاید یہ کہا جا سکتاہے : متوکل تھے، وہ سرتاپا متوکل ۔ پروردگار پہ ان کا ایمان ایسا محکم تھا کہ عمر بھر کسی ذاتی یا اجتماعی امتحان میں متزلزل نہ ہوئے ۔ اخلاقی زندگی ایسی شفاف کہ الزام تو کیا، ان کے دشمن کبھی ڈھنگ کا طعنہ بھی نہ دے سکے۔ وہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی تھے۔ ایک مفلس
مزید پڑھیے


میں اس دن سے ڈرتا ہوں

هفته 07  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
اس دن سے میں ڈرتا ہوں کہ رفعت ریاض بھی مایوس ہو جائے۔ بخدا‘ اس دن سے میں ڈرتا ہوں۔دامنِ یار خدا ڈھانپ لے پردہ تیرا۔ ایسا دانا تو کوئی نہیں کہ آنے والے کل میں ہمیشہ جھانک سکے۔ کبھی نہ کبھی اندازے سبھی کے غلط ہوتے ہیں۔ قرائن یہ ہیں کہ نواز شریف اور زرداری کا زمانہ بیت گیا۔۔۔۔ اور کپتان کے لیے ایک تھوڑی سی مہلت ۔ ہو رہی ہے عمر مثل برف کم /رفتہ رفتہ دھیرے دھیرے دم بدم۔ اقتدار ایک امانت ہے، دولت مندی بھی ایک امانت ہے ، محض نعمت نہیں۔ کھرب پتیوں کو دھن دولت
مزید پڑھیے


پائوں تلے گھاس

جمعه 06  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
مہینوں تک ایک بھی چھٹی نہ کرنے والے آدمی کے پائوں تلے گھاس اگ آئی ہے ۔ وہ بددلی کا شکار ہے ، معلوم نہیں کیوں ؟ مشکلات نہیں بلکہ اندازِ فکر کی خرابی ہوتی ہے ، جو ایک پر عزم آدمی کو اس حال سے دوچار کرتی ہے ۔ 1992ء کے ورلڈ کپ میں پہلے چار میچ ہار کر بھی‘ جس آدمی کو ورلڈ کپ جیتنے کا یقین تھا ،اس کا مایوسی میں مبتلا ہونا حیرت انگیز نہیں؟دونیاں چونیاں مانگ کر شوکت خانم ہسپتال اور نمل کالج جیسے شاہکار جس نے تعمیر کیے۔ نمل کالج بہترین اداروں میں سے ایک
مزید پڑھیے


جیسے شجر سے شاخ پھوٹے!

جمعرات 05  ستمبر 2019ء
ہارون الرشید
محمد علی سے لے کر ٹیپو سلطان اور ٹیپو سے صلاح الدین ایوبی تک، صلاح الدین سے جناب عمر بن عبد العزیزؓ ، جنابِ عمر بن عبد العزیز ؓ سے امام حسینؓ اور امام حسینؓ سے لے کر ان کے نانا ؐتک ،ہماری ساری تاریخ مشعلوں سے جگمگاتی ہے ۔ پلٹ کر ہم انہیں دیکھتے کیوں نہیں ؟ بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نو میدی مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے امریکی تاریخ کے ایک کردار ایڈی ایزی کے بارے میں سوچ رہا تھا ، خیال کی ایک لہر اٹھی کہ وراثت فقط علم کی نہیں‘ حُسن
مزید پڑھیے