ہارون الرشید



روشنی ، اے روشنی!


پروردگار ، اے پروردگار ، روشنی ، اے روشنی! مسافروہاں سے شادکام لوٹا ۔ دور دور تک تناور درختوں سے بھرے نہر کنارے ۔ اس تاج محل کو اسی لیے دیکھنے جاتا ہوں کہ مٹھی بھر حرارت نصیب ہو ۔ رئوف کلاسرہ نے ایک بار کہا تھا:روشنی چاہئیے ، تمہیں روشنی ۔ دھوپ اور تپش تمہیں درکار رہتی ہے ۔ کس کو درکار نہیں ہوتی ؟ تاریکی ولولے کو چاٹ جاتی ہے ۔ دل بجھ جاتا ہے اور امید کم ہونے لگتی ہے ۔ قصور اور لاہور کی سرحد پر ، اخوت یونیورسٹی کالج میں زندگی اور تابناکی ہے ۔ وہ
اتوار 29 دسمبر 2019ء

صحبت

جمعه 27 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
انگریزی کا وہ مشہور محاورہ : کہ آدمی اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ بنتا ہی صحبت سے ہے ۔ خواجہ غریب نوازؒ کا وہی ارشاد! جو کردکھانا چاہتے ہیں ۔ عزم و ارادہ جو رکھتے ہیں ، وہ ثانیہ نشتر کی طرح ہوتے ہیں ۔ جو صرف باتیں بنا سکتے ہیں ، وہ شہریار آفریدی جیسے ، عامر کیانی جیسے ، سیف اللہ نیازی اور نعیم الحق جیسے ۔ کچھ ایسے بھی ہیں ، کچھ کر دکھانے کی توفیق تو کیا ، بات بھی نہیں کر سکتے ، عثمان بزدار جیسے ۔ وزیرِ اعلیٰ
مزید پڑھیے


شام شہر حول

جمعرات 26 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
ایک بات اور بھی کسی درویش نے کہی تھی پروردگار کو کسی لشکر کی ضرورت نہیں ہوئی۔ وہ ایک آدمی کا انتظار کرتا ہے۔ ایک پوری طرح سچے اور نکھرے آدمی کا۔ لشکر اللہ اسے خود فراہم کر دیتا ہے۔ قافلہ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں ہے گرچہ ہیں تابدار ابھی گیسوئے دجلہ و فرات آئندہ برسوں میں بابائے قوم کے بارے میں پڑھا‘ ان لوگوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس جلیل القدر کو جنہوں نے دیکھا تھا‘ ان سے ملے‘ باتیں کی تھیں۔ آزادی کی وہ جنگ لڑی تھی جس کا ثمر پاکستان ہے۔ آزاد وطن جس کی قدر و
مزید پڑھیے


محترم المکرم چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی خدمت میں …!

جمعه 20 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
سرکارؐ کا فرمان یہ ہے : ’’کسی عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے‘‘۔ دل کی گہرائیوں سے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کا احترام ہے۔ اس لئے نہیں کہ وہ ملک کے سب سے محترم منصب پر فائز ہیں بلکہ آپ کے حسن عمل اور حسن تدبیر کے باعث۔ آدمی کو خطا و نسیان سے بنایا گیا ہے۔ سب خطاکار ہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ انداز فکر مثبت ہے یا منفی۔ حسن نیت کی تمنا کتنی ہے۔ جج
مزید پڑھیے


مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے

جمعرات 19 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
جب انا جاگتی ہے تو افراد ہی نہیں ، اقوام بھی اندھی ہو جاتی ہیں ۔ باہمی تصادم دراصل انا کا تصادم ہی ہوتا ہے ۔ ہماری کم ہمتی اور عسرت نے ہمیں مار ڈالا ۔ عرب کو ان کی امارت اور نسلی تفاخر نے ۔ بجھی عشق کی آگ، اندھیر ہے مسلماں نہیں راکھ کا ڈھیر ہے مجبوریاں سمجھ میں آتی ہیں ۔ ایک آدھ نہیں ، بہت سی ہیں ۔ پاکستان ایک بارہ سنگھا ہے ، جس کے سارے سینگھ جھاڑیوں میں الجھے ہیں ۔ احتیاط قابلِ فہم ہے مگر ایک احتیاط سلیقہ مندی سے ہوتی ہے ،
مزید پڑھیے




وقت کا فرمان

منگل 17 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
غور و فکر ہی نہ کیا تو سیکھتے کیا۔ جذبات کی رو میں بہتے چلے جاتے ہیں: رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھیے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں اسد اللہ خان غالب‘ اس جادوگر نے یہ کہا تھا: رگوں میں دوڑنے پھرنے کے ہم نہیں قائل جو آنکھ ہی سے نہ ٹپکے‘ وہ لہو کیا ہے آنکھ سے بھی ٹپکے تو کیا؟ الفاظ نہیں زندگی عمل چاہتی ہے اور عمل سے پہلے تدبر و تفکر۔ فرد یا قوم‘ قوّتِ عمل پھوٹتی ہے‘ قول و فعل میں جب آہنگ ہو۔ قول و فعل یکساں ہو نہیں
مزید پڑھیے


تلمیذ الرحمان

پیر 16 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
تلمیذ الرحمان جو کہیں چھَپتا نہیں مشاعرے میں سُناتا نہیں، جو ابھی کل تک ایک راز تھا اور اب منکشف ہونے والا ہے۔ مکان موجود ہے مگر اپنے شہر میں شاعر نہیں رہتا۔ گائوں میں بھی نہیں۔ کھیتوں میں گھر بنایا ہے۔ چھت پر بیٹھ رہتا ہے۔ سحر جب سانس لیتی ہے۔ چاروں اور پھیلی دھند میں دھیرے دھیرے مناظر جلوہ گر ہوتے ہیں۔ چاروں طرف پھیلی ہریالی میں روشنی جب اپنے تیور بدلتی ہے، سائے جب دراز ہوتے اور گھٹتے ہیں، دور افق میں جب سورج ڈوبتا ہے، تیز ہوا میں جب شاخیں لہراتی ہیں، سحر دم جب پرندے
مزید پڑھیے


خوئے غلامی

جمعه 13 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
اخلاق کی دولت سے معاشرے بہرہ ور ہو ں تو یہی نجات ورنہ آزادی بھی گرفتاری، بنجر زمینوں اور پتھروں پر ابر رحمت سے بھی کچھ حاصل نہیں۔ جمہوریت اور سیاست سے زیادہ اخلاقی تحریک کی ضرورت ہے ، وکالت میں ، صحافت میں ، سیاست میں اور ہر کہیں ، ہر کہیں ۔ لاہور کے وکلا کو فوجی عدالتوں کے حوالے کرنا چاہئیے ۔ سول جج مداوانہیں کر سکتے۔ اس لیے کہ مستقل طور پر ایک دوسرے سے انہیں واسطہ رہتا ہے ۔ اس لیے بھی کہ نچلی سطح کی عدالتیں بہت کمزور ہیں ۔ اتنی کمزور کہ دھڑلے سے
مزید پڑھیے


جامۂ صد چاک

جمعرات 12 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
تذبذب کا ہم شکار ہیں اور یہی بنیادی مسئلہ ۔ یہ جامۂ صد چاک بدل لینے میں کیا تھا مہلت ہی نہ دی فیض ؔکبھی بخیہ گری نے خوف بھی ایک ہتھیار ہے لیکن ہر دوسرے ہتھیار کی طرح اس کو بھی برتنے کے تقاضے ہیں ۔ آدمی کبھی حیوان ہی تھا۔ آج بھی ہر آدمی کے اندر ایک جانور زندہ ہے تب طاقت استعمال کرنی چاہئیے ۔ چھ ہزار برس پرانے شہنشاہ ہمورابی کے پتھر کے جو کتبے ملے ہیں ، ان میں سے ایک پر جو قانون رقم ہے ، ایک آیت کا ہو بہو ترجمہ ہے : ولکم
مزید پڑھیے


فریاد

بدھ 11 دسمبر 2019ء
ہارون الرشید
افسوس، افسوس ، اس معاشرے کے اخلاقی افلاس پہ افسوس! ریاستِ مدینہ کانعرہ اور ظلم کی فراوانی ۔ نگہ کی نا مسلمانی سے فریاد۔خرد کی تنگ دامانی سے فریاد! افراد یا اقوام ، ناکامی اور کامیابی اپنے طفیل ہوتی ہے ۔ فتوحات اور پسپائی بھی ۔ چار ماہ بیت چکے ، مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے ۔اللہ کی کتاب پوچھتی ہے ، تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم ان بچوں اور عورتوں کے لیے نہیں لڑتے ، جو کمزور پا کر دبا لیے گئے ۔ میدانِ جنگ میں ہم اتر سکتے ہیں ۔نہیں اتر سکتے تو کیا دہائی
مزید پڑھیے