BN

ہارون الرشید



ایک سپاہی کی یاد


کیا ہمارے لکھنے والوں نے پاک فوج کے باطن میں جھانکنے کی کبھی زحمت کی ہے؟ کیسا کیسا گوہرِ تابدار ہیروں کی اس کان میں تھا اور اب بھی ہے۔ فاروق گیلانی کے لہجے میں وہ سرشاری تھی، جو ایک دریافت سے جنم لیتی ہے... حیرت اور اشتیاق۔ انہوں نے ایک سبکدوش فوجی افسر کے بارے میں بتایا ''ہم وزارتِ زراعت والے جنگل اگاتے ہیں‘‘ انہوں نے کہا ''ادائیگی مشروط ہے کہ خاردار تارچاروں طرف ہو اور اسّی فیصد پودے سلامت ‘‘۔ بریگیڈیئر صاحب سے انہوں نے پوچھا: کتنے فیصد؟ جواب ملا: سوفیصد۔ حیرت سے انہوں نے سوال کیا کہ
هفته 10  اگست 2019ء

سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

جمعرات 08  اگست 2019ء
ہارون الرشید
آدمی اتناہی پست یا بلند ہوتاہے، جتنا کہ اس کی فکر اور اس کا علم و ادراک۔ اتنا ہی کامیاب یا ناکام، جتنی اس کے خیال کی قوّتِ پرواز۔جس قدر امید، جتنی کہ مایوسی۔ جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا ہر آدمی کسی نہ کسی طرح کے ذہنی غسل سے گزرتاہے۔ ماں باپ، تعلیمی ادارے اور ماحول۔ معاشرے میں مروّج رجحانات۔ زندگی کے اولین برسوں میں رائج روّیوں اور تصورات کا اثر گہرا ہوتاہے۔ زمانہ قدیم کے چینی اپنی خواتین کو لوہے کی جوتیاں پہنایا کرتے کہ ان کے پائوں
مزید پڑھیے


گومگو

اتوار 04  اگست 2019ء
ہارون الرشید
اللہ کی آخری کتاب میں لکھا ہے کہ ہجرت اور جہاد کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے۔ ذہنی طور پر کوئی قوم آزاد ہو جائے تو تادیر اسے غلام نہیں رکھا جا سکتا ۔زنجیریں توڑ ڈالنے کا اہلِ کشمیر نے توتہیہ کرلیا ۔پاکستانی قیادت گومگو کا شکار ہے ۔تاریخ کے چوراہے پر ابھی ششدر کھڑی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی طوفانی یلغار ایسی غیر متوقع تھی کہ اسلام آباد اور راولپنڈی میں سکتہ ساطاری رہا ۔ ابھی ابھی کشمیر کمیٹی کے چئیرمین فخرِ امام سے بات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ بالاخر حکومتِ کا ردّعمل سامنے آیا ہے
مزید پڑھیے


اب اخلاق اور اصولوں کا ماتم کیوں؟

هفته 03  اگست 2019ء
ہارون الرشید
کس دھڑلے سے کل زرداری صاحب نے فرمایا تھا :کسی کے نام پہ جعلی کھاتہ اگر میں نے کھولا ہے تو وہی بے خبر ذمہ دار ہے ‘میں نہیں ۔ اب اخلاق اور اصولوں کا رونا کیا ۔ صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن کی تحریک ناکام ہوئی مگر کس طرح ؟ کوئی دن میں بات کھلے گی ۔ کسی پارٹی نے سودے بازی کی یا معاملات انفرادی طور پر طے پائے ۔ بدھ کی صبح تک حکومت پوری طرح پر امید نہیں تھی ۔ سنجرانی صاحب مایوس تھے اور مستعفی ہونے پر آمادہ ۔ ان سے کہا گیا کہ انتظار
مزید پڑھیے


کشمیر کا مقدمہ کون لڑے گا؟

جمعرات 01  اگست 2019ء
ہارون الرشید
سات لاکھ بھارتی فوج کے حصار میں گھرے کشمیریوں نے قربانیوں کی بے مثال تاریخ رقم کی ہے ۔بے شک ان کا مقدمہ بہت مضبوط ہے مگر یہ کون لڑے گا؟ اس قوم پہ اللہ رحم کرے ، جو خود کو لیڈروں کے رحم و کرم پہ چھوڑ دے ‘ جو تاریخ کے چوراہے پر پڑی سوتی رہے ۔ دس ہزار تازہ دم فوج نریندر مودی نے مقبوضہ کشمیر میں لا ڈالی ہے ۔ وادی میں خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش ہے ۔ گورنر راج تلے سسکتے علاقے میں ریلوے نے سرکلر جاری کیا ہے کہ چار
مزید پڑھیے




وقت کسی سے رعایت نہیں کرتا

جمعه 26 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
رعایت نہیں کرتا،وقت کسی سے رعایت نہیں کرتا۔قدرت کے قوانین اٹل ہیں،اٹل ،دائمی اور ابدی۔فرمایا:اللہ کے طریق کو تم کبھی بدلتا نہ دیکھو گے۔ گو شد و مد سے بھارتیوں نے تردید کر دی ہے ،امریکی صدر کو اصرار ہے کہ مودی نے ان سے کشمیر میں مصالحت کاری اور ثالثی کی درخواست کی تھی ۔بدھ کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف اکنامک ایڈوائزر نے بھارتی پرپیگنڈے کی قلع کھول دی ہے۔انہوں نے کہا ،صدر نے اپنی طرف سے بات نہیں گھڑی۔یہ سوال پوچھنا کہ کیا ایساہوا تھا یا نہیں ،بجائے خود ایک طرح کا گنوار پن ہے۔زیادہ اصرار کیا
مزید پڑھیے


صورتِ حالات

جمعرات 25 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
ہمیشہ عرض کیا کہ سیاست میں سب سے زیادہ اہمیت لیڈروں اور گروہوں کی نہیں ، ابھرتی ہوئی صورتِ حالات کی ہوتی ہے ۔ قرائن یہ ہیں کہ صورتِ حالات اب پاکستان کے حق میں ہے ، عمران خان کے لیے سازگار ہے ۔ کم از کم وقتی طور پراس کا عَلم بلند ہے ۔ ملک کے اندر اور باہر بھی ۔کم از کم فی الحال اپنے حریفوں کو زچ کرنے میں وہ کامیاب ہے ۔میاں محمد نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمٰن کی ترجیح اور تمنا یہ تھی کہ اسے اکھاڑ پھینکا جائے ۔کم از کم کمزور
مزید پڑھیے


آزادی

منگل 23 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
آزادی مگر قانون کی بالاتری بھی ، آزادی مگر ریاست کی تقدیس بھی ، آزادی مگر ڈسپلن ، قومی مفادات اور بے چارگانِ خاک کی حفاظت بھی۔ اگر یہ نہیں تو پھر یہ انارکی کا سفر ہے ، خودشکنی اور خود اپنی تباہی کا سامان ۔ عقل و علم کی جو امانت آدمی کو بخشی گئی ،غلام اس کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ۔ تین صدیوں سے روسو کا جملہ دہرایا جاتاہے ۔ انسان آزاد پیدا ہوا تھا لیکن ہر کہیں زنجیروں میں جکڑا ہے ۔ 1400برس سے اہلِ ایمان عمر فاروقِ اعظمؓ کا قول سنتے اور سناتے آئے
مزید پڑھیے


ترجیحات

اتوار 21 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
فقط ایک لیڈر نہیں ، محض ایک پارٹی بھی نہیں ، ادبار سے نجات کے لیے پوری قوم کو بروئے کار آنا ہوتا ہے ۔ ہر شعبہ ء حیات کو ۔فقط بحث و تمحیص، چیخ و پکار اور گریہ و فریاد سے زندگی نہیں سنورتی ، ادبار نہیں ٹلتا ۔انسانوں کے لیے وہی کچھ ہے ، جس کے لیے وہ ریاضت کریں ، جس کے لیے وہ سرگرمِ عمل رہیں ۔ کیا عمران خان تعمیرِنو کا کارنامہ انجام دے سکتے ہیں ؟ کیا وہ اس معاشرے کو دلدل سے نکال سکتے ہیں ، جہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا
مزید پڑھیے


سردار

هفته 20 جولائی 2019ء
ہارون الرشید
’’سردار‘‘۔۔۔ فارسی کا یہ لفظ کیسے گہرے معانی کا حامل ہے : وہ آدمی جو سر رکھتاہے ۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت جسے عطا ہو ئی ہو ۔ دور اندیشی جس میں پائی جاتی ہے ، جو آنے والے کل کو ملحوظ رکھّے ۔ فرمایا: کلکم راع و کلکم مسئول ۔ تم میں سے ہر شخص حاکم ہے اور ہر شخص جواب دہ ۔ رات گئے لوٹ کر آئے تو مرکزی دروازے پر لکھا تھا "ہم بنیاد رکھنے والے ہیں ، ہم اس بستی کے مالک ہیں ۔‘‘ چند دن ہوتے ہیں ، ہائوسنگ سوسائٹی کے انتخابات ہوئے ۔جیسا
مزید پڑھیے