BN

عبداللہ طارق سہیل



ابوالبرکات وزیر


خاں صاحب نے اسلامک کانفرنس میں خطاب کے دوران سامعین کو ایک سے زیادہ بار مبہوت کر کے اپنی خطابت اور عالمی امور پر اپنی دسترس کی دھاک بٹھا دی۔ فرمایا‘ گولان کی پہاڑیاں واپس فلسطین کو دی جائیں۔ ان کے اس مطالبے پر خاص طور سے شام‘ فلسطین اور اسرائیل مبہوت رہ گئے ہوں گے اور فلسطین کی مبہوتیت کا تو کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا ہو گا۔ غنیمت ہے کہ وہ عرب امور پر چند فقرے کہہ کر آگے بڑھ گئے ورنہ وہ یہ مطالبہ بھی کر سکتے تھے کہ ترکی مقبوضہ بیت المقدس کو خالی کر کے
منگل 04 جون 2019ء

مثالی کفایت شعاری

پیر 03 جون 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
چیئرمین نیب کی آڈیو ویڈیو کلپس نشر ہونے کے بعد یوں لگا تھا کہ بہت طوفان مچے گا لیکن دو چار دن کی پریس کانفرنسوں‘ بیانات اور تجزیہ کاریوں کے بعد خاموشی چھا گئی ہے یہاں تک کہ خود انہیں بھی خاموشی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ کہاں وہ دن کہ ہر آئے دن پریس کانفرنس کرتے تھے‘ اپوزیشن کو للکارتے تھے اور نہیں چھوڑوں گا کا طرح مصرع اپنے سروں میں الاپتے تھے اور کہاں یہ دن کہ اتنے دن ہو گئے۔ عوام کو ان کے غزل سرا ہونے کا انتظار ہے۔ ہر کوئی کہتا ہے کہ
مزید پڑھیے


دعائے خلیل ؑ

جمعه 31 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
وداعِ رمضان ہے۔ گنتی کے چار پانچ روزے رہ گئے۔ دنیا بھر کی مسجدیں پہلے سے زیادہ پرہجوم ہیں اور سب سے زیادہ رونق حرمین میں ہے۔ کیا مسجد حرام اور کیا مسجد نبوی‘ اللہ کے خوش قسمت بندوں سے بھری ہوئی ہیں۔ کل ایک ویڈیو مسجد حرام کی دیکھی لیکن خیال مسجد سے باہر کی سرزمین کی طرف چلا گیا کہ کعبتہ اللہ کے قیام کے لئے اس سرزمین کا انتخاب بجائے خود ایک معجزہ نمائی ہے۔ آج بھی مکہ مکرمہ سے باہر کا سارا علاقہ‘ دور دور تک بنجر اور خشک ہے‘ ماضی میں تو اس کے ویران
مزید پڑھیے


ایسی ستھرائی…!

جمعرات 30 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
چند روز پہلے جیل میں نواز شریف سے حضرت ناصح کے جس خصوصی نمائندے کی بات ہوئی تھی‘ اس نے خصوصیت کے ساتھ جو مشورے دیے تھے ان میں سے یہ ایک’’بالخصوص‘‘ مشورہ تھا کہ کٹھ پتلی صاحب پر تنقید نہ کی جائے اور کی جائے تو ’’ھولا ہتھ ‘‘ رکھا جائے لیکن مریم نواز نے یوم تکبیر پر جو خطاب کیا‘ اس سے لگتا ہے کہ حضرت ناصح کے پند نامے کو چنداں وقعت نہیں دی گئی۔ مریم نے نہ صرف کٹھ پتلی صاحب کو آڑے ہاتھوں لیا بلکہ انہیں ’’تم‘‘ کہہ کر بھی مخاطب کیا۔ دیکھیے اب ’’پردہ
مزید پڑھیے


سبک سر ہو کے پھر پوچھو…!

بدھ 29 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
یوم تکبیر پر جیل میں قید سابق وزیر اعظم نواز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ وہ عوام کے آئینی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ یعنی موصوف کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ اچھا ہے تو پھر یونہی سڑتے رہیے جیل میں، اطلاع ہے کہ چند روز پہلے حضرت ناصح نے ایک اہم ایلچی جیل بھیجا جو مبلغ 45منٹ تک نواز شریف کو اپنے پندونصائح کا نشانہ بناتا رہا کہ میاں اب بھی وقت ہے، سدھر جائو، دوچار سال برطانیہ کے ٹھنڈے موسم کے مزے لو، کیوں جون جولائی کی گرمیوں میں بے حال ہونے
مزید پڑھیے




وڈیوراما

منگل 28 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
یہ ہفتہ تو چیئرمین نیب کے حوالے سے چلنے والی خبروں میں گزرا۔ شروعات ان آڈیو اور ویڈیو کلپس سے ہوئی جو ایک انصاف پسند ٹی وی چینل نے چلائیں۔ کلپس تحیّرخیز تھے اور ہوشربا بھی۔ تھوڑی ہی دیر بعد انصاف پسند چینل پر جانے کیا آفت نازل ہوئی کہ اپنی ہی چلائی ہوئی خصوصی نشریات کو جھوٹا اور بے بنیاد قرار دے دیا۔ میڈیا کی تاریخ کا یہ بھی ایک انوکھا باب تھا۔ ہو شربا تو نہیں البتہ تحیر خیز ضرور۔ مسلم لیگ نے مطالبہ کیا کہ معاملے کی تحقیقات کرائی جائے۔ ابھی یہ مطالبہ پوری طرح نشر بھی نہیں
مزید پڑھیے


امن کی امید

پیر 27 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
نریندر مودی کو اپنی مرضی کا بھارت بنانے کے لئے مطلوبہ اکثریت مل گئی۔ زیادہ تر اندازے تو یہی تھے کہ الیکشن بی جے پی ہی جیتے گی لیکن اکثر کا خیال تھا کہ پہلی جیسی اکثریت نہیں ملے گی اور مودی ایک کمزور مخلوط حکومت بنائیں گے لیکن انہیں تو شاید اپنی توقع سے بھی زیادہ سیٹیں مل گئیں اور کانگریس مزید پیچھے چلی گئی۔ اکیلی بی جے پی نے 543 کے ایوان میں تین سو سے زیادہ سیٹیں لے لی ہیں۔ اتحادیوں کو ملا کر 350سے بھی زیادہ۔ عام خیال یہی ہے کہ وہ آئینی ترمیم کر کے
مزید پڑھیے


سچ تو یہی ہے

جمعه 24 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
چیئرمین نیب پریشانیوں کے بھنور میں ہیں۔ ان کے ضعیف الاندام کندھوں پر بقول خود انہی کے حکومت کو گرنے سے بچانے کی بھاری ذمہ داری ہی کیا کم تھی کہ متنازعہ انٹرویو پر تردیدی وضاحتوں اور وضاحتی تردیدوں کے چکر میں پھنس گئے۔ یگانہ نے کہا تھا، کہ خدا بنے تھے یگانہ مگر بنا نہ گیا۔ زندگیوں اور موت کے فیصلے بھی کرنے نکلے تھے کہ ہاتھ پاؤں مارنے کی نوبت آ گئی۔ اِدھر اُدھر سے یہ خبریں بھی ان تک پہنچ رہی ہیں کہ نیب کے کارندے یہاں وہاں کے شہروں میں الیکٹرانک کی دکانوں پر بھی
مزید پڑھیے


ٹرمپ کا دعویٰ

جمعرات 23 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
کیکڑا ون کے معاملے میں ایک معمہ کئی دن سے لاینحل پڑا ہے۔ یہاں اس بات پر کوئی بحث نہیں کہ کھدائی سے کچھ کیوں نہیں نکلا۔ وہ تو تقدیری امر ہے ملک کا ستارہ اس کی کرنسی کی طرح گردش میں ہے۔ گھاٹے کا ایک لامتناہی سفر ہے جو 2014ء میں لانچ کئے جانے والے ایڈوانچر کے منطقی تقاضوں کو پورا کرتا ہوا آگے بڑھ رہا ہے۔ یہاں اور سوال ہے اور وہی سوال معمہ بنا ہوا ہے۔ جس روز کھدائی کا عمل بند کیا گیا اسی سہ پہر وزیر اعظم کو رپورٹ دے دی گئی تھی کہ کچھ نہیں ملا۔
مزید پڑھیے


دامن تو بے داغ ہے

بدھ 22 مئی 2019ء
عبداللہ طارق سہیل
لیجئے جناب رمضان کا آدھا مہینہ گزر گیا۔ خوش خوراک، دیسی مرغیوں کے شوقین حکمرانوں نے مڈل کلاس روزہ داروں سے افطار چھین لی۔ انہیں فروٹ چاٹ بنانے سے روک دیا، ان سے لیموں پانی بھی چھین لیا۔ روزہ نمک سے کھولنا بھی سنت ہے، ہرن کی مسلم بھنی ہوئی رانیں کھانے کے رسیا حکمرانوں نے کھجوریں اتنی مہنگی کر دی ہیں کہ بہت سے لوگوں کو بھولی بسری سنت زندہ کرتے ہی بنی۔ چلئے، سنت کو زندہ کرنا ازحد ثواب کا کام ہے اور بلا شبہ اس کا ثواب حکمرانوں ہی کو جائے گا۔ ان گنت لوگ تو خود
مزید پڑھیے