BN

مجاہد بریلوی



میاں صاحب کا سیاسی سفر


جس وقت یہ تحریر آپ کے ہاتھ میں ہوگی دعا گو ہوں اور خواہش رکھتا ہوں کہ اُس وقت تک ہمارے تین بار منتخب ہونے والے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف لندن کے لئے محو ِ پرواز ہوچکے ہوں گے،یا حکومت سمیت تمام متعلقہ اور مقتدر ادارے اُن کی روانگی کے بارے میں ایک پیج پر آچکے ہوں گے۔ہمارے میاں نوا ز شریف اِ س وقت پاکستانی سیاست کے سب سے متنازعہ کردار بن گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آج اُن میں اور بانی ِ پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو میں مجھے بڑی مماثلت نظر آرہی ہے
هفته 16 نومبر 2019ء

وزیر اعلیٰ سندھ سے ملاقات

بدھ 13 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے اس بار ایک طویل عرصے بعد ملاقات ہوئی۔گھنٹے دو کی ملاقات میںان کے ساتھ روٹی بھی کھائی۔۔ ۔ اور یہ روٹی قطعی وزرائے اعلیٰ کے پر تعیش کھانوں کی طرح نہ تھی نہ سندھی بریانی،یہ سری پائے ،نہاری، نہ تین چار قسم کی دال سبزی اور نہ ہی میٹھے میوہ جات۔ مگر ہاں، اس دوران جو پر تکلف آف دی ریکارڈ گفتگو ہوئی،وہ یقیناروح کی غذا کی تھی۔اب اس آف دی ریکارڈ پہ بھی سن لیں کہ ہمارے ایک بہت باخبر رپورٹر کی یہ خبر پڑھنے
مزید پڑھیے


بند گلی۔۔۔

هفته 09 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
ہمارے حضرت مولانا فضل الرحمٰن نے جب گزشتہ ماہ اسلام آباد کی جانب مارچ اور وزیر اعظم کے مستعفی ہونے تک دھرنا دینے کا اعلان کیا تھا تو ،’’حضرت مولانا ‘‘ اور ان کے حامیوں نے ، تحریک انصاف کی حکومت نے،حتیٰ کہ حکومت سے انتقام لینے میں جلتی ،سلگتی پاکستان پیپلز پارٹی ، ن لیگ کی قیادت نے بھی اسے سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔میڈیا کے سرخیل بھی یہی تاثر دے رہے تھے کہ حضرت مولانا مدارس، طلبہ اور علماء ، پنڈی ،پشاور ،لاہور سے ہزار،دس ہزار کے جتھوں میں اسلام آباد میں داخل ہونے کی کوشش کریں
مزید پڑھیے


ہنوز اسلام آباد

بدھ 06 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
’’دہلی کے نظام الدین اولیاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک جملہ ’ہنوز دلی دور است‘ کہا تھا۔جس میں ان کا اشارہ ایک حکمراں کی جانب تھا جو نظام الدین اولیا ء کو سبق سکھانے کے لئے دِلّی آنا چاہتا تھا۔اس حکمراں کو دلی آنے سے پہلے ہی قتل کردیا گیا۔میں دعا کرتا ہوں ہم اور ہمارا شہر تباہی سے بچا رہے۔‘‘ برصغیر پاک و ہند کے عظیم لکھاری اور صحافی خشونت سنگھ کی یہ تحریر 92نیوز کے میگزین میں پڑھتے ہوئے بے ساختہ اسلام آباد میں حضرت مولانا کے مارچ کی طرف خیال
مزید پڑھیے


ذرا لندن سے …(2)

هفته 02 نومبر 2019ء
مجاہد بریلوی
پچھلے کالم کے اختتام پر لکھا تھا کہ ’’عزیزو ،برسوں پہلے ڈاکٹر جانسن کا یہ مقولہ سُنا تھا کہ ۔ ۔ ۔ ’’جو زندگی سے بیزا ر ہو، وہ لندن آجائے۔ ۔ ۔ ‘‘ اس پر کسی نے یہ جملہ دیا کہ ۔ ۔ ۔ ’’اوراگر کوئی لندن سے بیزار ہو جائے تو؟‘‘ ۔ ۔ ۔ جواب آیا۔ ۔ ۔ ’’ تواس کا مطلب وہ زندگی سے بیزار ہے۔‘‘ سو پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ ۔ ۔ کہ اسکرین سے پیٹ لگنے کے سبب جو وطنِ عزیز میں شب و روز سیاست میں گذرتے
مزید پڑھیے




ذرا لندن سے ۔ ۔ ۔

بدھ 30 اکتوبر 2019ء
مجاہد بریلوی
لندن میں ہیتھرو ایئر پورٹ سے اترتے ہی میرے مستقل میزبان بیرسٹر صبغت اللہ قادری نے اپنے مخصوص انداز میں جملہ کہتے ہوئے کہا۔ ۔ ۔ ’’لگتا ہے’این آر او‘ ہوگیا،جبھی آپ لانگ مارچ کے بیچ ہنگام میں ’فیض میلے ‘ میں شرکت کے لئے آگئے۔‘‘ایئرپورٹ سے بیرسٹر قادری کی دریائے ٹیمز کے پہلو سے لگی رہائش گاہ کاکوئی گھنٹے بھر کا فاصلہ ہے۔۔ ۔ اب دریائے ٹیمز کا زبان پر نام آہی گیا ہے تو منفرد لہجے کے شاعر مصطفی زیدی کے اس شعر سے کیسے گُریز کیا جائے ۔ ۔۔ہئے ہئے! ساحلِ ٹیمز میں سنگم کا
مزید پڑھیے


مولانا کا مارچ……(4)

هفته 26 اکتوبر 2019ء
مجاہد بریلوی
ایک طرف تو حضرت مولانا کا لانگ مارچ اسلام آباد کی جانب بڑھ رہا ہے اور جس نے وزیر اعظم عمران خان کی حکومت کی تمام تر دھمکیوں ، تمام تر مذاکرات کی دعوتوں اور رکاوٹوں کے باوجود آگے ہی کی جانب رواں دواں ہے۔ تو دوسری جانب مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز شریف کی صحت کے بارے میں جوتشویشناک خبریں آرہی ہیں،وہ بھی حکومت کے لئے کم پریشانی کا باعث نہیں۔مسائل تو معاشی حوالے سے بھی ہیں اور خارجہ،خاص طور پر کشمیر کے حوالے سے ۔ لیکن اس وقت وزیر اعظم عمران
مزید پڑھیے


معذرت کے ساتھ

بدھ 23 اکتوبر 2019ء
مجاہد بریلوی
’’جوڈیشری کو ججوں کی بے صبری ، جلد بازی اور تکبر سے خطرہ لاحق ہوتا ہے۔‘‘ یادداشت پر زور ڈالنے کے باوجود نام یاد نہیں آرہا ، مگر دو ہزار سات کی چودھری کورٹ بحالی کی تحریک کے دوران کسی ممتاز ماہر قانون نے عدلیہ کے حوالے سے جن تین خطرات کی نشاندہی کی تھی، وہ برسوں بعد بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔بے صبری، جلد بازی اور تکبر۔۔معذرت کے ساتھ، ان دنوں ایک فاضل جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف ریفرنس پر اس طرح آسمان سر پر اٹھایا گیا ہے کہ اس پر حیرت ہوتی ہے۔ انصاف کے طالبوں
مزید پڑھیے


مولانا کامارچ ……(4)

هفته 19 اکتوبر 2019ء
مجاہد بریلوی
جس ایک ’محرک‘کا میں نے ذکر کیا وہ ’’پنڈی ‘‘ہے کہ بہرحال سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے جانے کے بعد بحیثیت ایک ادارہ ’پنڈی‘ کے سارے بڑے جہاندیدہ ایک انسٹیٹیوشن کی حیثیت سے یہ فیصلہ کرچکے ہیںکہ وہ کسی بھی سیاسی بحران کی صورت میں پارٹی تو کیا امپائر بھی نہیں بنیں گے۔2014ء میں ہمارے خان صاحب کا دھرنا اُس موڑ پر آچکا تھا کہ بس ایک ’’امپائر‘‘کی انگلی بلکہ چھڑی ہلنے کی دیر تھی ۔یقینا اول تو حضرت مولانا کا مارچ ابھی گھٹنوں گھٹنوں چلاہے۔یوں اسلام آباد کا تخت اُس سے کوسوں دور ہے ۔پھر نظام ِ مصطفی
مزید پڑھیے


مولانا کا مارچ …(3)

بدھ 16 اکتوبر 2019ء
مجاہد بریلوی
حضرت مولانا فضل الرحمٰن کے لانگ مارچ کی countdownیعنی بہ زبان اردو گنتی شروع ہوگئی ہے۔جس وقت آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہونگے ۔ ۔ ۔ آگے محض دس دن رہ جائیں گے۔تمام تر اندرون اور معتبر ذرائع کے مطابق بیرون دباؤ کے باوجود حضرت مولاناڈٹے ہوئے ہیں،کہ تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے سارے ملک کے شہروں سے اُن کے حامی لانگ مار چ کرتے ہوئے 31اکتوبر کو اسلام آباد پر دھاوا بولیں گے۔حضرت مولانا کی قابل رشک صحت پر تو بہر حال داد دینی پڑتی ہے کہ صبح کوئٹہ میں ہوتے ہیں ،شام اسلام آباد اور پھر اُسی شب
مزید پڑھیے