BN

مجاہد بریلوی



بھائی پھر بچ گئے۔۔۔2


متحدہ قومی موومنٹ کے بانی کی متکبرانہ سیاست بلکہ دہشت اور پھر اس کے ٹوٹنے اور بکھرنے پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔پھر یہ بھی اپنی جگہ حقیقت ہے کہ بعد کے برسوں میں جب متحدہ قومی موومنٹ نے بلدیاتی اداروں اور سندھ میں مخلوط حکومتوں میں جو برسہا برس راج کیا ۔۔۔تو اس سے پاکستان کا سب سے بڑا شہر کراچی ،لاہور نہ بھی بنتا تو کم ا ز کم 70کی دہائی کا کراچی تو رہتا۔ہاں ایک میئر مصطفی کمال کے دور میں ضرور کراچی کا چہرہ نکھرا ۔مگر آج جو یہ شہرِ ناپرساں بنا
بدھ 19 جون 2019ء

بھائی پھر بچ گئے

هفته 15 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
پاکستان کے معتبر انگریزی اخبار کے میٹرو پیج پر چھ کالمی تصویر کے ساتھ یہ کیپشن لگا تھا ’’یہ تصویر 12جون2014کی ہے جب پہلی بار لندن میں منی لانڈرنگ کے الزام میں بانی متحدہ کی گرفتاری کی خبر آئی تو شہر کی مرکزی شاہراہ فیصل ہُو کا عالم پیش کر رہی تھی۔۔۔اور صرف تین سال بعد 11جون کی صبح جب بانی متحدہ کی گرفتاری کی خبر آئی تو اسی شاہراہ پر ٹریفک بمپر ٹو بمپر چل رہی تھی‘‘۔جلاؤ گھیراؤ تو دور کی بات کسی کی نکسیر بھی نہیں پھوٹی ۔محاورے کی زبان میں ان تین برسوں میں پلوں کے
مزید پڑھیے


مگر مچھ کے آنسو۔۔۔3

بدھ 12 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
سویلین کپڑوں میں جو بھی اقتدار میں بیٹھا ہے یا اُس کا خواہشمند ہے ۔ ۔ ۔ اُسے سب سے پہلے اُن کے حضور سجدہ ریز ہو کر حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینا لازمی شرط ہوگا۔یہ لیجئے ، میں بھٹکتا ہوا آگے نکل گیا۔ذکر وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور اقتدار کا تھا کہ جس میں’’صدر‘‘لانا ان کا جمہوری حق تھا مگر ’’عدلیہ‘‘ میں انہوں نے براہ راست مداخلت کر کے ایک بار پھر معذرت کے ساتھ خود اپنے اقتدار کے تابوت میںپہلی کیل ٹھونکی۔ ۔ ۔ سینارٹی کے اعتبار سے محترم جسٹس سجاد جان کو چیف
مزید پڑھیے


مگر مچھ کے آنسو۔ ۔ ۔ 2

اتوار 09 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
سیاسی جماعتوں کی قیادت کے وقت کے ساتھ موقف کی تبدیلی کو محاورے کی زبان میں ’’مگر مچھ کے آنسو‘‘کہہ تو بیٹھا ۔ ۔۔مگر برصغیر پاک و ہند میں یہ چلن کوئی نیا تو نہیں۔ہاں مگر مہذب ترقی یافتہ جمہوری ملکوں میں کم از کم ’’عدلیہ‘‘ایک ایسا ضرور مقدس ادارہ ہوتا ہے جس سے یہ توقع کی جاتی ہے اور جس کے آئینی ہی نہیں اخلاقی فرائض میں بھی شامل ہے کہ وہ سیاست دانوں کی طرح رنگ نہ بدلے۔بات عدلیہ کے حوالے سے محترم جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف حکومتی ریفرنس سے شروع ہوئی تھی جو اب
مزید پڑھیے


مگر مچھ کے آنسو

بدھ 05 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
’’ججز کے خلاف ریفرنسز ٹارگٹ کلنگ ہیں‘‘۔ ۔ ۔ واہ وا! ’’ حکومت جمہوریت پسند ججوں کو فارغ کرنا چاہتی ہے۔‘‘سبحان اللہ! اپریل 2018ء میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی بر طرفی اور پھر جولائی 2018ء کے بعد زرداریوں کے جلسوں، ریلیوں ،اخباری بیانوں اور اسکرینوں پر ’’عدلیہ ‘‘ کے خلاف موشگافیوں کو اگر ترتیب دیا جائے تو فائلوں کے انبار چھتوں کیا،آسمان کو چھولیں۔مگر ایک جسٹس قاضی فائز عیسیٰ دوسرے جسٹس آغا کے خلاف حکومت نے دو ریفرنسز کیا دائر کئے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی ساری بریگیڈ ’’عدلیہ‘‘ کی سربلندی اور تحفظ کے
مزید پڑھیے




اور اب فوج میں بھی احتساب

هفته 01 جون 2019ء
مجاہد بریلوی
یقینا اسے قابل ِ ستائش اور تحسین ہی قرار دیا جائے گا کہ افواج ِ پاکستان کے ترجمان جنرل آصف غفو ر نے اسکرینوں پر لائیو سینئر اور اہم عہدوں پر فائز فوجی افسران کو عمر قید اور سزائے موت جیسی کڑی سزائیں دے کر وہ سارے منہ بند کردئیے ہیں جن کا یہ بیانیہ ہوا کرتا تھا کہ صرف سیاستدان ہی قابل گردن زدنی کیوں قرار دئیے جاتے ہیں۔موضوع حساس بھی ہے ، اور ایک طول طویل تاریخ میں بھی لے جاتا ہے۔ماضی میں بھی اعلیٰ فوجی افسرا ن کی ایک پوری تاریخ ہے جو ملازمتوں سے سبکدوش
مزید پڑھیے


اب صاحبِ انصاف ہے خود طالب ِانصاف

بدھ 29 مئی 2019ء
مجاہد بریلوی
نیشنل اکاؤنٹیبلٹی بیورو یعنی نیب کے چیئرمین جسٹس (ر)جاوید اقبال سے منسوب اسکینڈل کے شوروغل سے اسلام آباد کے مقتدر اداروں کی چھتیں اڑ گئی ہیں۔ہر چند کہ بہت کچھ آچکا ہے۔مگر اسلام آباد کے سیاسی پنڈت کہہ رہے ہیںکہ ’’ابھی بہت کچھ آنا باقی ہے‘‘۔ اس بات میں قطعی دورائے نہیں کہ ہرشخص کی اپنی ایک ذاتی زندگی ہوتی ہے۔کنوارا ہو کہ شادی شدہ۔بھلے قبر میں ہی پیر لٹکے ہوں۔لیکن سیاست بڑی سفاک ہوتی ہے۔مخالفین انتقام کی آگ میں بہت دور تک چلے جاتے ہیں۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ آگ ان کے اپنے دامن تک بھی
مزید پڑھیے


?Is Party Over

هفته 25 مئی 2019ء
مجاہد بریلوی

  پاکستانی سیاست میں یہ اصطلاح بھٹو صاحب کے دور میں آئی تھی ۔اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے موجد وہ خود تھے۔جب مارچ1977ء کی قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان قومی اتحاد کی تحریک کا سرپرست امریکہ بہادر کو قرار دیا تھا۔ سرکاری ٹی وی پر براہ راست خطاب کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کے دو افسران کی گفتگو کا حوالہ دیا ۔جس میں ایک امریکی افسر ،دوسرے افسر سے پر جوش لہجے میں کہہ رہا تھا کہ "Party is over, party is over"

بھٹو صاحب نے قومی اسمبلی میں اپنے ڈیسک پر زوردار مکہ
مزید پڑھیے


Is Party Over? (2)

بدھ 22 مئی 2019ء
مجاہد بریلوی
ٰ اِدھر کوشش کے باوجود ممکن نہیں ہوپا رہا کہ جس موضوع کو چھیڑا جائے اُسے ایک ہی کالم میں سمیٹ لیا جائے۔اب ، ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے اپنی پہلی ٹیم یعنی وزرائے کرام،مشیران کرام اور معاونین کے بیٹنگ آرڈر میں تبدیلی کرتے ہوئے۔ ۔ ۔ جس طرح ماضی کے ہر سویلین، فوجی حکومت کے گھاٹ گھاٹ کا پانی پینے والے روایتی امیر زادوں کو اپنی ٹیم یعنی وزرائے کرام،مشیرانِ کرام لگا کر اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کو نکالا یا تبدیل کیا ہے۔ ۔ ۔ اُس پر تو پھر تفصیل سے ان کے کوائف دینا ضروری
مزید پڑھیے


?Is Party Over

هفته 18 مئی 2019ء
مجاہد بریلوی
مارچ 1977ء کے الیکشن میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد جب قائد عوام ذوالفقار علی بھٹونے سرکاری ٹی وی پر اپنی کرسی پر زور دار ہاتھ مارتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میری کرسی مضبوط ہے،Party is not over۔تو اس وقت اپوزیشن اتحاد پی این اے کے مستقل حامیوں سے سارے ملک کے شہر دہل رہے تھے۔پی این اے کی بھٹو مخالف تحریک میں اندرون سے زیادہ بیرون ملک خاص طور پر امریکہ بہادر نے خاص طور پر سی آئی اے کے ذریعے کھلی مارکیٹ میں کس طرح بڑے پیمانے پر ڈالروں کے ڈھیر لگادئیے۔اس پر بہت کچھ
مزید پڑھیے