BN

ڈاکٹر طاہر مسعود


قائد اعظم اور پاکستان : دو معجزے


مختار مسعود نے ’’آواز دوست‘‘ میں لکھا ہے کہ کسی قوم کو بڑی شخصیتیں انعام کے طور پر قدرت عطا کرتی ہے اور سزا کے طور پر روک لی جاتی ہیں۔ انیسویں صدی اور وسط بیسویں صدی میں کیسی کیسی نابغۂ روزگار ہستیاں مسلمانوں میں پیدا ہوئیں‘ ان کے ناموں کی فہرست ہی مرتب کی جائے تو سوچنا اور یاد کرنا پڑے گا۔ آج صورت یہ ہے کہ زندگی کے جس شعبے میں دیکھو قد آور شخصیات کا کال ملے گا۔ اسے مختار مسعود نے قط الرجال سے تعبیر کیا ہے۔ محمد علی جناح جنہیں ان کی قوم قائد اعظم
جمعه 28 دسمبر 2018ء

دسمبر کے زخم

پیر 24 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
دسمبر اب رخصت ہونے کو ہے مگر وہ زخم بھرنے کا نام نہیں لیتے جو اس ماہ کے آتے ہی قلب و ذہن پہ ہرے ہو جاتے ہیں۔ مشرقی پاکستان سے بنگلہ دیش بننے کا سفر کتنا درد بھرا اور جانگسل ہے۔ کتنی ہی کتابیں لکھ دی جائیں‘ کتنے ہی مضامین اور کالموں کے کالم سیاہ کر دیے جائیں مگر یہ زخم جو سولہ دسمبر کو لگا تھا کبھی نہیں بھرے گا۔ میں نے اسی ناپرساں زمین پر آنکھ کھولی‘ میٹرک تک کی تعلیم وہیں پائی۔ لکھنے پڑھنے کا شوق وہیں پروان چڑھا اور 23مارچ 1971ء کا ملٹری آپریشن اور
مزید پڑھیے


کچھ پہلو تعلیم اور تعلیمی اداروں کے

جمعرات 20 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
موجودہ نظام تعلیم کا ایک بڑا نقص یہ بتایا جاتا ہے کہ اس میں تعلیم پر زور ہے اور تربیت کا فقدان ہے۔ ساتھ ہی تعلیم کے ضمن میں یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ اس میں اصرار حافظے پر ہے اور طلباء و طالبات کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر نہیں کیا جاتا۔ ہر چند کہ حافظہ بھی ذہانت کا حصہ ہے لیکن صرف حافظے پر زور دینا تعلیم کی مجموعی افادیت کو متاثر کرتا ہے۔ نئی حکومت پورے ملک میں ایک نصاب کو رائج کرنے کے لئے فکر مند ہے۔ لیکن ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ محض نصاب
مزید پڑھیے


کچھ گزارشات وزیراعظم سے

پیر 17 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
ایک نئی نویلی منتخب حکومت کو عوام کی نظروں سے گرانے اور اسے غیرمقبول بنانے کے لیے جو کچھ کیا جا سکتا ہے، وہ سب ہورہا ہے۔ کبھی ڈالر کی قیمت بڑھا کر اور کبھی کسی اور طریقے سے۔ بلاشبہ نئی حکومت نا تجربہ کار ہاتھوں میں ہے لیکن اس حکومت کے ارادے نیک ہیں اور یہ ملک کو بدلنے کا عزم لے کر آئی ہے۔ اس نے پرانے اور فرسودہ نظام کی جگہ ایک نیا عادلانہ اور عوام دوست نظام لانے کی نیت کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کیا ہے۔ اربوں روپوں سے تعمیر کئے ہوئے پرائم منسٹر
مزید پڑھیے


باتیں شیخ صاحب کی

جمعرات 13 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
شیخ رشید مزے کے آدمی اور مزیدار سیاست دان ہیں۔ جب بولتے ہیں تو کھل کر بولتے ہیں اور جو کچھ کرتے ہیں ڈنکے کی چوٹ پر کرتے ہیں۔ اپوزیشن میں ہوں تو پروفیسر گوگیا پاشا کی طرح ایسی ایسی پیش گوئیاں کرتے اور وہ دور کی کوڑی لاتے ہیں کہ سننے اور دیکھنے والے اش اش کر اٹھتے ہیں۔ خاموش رہنا تو انہیں آتا ہی نہیں اور بہت زیادہ سوچنے سمجھنے کے وہ قائل نہیں۔ زمانہ طالب علمی ہی سے سیاست ان کے گھر کی لونڈی ہے اور بقول یوسفی وہ سلوک بھی اس کے ساتھ ویسا ہی کرتے
مزید پڑھیے



ایک فکر انگیز کتاب

پیر 10 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
خورشید احمد ندیم سے ملاقات سے قبل ہی میں ان سے واقف تھا۔ کچھ تو ٹیلی وژن کے پروگراموں کے حوالے سے اور کچھ ان کے کالموں کی وجہ سے۔ ان کی شخصیت کا بہت عمدہ تاثر میرے قلب و ذہن پہ مرتسم تھا۔ پھر ان سے ملاقات ڈاکٹر شکیل اوج کے توسط سے ہوئی۔ میں نے انہیں ایک سنجیدہ باوقار لیکن شگفتہ مزاج پایا۔ جو لوگ سنجیدہ مزاج ہوں‘ ساتھ ہی علم سے گہرا لگائو‘ بالعموم ان کی شخصیت میں ایک قسم کی پیوست اور خشکی سی پائی جاتی ہے۔ اپنی ذات کی بابت حساسیت سی ہوتی ہے۔ کوئی
مزید پڑھیے


تذکرہ پرانے کالم نگاروں کا

هفته 08 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
گزشتہ روز خاور نعیم ہاشمی کے کالم میں ابراہیم جلیس کا تذکرہ پڑھ کر ابن انشاء یاد آ گئے۔ وہ بھی کیا زمانہ تھا جب آسمان اردو صحافت پر ایک سے بڑھ کر ایک کالم نگار ستاروں کی طرح جگمگاتے تھے۔ نصراللہ خاں ‘ مجید لاہوری‘ شوکت تھانوی ‘چراغ حسن حسرت‘ عبدالمجید سالک‘ انعام درانی اور دوسرے بہت سے۔ ان ہی میں سب سے روشن نام ابن انشاء کا تھا‘فکاہیہ کالم نگاری کا ایک تابندہ ستارا کہتے ہیں انہیں ‘کالم لکھنے کے لئے سوچنا نہیں پڑتا تھا۔ قلم اٹھایا اور لکھتے چلے گئے۔ اردگرد دوستوں کی محفل جمی ہے۔ چائے
مزید پڑھیے


سیاست اور اثاثوں کا کھیل

بدھ 05 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
وطن عزیز میں جتنے شوق لوگ پالتے ہیں، ان میں مہنگا ترین شوق سیاست کا ہے۔ غریب غربا تو رہے ایک طرف متوسط اور اعلیٰ متوسط طبقے کے باصلاحیت افراد بھی اس شوق کے متحمل نہیں ہو پاتے۔ الاّ یہ کہ وہ اپنی صلاحیت کوپارٹی لیڈر کے پاس رہن رکھوادیں اور اس کے عوض پارٹی لیڈر ان کے گھرانے کے لیے دال دلیے کا مستقل بندوبست کردے۔ کچھ کا خیال ہے کہ سیاست شوق نہیں، ایک کاروبار ہے۔ ایک ایسا کاروبار جس میں سرمایہ کاری کرنی پڑتی ہے، ریٹرن بعد میں اسی لحاظ سے مل جاتا ہے۔ وہ زمانہ لد
مزید پڑھیے


کمیشن برائے اصلاحِ پولیس

پیر 03 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب ثاقب نثار بیانات دینے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔ ان کا فقرہ ایسا چست ہوتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے واہ واہ اور جس پر فقرہ جا کے لگتا ہے وہ آہ آہ کر کے رہ جاتا ہے۔آج کے اخبار میں انہوں نے پولیس کو اپنا مشق سخن بنایا ہے۔ فرمایا کہ پولیس کو شرم آنی چاہیے کہ گالیاں کھا کر بھی بدمعاشوں کی طرف داری کرتی ہے۔ ہماری پولیس تو ویسے ہی اپنی سست اور ناقص و خواب کارکردگی کی وجہ سے بدنام ہے۔ اسے کچھ بھی کہہ دیجیے اس کی
مزید پڑھیے


نئی دوستی، نئے تقاضے

هفته 01 دسمبر 2018ء
ڈاکٹر طاہر مسعود
کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھ جانا پاک ہند تعلقات کا اصولاً نیا موڑ ہونا چاہیے لیکن ایسا تو اسی وقت ہو گا جب مخصوص ہندوانہ ذہنیت بتدریج تبدیل ہوگی۔ اس ذہنیت کا سب سے بڑا مسئلہ تنگ نظری اور بدترین عصبیت ہے۔ جسے احساس کمتری نے جنم دیا ہے۔ تاریخی حقیقت تو یہی ہے کہ 1857ء کی جنگ آزدی مسلمانوں اور ہندوئوں نے مل کر لڑی تھی لیکن شکست کے بعد بہ قول سرسید ہندو گنگا جل میں نہا کر پوتر ہو گئے اورانتقام کا سارا ملبہ مسلمانوں پر آ گرا اور انہیں چن چن کر اسی طرح مارا
مزید پڑھیے