BN

محمد عامر خاکوانی


مسئلہ کشمیر: کنفیوژن پھیلاتے مغالطے


مسئلہ کشمیر، پاکستانی ریاست کے موقف ، اقدامات اور موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے مختلف بیانئے گردش کر رہے ہیں۔ ان میں سے بیشتر مغالطے ہی ہیں۔ بے بنیاد مغالطے، جو غلط استدلال اور تاویل کی پشت پر استوار ہیں۔ مختلف سوالات ہیں جو بغیر سوچے سمجھ اچھال دئیے جاتے ہیں۔ ان سوالات کو ایک ایک کر کے دیکھتے ہیں۔ کشمیریوں پر بڑا ظلم ہو رہا ہے، پاکستان کچھ نہیں کر رہا پہلی بات تویہ ہے کشمیریوں پر نہیں بلکہ صرف مقبوضہ کشمیر کے کشمیریوں پر ظلم ہو رہا ہے اور بھارت یہ ظلم کر رہا ہے۔ ریاست جموں
جمعه 07  اگست 2020ء

مقبوضہ کشمیر : چنداہم فکری مغالطے

جمعرات 06  اگست 2020ء
محمد عامر خاکوانی
مقبوضہ کشمیر کے عوام طویل عرصے سے بھارتی جبر واستبداد کا سامنا کر رہے ہیں۔پچھلے ایک سال میں تو حد ہی ہوگئی۔ حقیقت یہ ہے کہ ایک سال میں بھارتی حکومت اور فورسز نے کشمیری عوام پر جو ظلم ڈھائے ہیں، اگر عالمی ضمیر نام کی کوئی چیز موجود ہوتی تو اقوام عالم بھارت کے خلاف کھڑی ہوجاتیں۔ افسوس کہ شرمناک خاموشی اور افسوسناک سردمہری کے سوا کہیں کچھ نظر نہیں آرہا۔ چین کے علاوہ ترکی، ملائشیا جیسی اکا دکا استثنائی مثالیں ہی سامنے آئی ہیں، ان کے سواتمام مسلم ممالک اور مغربی دنیا مہربہ لب ہے۔اس ایک
مزید پڑھیے


غلطیاں کیوں دہرائی جا رہی ہیں؟

جمعه 31 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
محترمہ بے نظیر بھٹو1988ء کے انتخاب کے نتیجے میں وزیراعظم بنیں۔ بی بی کی یہ حکومت اٹھارہ ماہ قائم رہی، سیاسی ناتجربہ کاری، عجلت اور بیڈ گورننس کے مظاہرے ہر جگہ نظر آتے۔ پیپلزپارٹی کے اکثر اراکین اور وزرا ناتجربہ کار تھے، جنرل ضیا کے گیارہ سال دور میں پیپلزپارٹی اقتدار سے کوسوں دور تھی ۔بہت سے لوگ پہلی بار رکن اسمبلی بنے اور وزارت کا اعزاز بھی پہلی بار ملا۔ناتجربہ کاری کی وجہ سے آئے روز کوئی نہ کوئی غلطی ہوتی اور مذاق اڑتا۔دو اورفیکٹرز بھی کارفرما تھے۔ پنجاب میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی جو وفاقی حکومت
مزید پڑھیے


سید منور حسن کیوں دو بار ہ امیر نہ بن سکے ؟

جمعرات 30 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
جماعت اسلامی کے سابق امیر سید منور حسن دوسری بار امیر جماعت نہ بن سکے تھے۔2014 میں جماعت کے الیکشن میں اراکین نے ان کے بجائے سراج الحق صاحب کوامیر منتخب کر لیا۔ اس الیکشن کے حوالے سے حیدر فاروق مودودی صاحب نے چند سوالات اٹھائے ہیں، ان پر بات کرنا مقصود ہے، مگر پہلے کچھ حیدر فاروق صاحب کی شخصیت کے حوالے سے عرض کرتا چلوں۔ جناب حیدر فاروق مودودی نامور دینی سکالر اور جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ مودوی کے صاحبزادے ہیں۔ مولانا مودودی کی اولاد میں سے کچھ جماعت اسلامی کے قریب جبکہ بعض باقاعدہ قسم کے
مزید پڑھیے


پولیو ویکسین سے ڈپریشن کے علاج تک

اتوار 26 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
آج کل پولیو کے قطرے پلائے جانے کی حکومتی مہم چل رہی ہے، اس حوالے سے ایک اشتہار دیکھا تو دل میں چبھا۔ سادہ سا ایک جملہ تھا، پوری دنیا سے یہ ختم ہوگیا، صرف دو ملک رہ گئے ہیں، پاکستان اور افغانستان ،اپنے بچوں کو قطرے پلائیں تاکہ ہم بھی محفوظ ہوجائیں۔ صدمہ اس بات پر ہوا کہ افغانستان وہ ملک ہے جہاں بہت جگہ قبائلی سیٹ اپ چل رہا ہے، پچھلے چالیس برسوں سے وہاں وقفوں وقفوں سے خانہ جنگی ہی چل رہی ہے، خواندگی کی شرح بھی زیادہ نہیں۔ ایسے ملک کا موازنہ پاکستان کے ساتھ ،
مزید پڑھیے



اندھا کنواں

جمعه 24 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
چند ہفتے قبل بھارت کے ایک مقبول نوجوان اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے خودکشی کرنے کی خبر آئی۔ جس کسی نے وہ خبر سنی، حیران ہوا۔اس لئے بھی کہ سوشانت سنگھ خاصا مشہور اداکار تھا، اس کی کئی فلمیں ہٹ ہوئیں اور وہ نوجوان نسل میں مقبول تھا۔ ایک بظاہر کامیاب اور کروڑوں روپے سالانہ کمانے والا شخص اچانک زندگی کیوں ختم کر لے گا، یہ خیال ہر ایک کے ذہن میں پیدا ہوا۔ بھارت میں اس واقعے کے بعد دو طرح کے طوفان اٹھے۔ سوشانت کے مرنے کے بعد پتہ چلا کہ اس کو تین چار بڑے فلم ساز
مزید پڑھیے


بنیادی مقدمات

منگل 21 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کیا پاکستان میں سیاست دم توڑ چکی ہے؟نظام معاشرت باقی نہیں رہا؟سیاسی عمل سیاسی اقدار کا پابند نہیں ہے؟پاکستانی سیاست کے بنیادی مقدمات ہیں جن کی طرف لوٹے بغیر بہتری نہیں آ سکتی؟ یہ اور اس جیسے دیگر سوالات پر ہمارے دانشور حضرات پریشان ہوتے ہیں، انہیں یہ فکر بھی لاحق رہتی ہے کہ سیاسی نظام چل رہا ہے،مگرجمہوریت حقیقی شکل میں موجود نہیں۔ ایک محترم قلمکار دوست نے گزشتہ روز انہی نکات پر لکھا ، انہوں نے لکھا کہ چند بنیادی مقدمات پر فکری یک سوئی جب تک نہیں ہوگی، سیاست کی فطری ساخت بحال نہیں ہوسکتی۔ چار پانچ
مزید پڑھیے


دس بیس آدمی

اتوار 19 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ندا فاضلی کا مشہور شعر ہے ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا اسے کئی حوالوں سے استعمال کیا جا سکتا ہے، ان میں سے ایک سیاست بھی ہے۔سیاستدان انسان ہیں اور ان کے بھی کئی شیڈز ہوتے ہیں ، بیک وقت کئی چہرے، کئی انسان جو ایک وجود میں سمائے ہیں۔ کسی کا منفی چہرہ ہمارے سامنے ہوتا ہے، مگر اس کے اندر دل موہ لینے والا مثبت انسان بھی موجود ہے، صرف اسے دیکھنے کی ضرورت ہے۔اسی طرح ہم بطور مداح کسی لیڈر کی محبت
مزید پڑھیے


مادر ملت انتخابی معرکہ کیوں ہاریں؟

جمعه 17 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
پاکستان کی قومی سیاسی تاریخ کے حوالے سے کچھ باتیں بار بار دہرانے کی ضرورت رہتی ہے۔ ہر چند برسوں کے بعد پروپیگنڈے کی ایک لہر آتی ہے ، جس کا مقصد حقائق کو مٹانا اور اپنی پسند کی چیزیں نمایاں کرنا ہوتا ہے۔ اگر انہیں بروقت چیلنج نہ کیا جائے تو کچھ عرصے بعد انہیں درست تسلیم کر لیا جاتا ہے۔ پچھلے کالم میں لکھا کہ محترمہ فاطمہ جناح کے حوالے سے یہ تاثر درست نہیں کہ انہیں ریاستی یا قومی سطح پر غدار قرار دیا گیا تھا ۔ اگرچہ اسی کالم میں یہ وضاحت کر دی تھی
مزید پڑھیے


حقائق بدلنے کی کوشش نہ کریں

منگل 14 جولائی 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ہمارے ہاں دوتین قسم کے رجحانات عام ہو رہے ہیں،کسی بے بنیاد اور غلط تھیوری کوایسے زور شور کے ساتھ پھیلانا کہ کچھ عرصے بعد لوگ اسے سچ ماننے لگیں بلکہ ان کی حیثیت عالمگیر سچ کی ہوجائے۔ دوسرا ہر وقت اپنی قوم پر لعنت ملامت کے تیر برساتے رہنا ۔تیسرا اپنی پسند کے موقف کو ترویج دینا اور تصویر کے دوسرے رخ کوسامنے نہ آنے دینا۔مختلف طبقات اپنی اپنی وجوہات کی بنا پریہ ایسا کرتے ہیں۔ کسی پر سیاسی تعصبات غالب آجاتے ہیں، لیڈر کی محبت منفی پہلوئوں کی طرف دیکھنے کی توفیق نہیں دیتی۔بعض لوگ
مزید پڑھیے