BN

محمد عامر خاکوانی



پولیو کے مرض کا خاتمہ کیجئے


حیرت ہوتی ہے کہ بعض نہایت آسان اور سامنے کی باتیں سمجھانے کے لئے بھی ہمیں سرکاری اور قومی سطح پرمہم چلانی پڑتی ہے۔جیسے ٹی وی، ریڈیو پر کروڑوں روپے خرچ کر کے تشہیری مہم چلتی ہے، جس میں والدین سے اپیل کی جاتی ہے کہ اپنے بچوں کو پولیو کے قطرات پلائیں۔ ایسا کیوں کرنا پڑتا ہے ؟پولیو جیسی سنگین بیماری کے بارے میں بھی کسی کو کچھ سمجھانے کی ضرورت ہے؟ ہمارے دائیںبائیں، محلے میں کہیں نہ کہیں کوئی ایسا پولیو کا مریض نظر آجاتا ہے جو بروقت ویکسین نہ ملنے کے باعث معذور ہوگیا اور اب بیساکھی
منگل 18 فروری 2020ء

بنیادی اصول کون سکھائے گا؟

اتوار 16 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
سوشل میڈیا کی خوبیوں، خامیوں پر طویل بحث ہوسکتی ہے، اس میں اصلاح کی بے پناہ گنجائش ہے اور کچھ ایسے مفید پہلو بھی ہیں جنہیں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ مختلف ممالک، کلچر، پس منظر کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ انٹرایکشن کر رہے ہیں۔ فیس بک پوسٹوں میں اچھی چیزیں مل جاتی ہیں، اگرچہ اس کے لئے اپنا حلقہ احتیاط سے بنانے کی ضرورت ہے۔کوشش کی جائے تو کچھ نہ کچھ مفید مل ہی جاتا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک معروف فیس بکی بلاگر اور ٹورازم ایکسپرٹ محمد عبدو نے
مزید پڑھیے


حرف تشکر

جمعه 14 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
اگلے روز میرے منجھلے صاحبزادے نے ایک ایسا سوال پوچھاکہ پچھلے پچیس تیس سال کا پورا سفرآنکھوں کے سامنے گھوم گیا۔ بیٹے کی عمر چودہ سال ہے، میری مسلسل ترغیب پر اس کی کہانیوں، کتابوںمیں دلچسپی پیدا ہو رہی ہے۔ دو تین سال پہلے اس کے لئے اپنے بچپن میں پڑھا گیا داستان امیر حمزہ اور طلسم ہوشربا کی کہانیوں کا پورا سیٹ خریدا۔مجھے یہ کہانیاں ازحد پسند تھیں۔ خواہش کی کہ بچے بھی پڑھیں۔ بڑے بیٹے کو مطالعے سے زیادہ دلچسپی نہیں، ا س کے لئے نِچلا بیٹھنا مشکل ہے۔ درمیان والے معزخاکوانی سے امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں،
مزید پڑھیے


اینٹی لائبریری

منگل 11 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
ممکن ہے آپ کے ساتھ کئی بار ایسا ہوا ہو کہ کسی کتاب میلے ، ادبی کانفرنس سے کتابیں خریدی ہوں مگر انہیں پڑھنے کا وقت نہ ملا ہو۔ یہ کتابیں بغیر چھوئے پڑی ہوں اور آپ کہیں اور سے مزید کتابیں اٹھا لائیں۔ یہ کتابوں کا ڈھیر جسے پڑھنے کا وقت نہیں مل رہا، سوہان روح بن جاتا ہے۔ گھرکی چھوٹی بڑی لائبریری یا بیڈروم کے شیلف میں رکھی یہ کتابیں حسرت سے دیکھتے ہیں۔یہ افسوس بھی ہوتا ہے کہ سینکڑوں، ہزاروں روپے خرچ ہوگئے، مگر کتابیں پڑھ ہی نہیں سکا۔امکان ہے کہ پیسوں والی بات آپ بھول جائیں،
مزید پڑھیے


سانس لیتی جیتی جاگتی کتابیں

اتوار 09 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
کتابوں کے ساتھ گزرے لمحات سے زیادہ دل خوش کن اور یاد رہنے والی ساعتیں اور نہیں ہوسکتیں۔ میری زندگی کی جو مسرور کر دینے والی گھڑیاں ہیں ان میں کتابوں نے سب سے زیادہ اہم کردار ادا کیا۔ مجھے یاد ہے کہ میرا بچپن، لڑکپن پورے گھروالوں سے الگ تھلگ سب سے آخر والے کمرے میں گزرتا تھا۔ جہاںرسالے، ڈائجسٹ اور کرایے پر لی گئی کتابیں تھیں اور شب وروز انہی کے ساتھ بسر ہوتے۔ ہم سے پچھلی نسل نے ایک پیسہ یا ایک آنہ لائبریری دیکھی تھی، ہم تک پہنچتے وہ ایک
مزید پڑھیے




مودی ازم نے ہمیں کیا سبق دئیے ؟

منگل 04 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی فسطائی سیاست نے نہ صرف بھارت بلکہ پورے خطے میں شدید قسم کا تنائو پیدا کر دیا ہے۔ پاکستان سے تو خیر بھارت کی پرانی چپقلش ہے، سری لنکا، بنگلہ دیش جیسے ممالک بھی مودی ازم سے نالاں ہوچکے ہیں۔ حسینہ واجد جیسی پروانڈیا بنگلہ دیشی سیاستدان بھی بھارتی پالیسیوں سے سخت شاکی ہیں۔ پاکستانی وزیراعظم نے نریندر مودی کو ہٹلر سے تشبیہہ دی اور بی جے پی کی پالیسیوں کو نازی ازم سے ملایا ، اس وقت تو شائد یہ خاصا سخت قسم کا کٹیلا طنز محسوس ہوا ہو، مگر آج عالمی میڈیا میں
مزید پڑھیے


کیا چین میں پھنسے پاکستانی طلبہ کو وطن واپس لانا چاہیے؟

اتوار 02 فروری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
آج کل ہمارے ہاں اسی سوال پر بحث جاری ہے کہ کیا مہلک کورونا وائرس سے متاثرہ چینی صوبہ وو ہان میں پھنسے سینکڑوں پاکستانی طلبہ کو واپس بلایا جائے یا نہیں۔ میری اس حوالے سے ایک خاص رائے ہے، مگر اپنی رائے قارئین پر مسلط کرنے کے بجائے یہ کوشش کروں گا کہ اس ایشو کو وہ خود سمجھیں اور غیر جذباتی انداز میں دلائل کی بنیاد پررائے قائم کریں۔ کورونا وائرس(ncov-2019)کے بارے میں اب تک بہت کچھ شائع اور نشر ہوچکا ہے۔ قارئین جان چکے ہوں گے کہ یہ تیزی سے پھیلنے والا ایک خطرناک وائرس ہے جو ٹچ
مزید پڑھیے


باریک لکیر

بدھ 29 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
میڈیا کے شور شرا بے اور سیاسی زور آزمائی میں ہر روز بحث مباحثے کی ایک نئی فصل نمودار ہوتی ہے، شام سات سے رات گیارہ بجے تک کے ٹاک شوز میں اینکرز اورمہمان حضرات اپنی کاوش سے اس فصل کو ٹھکانے لگاتے ہیں۔ اگلے روز کوئی نیا شوشہ، مسئلہ یا تنازع موجود ہوتا ہے، ایک بار پھر پورے جوش وخروش سے سب اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔میڈیا کی دیکھا دیکھی سوشل میڈیا خاص کر فیس بک کے ایکٹوسٹ حضرات نے بھی یہ وتیرہ اپنایا ہے۔ ان کے ایشوز البتہ مختلف ہیں۔ وہاں سیاسی ماراماری بھی فیشن کا حصہ
مزید پڑھیے


کیا تصوف کو نصاب کا حصہ ہونا چاہیے؟

اتوار 26 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
وزیراعظم عمران خان نے چند دن پہلے یہ بیان دیا کہ تصوف کا نصاب کا حصہ بنانا چاہیے۔ ویسے تووزیراعظم کی سطح کی شخصیت ’’چاہیے ‘‘والا بیان دینے کے بجائے ہمیں صرف یہ بتائے کہ وہ ایسا کر رہے ہیں۔یہ ہونا چاہیے، وہ ہونا چاہیے وغیرہ کی خواہشات تو ہم عام لوگ کرتے ہیں۔ وزیراعظم فیصلہ ساز ہیں،وہ تو فیصلہ کر کے اس پر عملدرآمد کرائیں۔ خیر تصوف کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے اور الگ سے کسی ادارے میں اس کی اعلیٰ تعلیم کی بات پر ہمارے ہاں سنجیدہ بحث ہونی چاہیے تھی۔ اس کے بجائے یہ اہم تجویز
مزید پڑھیے


زندگی بدلنے والے

بدھ 22 جنوری 2020ء
محمد عامر خاکوانی
یہ عجب انداز کی محفل تھی۔ بظاہر تولاہور کے ایک مشہور روایتی کھابے کے مرکز پر کھانے کے لئے سب اکٹھے ہوئے تھے۔ایک ہٹا کٹا دیسی مرغ منتخب کر کے اپنے سامنے ذبح کرایا اور ٹکڑے کرائے، کڑاہی گوشت بننے کا عمل شروع ہو گیا۔ عام طور پر جب ایسا کھانے کا آرڈر دیا جائے تب کھانا آنے تک کے انتظار کو گپ شپ کے ذریعے گزارا جاتا ہے۔ تجربہ مگر یہی ہے کہ ایسی گفتگو بے جان اور بے ربط رہتی ہے کہ سب کے تصور میں دیسی مرغ کا مکھن میںتیار کردہ گوشت، بھنے تکے اوردل ، گردہ
مزید پڑھیے