جسٹس نذیر غازی



صحن گلستان میں صیّاد آ کر بس گئے


کرائے کے مکان میں رہنے والے مالک مکان کے لیے آزار کا سبب بنتے ہیں۔ کرایہ دیتے نہیں، قبضہ چھوڑنے پر آمادہ نہیں، جہاں سے دل کرتا ہے وہیں سے توڑ پھوڑ کرتے ہیں ان کے دل کو راحت ملتی ہے۔ مالک مکان کے ناک میں دم آ گیا ہے۔ اس ملک کے مالک اور وارث وہ اکثریتی عوام ہیں جن کے خون پسینے سے یہاں کی زراعت سانس لیتی ہے اور جن کی ہڈیوں کے گودے کی قیمت پر یہاں کی صنعتیں قوت پاتی ہیں۔ ان غریب اور مفلوک الحال لوگوں کی آمدنی کے ٹیکس سے سیاستدانوں کے ایوانوں کے
هفته 12 مئی 2018ء

سو رہے ہیں قبر میں وہ ‘ نوری چادر اوڑھ کر

اتوار 06 مئی 2018ء
جسٹس نذیر غازی

باپ شجر سایہ دار ہوتا ہے اور شفقت اس کو خلاق فطرت نے اتنی زیادہ ودیعت کر دی ہوتی ہے کہ وہ نسلوں کو فیض بخشتا رہے۔ انسانی اقدار کو تربیت میں اتارتا رہے اور امانت اخلاق‘ نفس و قلب میں ایسے بٹھا دے کہ انسان کا بچہ انسان بن جائے۔ عجب فطرت ہے انسان کی‘ جب ذرا سے ہوش کے ناخن لیتا ہے تو اسے فطرت کے عطا کردہ سائے کی ضرورت محسوس ہونا شروع ہوتی ہے اور وہ اپنی فطری صلاحیتوں کو اتنی جلدی پروان چڑھاتا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ شعور کا مرقع نظر آتا ہے
مزید پڑھیے


تیری ہر بات میں سو سو فسانے پنہاں

منگل 01 مئی 2018ء
جسٹس نذیر غازی

اب مکمل افراتفری کا سماں ہے۔ کاروباری لوگوں کے نزدیک فصل سنبھالنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر آڑھتی چاہتا ہے کہ اس کی آڑھت پر کل فصل ڈھیر ہو جائے اور اس کی اجارہ داری مضبوط سے مضبوط تر ہو جائے۔ کھیلنے والے اور کھلوانے والے پوری کاروباری دیانت اور سیان پت سے اپنے اپنے مورچوں کو مضبوط کر رہے ہیں۔ پیسہ نجانے کہاں سے آتا ہے اور کیسے آتا ہے؟ ایک سادہ آدمی ہونق بنا دیکھتا ہے اسے بالکل سمجھ نہیں آتی کیونکہ وہ تو اپنی دنیائے شکم کا اسیر ہے۔ اس کے نزدیک سب حساب کتاب
مزید پڑھیے