BN

ناصرخان


میاں شریف سے میاں اظہر اور حماد اظہر تک!


ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ پاکستان میں ایک حکمران ہوا کرتے تھے۔ نام تھا ان کا ضیاء الحق۔ انہیں کچھ فوبیاز لاحق تھے۔ افغانستان میں اسلامی حکومت ہونا چاہیے۔ اسلامی بھی ان گروپس پر مشتمل جنہیں ’’ہماری‘‘ حمایت حاصل ہو۔ ان کی اس خواہش کی قیمت پاکستان نے کہاں کہاں ادا کی؟ وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے مگر یہ کہانی پھر سہی۔ آج اس مردِ مومن مردِ حق کے ایک اور فوبیا کا ذکر کرتے ہی۔ بھٹو فوبیا … اس وقت یہ پیپلز پارٹی نہ تھی … فریال تالپور اور شرجیل میمن والی جعلی پیپلز
اتوار 30 جون 2019ء

عمران خان کے نئے پاکستان کے چند مناظر

جمعرات 27 جون 2019ء
ناصرخان
پہلا منظر یہ ایک ریسٹورنٹ ہے اسلام آباد کا۔ سہ پہر کا وقت ہے۔ دو جرنلسٹ ایک میز پر کافی پی رہے ہیں۔ ہال یخ بستہ ہے مگر اکا دکا میزوں پر لوگ موجود ہیں۔ یہ جرنلسٹ ریگولر آنے والوں میں سے ہیں۔ سیاسی گفتگو کا محور و مرکز ان ہی کی میز ہوتی ہے۔ اس دن بھی معمول کے مطابق وہ عمران خان کے اس ٹی وی پروگرام کی بات کررہے ہیں جس میں ان کا اور ان کی معاشی ٹیم کا بزنس کمیونٹی سے مکالمہ ہوا۔ ان پیشہ ور صحافیوں میں سے ایک صاحب الیکٹرونک میڈیا پر اکانومی پر
مزید پڑھیے


اگر یہ بھی ناکام ہوگئے تو؟

اتوار 23 جون 2019ء
ناصرخان
جس طرح انسان کا مزاج اس کا مقدر ہوتا ہے اس طرح قوموں کا عروج و زوال بھی ان کی عادات اور اطوار میں پنہاں ہوتا ہے۔ رومن ایمپائر سے خلافت عثمایہ تک اور مغلوں سے سلاطین دہلی تک ان کے عروج کے زمانوں میں حکمران اور عوام کیسے Behave کرتے تھے اور عروج کے آخرش وہ کیا کررہے تھے۔ ہم گوروں کے ساتھ بہت عرصہ رہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت بہترین طرزِ حکومت ہے۔ ہم نے بھی کہا ایسا ہی ہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ ایک جاہل، اجڈ اور گنوار کو تھری پیس سوٹ پہنا کر
مزید پڑھیے


پرانا لاہور اور اس کے قلم کار!

جمعرات 20 جون 2019ء
ناصرخان
خاکہ نگاری ادب کی ایک باکمال صنف ہے۔ ادب کسی بھی زبان میں ہو خاکہ نگاری اپنے قاری کو دیکھنے اور سوچنے کے نئے زاویئے فراہم کرتی ہے۔ 1947ء کے بمبئی میں دیویندر ستیارتھی … ساحر کا خاکہ لکھ رہا تھا۔ عصمت چغتائی اپنے قلم کی آنکھ سے منٹو کو دیکھ رہی تھی۔ منٹو، کرشن چندر اور باری علیگ کو اپنے تخیل کی آنکھ سے پرکھ رہا تھا۔ ان ہی دنوں مشہور شاعر اور خوبصورت فلمی گیتوں کے خالق کیفی اعظمی نے بھی ساحر کی شخصیت پر لکھا اوربہت خوب لکھا۔ ان دونوں رقیب دوستوں کی کہانی پھر سہی۔ بس
مزید پڑھیے


ارسلان افتخار سے چودھری افتخار تک!

جمعه 14 جون 2019ء
ناصرخان
وہ گرمیوں کی ایک عام سی شام تھی۔ ماڈل ٹائون میں درختوں کے جھنڈ میں گھرے ہوئے ایک گھر کے پہلے فلور پر ہم چائے پی رہے تھے۔ میزبان میڈیا کی ایک اہم شخصیت تھی۔ ساتھ ہی کھلتی ہوئی رنگت والا نظر کی عینک کا خوبصورت فریم لگائے ایک نوجوان کرسی پر بڑے ادب سے بیٹھا ہوا تھا۔ ان سے ملیے یہ ڈاکٹر ارسلان ہیں۔ شیخ زید ہسپتال میں ڈاکٹر ہیں اور اب سی ایس ایس کرنا چاہتے ہیں۔ ان کے والدین اسلام آباد میں رہتے ہیں۔ یہ لاہور میں اکیلے رہتے ہیں۔ انہیں کرنٹ افیئرز اور پاکستان افیئرز پر
مزید پڑھیے



ڈاکٹر انورسجاد سے روحی بانو تک!

اتوار 09 جون 2019ء
ناصرخان
ڈاکٹر انور سجاد کی رُخصتی نے اداس کر دیا۔بالکل ایسے ہی جب روحی بانو ،حبیب اوران جیسے بہت سے فنکار اس دنیا سے اُس دنیا کی جانب رخصت ہوئے تھے۔ایسے ہی جب حسن طارق اپنے آخری دنوں میں اپنی پہلی بیوی کے ہاتھوں تیمار داری کے دوران ماضی کی محبتوں کے زخم مندمل کر رہے تھے۔مشہور فلم ساز سرور بھٹی نے سلمیٰ آغا اور ندیم کو لے کر ایک فلم بنائی۔نام تھا اس کا"بازارِحسن"۔اس فلم میں جب ایک فلم ڈائریکٹر عروج پر ہوتا ہے تو وہ ایک سٹار ایکٹرس سے شادی کر لیتا ہے ۔جب اس ڈائریکٹر کو زوال آتا
مزید پڑھیے


فقر … درویشی اور درویش!

جمعه 31 مئی 2019ء
ناصرخان
حدیث قدسی ہے کہ خالق کائنات نے فرمایا: ’’میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا۔ میں نے چاہا کہ میں پہچانا جائوں تو میں نے خلق کو تخلیق کیا‘‘۔ نبی آخرالزماںؐ نے فرمایا: ’’الفقر فخری‘‘ (مجھے فقر پر فخر ہے)۔ فقر کیا ہے؟ کائنات کی تخلیق کا مقصد رب کا اپنی پہچان کروانا تھا اور وہ بندے … خاص بندے جو اس پہچان کا حق ادا کرتے ہیں فقیر کہلاتے ہیں۔ کیا کوئی محدود اور فانی شخصیت ایک لامحدود اور باقی رہنے والی ذات کی پہچان کا حق ادا کرسکتی ہے؟ یہ تو ہوسکتا ہے کہ کبھی مصور ہی تصویر
مزید پڑھیے


بابُ العِلم کی شہادت

اتوار 26 مئی 2019ء
ناصرخان
چالیس ہجری کی بات ہے۔ چند خارجی مکہ میں جمع ہوئے۔ اسلام پر اور مسلمانوں پر خاصا کڑا وقت تھا۔ باہمی انتشار خاصا تھا۔ اسی انتشار میں منحرفین کی ایک جماعت رونما ہوئی۔ یہ خارجی تھے۔ ان کے نکتہ نظر اور پس منظر پر بات کرنے کے لیے کالم نہیں مضمون درکار ہے۔ ان ہی خارجیوں نے ایک سازش رچائی۔ طے پایا کہ حضرت علیؓ، امیر معاویہ اور عمرو ابن العاص کو قتل کردیا جائے۔ فرائض اس طرح تقسیم کیے گئے کہ عبدالرحمن ابن ملجم کی ڈیوٹی حضرت علیؓ پر لگی۔ حجاج بن عبداللہ صریمی کا فرض امیرمعاویہ ٹھہرے اور
مزید پڑھیے


ہر طرف حکمران ہی حکمران

جمعه 24 مئی 2019ء
ناصرخان
نہ تو منو بھائی کے جنگل اداس ہیں جیسی اداسی طاری ہے اور نہ ہی ناصر کاظمی کے شعر کی طرح دل کا شہر سائیں سائیں کر رہا ہے۔ مگر بے سبب آج کسی ایک موضوع کی بجائے بہت سے موضوعات کی کاک ٹیل بنانے کو جی چاہ رہا ہے۔ لگتا ہے جیسا قائد کا پاکستان آج بھی وہیں کھڑا ہے۔ کافکا کے اداس کرداروں کی طرح، منٹو کی سسکتی کہانیوں جیسا۔ ایسے میں جون ایلیا… منیر نیازی اور عدیم ہاشمی کے شعروں میں پناہ لینے کو جی چاہتا ہے۔ جیسے منیر کہہ رہے ہوں کہ اس شہر سنگ دل
مزید پڑھیے


کمپنی کی حکومت … انتظار فرمائیے!

اتوار 19 مئی 2019ء
ناصرخان
ایک نابینا سردار جی جو امریکہ میں رہتے تھے، ان کے سونگھنے کی حس باکمال تھی۔ یار دوست انہیں جو بھی مشروب گلاس میں ڈال کر پیش کرتے سردار جی سونگھ کر اعلان کردیتے۔ فلاں کمپنی دا اے، فلاں برانڈ دا اے۔ ان کے مسلسل مشروبی تجزیوں نے یار دوستوں کو مجبور کردیاکہ وہ کوئی ایسا ’’شغل‘‘ کریں کہ سردار جی زچ ہوجائیں۔ تین چار مختلف کمپنیوں کے برانڈ مکس کرکے گلاس میں ڈالے گئے اور سردار جی کو پیش کردیئے گئے۔ سردار جی نے سونگھا اور بار بار سونگھتے چلے گئے۔ زچ ہوگئے۔ منہ بنا کر کہنے لگے ’’اے
مزید پڑھیے