BN

سعدیہ قریشی


شخصیت نہیں فوٹو کاپیاں


بھیڑ چال میں ہمارا کوئی ثانی نہیں‘ ہم مکھی پر مکھی مارنے والی قوم ہیں۔ ہماری تخلیقی صلاحیتوں کی تان ریپلیکا پر آ کرٹوٹتی ہے۔ ہم سے ماہر نقل خور قوم شاید ہی روئے زمین پر کوئی اور ہو۔ ہم انفرادیت کی چادر اتار کر پھینک چکے‘ اب ٹرینڈز کی ٹاپ اورجینز پہنے اترائے پھرتے ہیں۔ ہمسائے کا منہ لال دیکھ کراپنا منہ ’’چپیڑ‘‘ مار کر لال کرنے کو ہم طعنہ نہیں بلکہ اپنا فخر سمجھتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ ہماری کوئی روایت نہیں تھی۔ کوئی ماضی نہیں تھا‘ ہماری جڑیں کسی زمین پر پیوست نہ تھیں۔ ہم گلدان میں
اتوار 19 جولائی 2020ء

تربیت روح سے جڑا ہوا عمل ہے

جمعه 17 جولائی 2020ء
سعدیہ قریشی
گزشتہ جمعے کو بچوں کی تربیت کے حوالے سے کالم لکھا تو اس پر غیر معمولی ردعمل آیا۔ والدین کی اس موضوع میں دلچسپی تو فطری تھی مگر مجھے حیرانی ہوئی کہ کچھ طالب علموں کی ای میلز بھی مجھے موصول ہوئیں اور انہوں نے بھی اس موضوع میں دلچسپی ظاہر کی۔ اس پر مجھے ایک لطیفہ یاد آ گیا کہ ایک بچہ کتابوں کی ایک دکان پر جا کر کہتا ہے کہ بچوں کی تربیت کے بارے میں کوئی کتاب آپ کے پاس ہے۔ دکان دار حیران ہو کر پوچھتا ہے بیٹا!آپ نے کیا کرنی ہے۔ تو بچہ معصومیت
مزید پڑھیے


افشاں لطیف کا جُرم کیا ہے۔؟

بدھ 15 جولائی 2020ء
سعدیہ قریشی
افشاں لطیف! تمہیں کس نے کہا تھا کہ سچ بولو۔ظلم کے خلاف آواز اٹھائو‘یتیم بچیوں کا درد اپنے دل میں محسوس کرو۔ آخر تم اپنے کام سے کام کیوں نہیں رکھتی۔ کیوں چاہتی ہو کہ جھوٹ‘ منافقت ظلم اور بے حسی کے اس شہر میں آئینے کی طرح بکھر کر کرچی کرچی ہو جائو۔! افشاں!تمہیں چاہیے تھا کہ جب ادارے کی ایک بڑی افسر تم سے کاشانہ میں غیر قانونی بھرتیاں کروانے کے بدبودار عمل میں شریک ہونے اور مددگار بننے کا کہتی تھی تو تم بھی سارے اصول‘سارے قاعدے بند کر کے ردی کی کسی ٹوکری میں پھینک دیتی۔ قانون کی
مزید پڑھیے


بچے کی سب سے اہم تربیت گاہ

جمعه 10 جولائی 2020ء
سعدیہ قریشی
بچے کی ذہن سازی میں سب سے اہم کردار کون ادا کرتا ہے۔ والدین‘ سکول یا معاشرہ یا میڈیا؟ مختلف لوگ اس کا مختلف جواب دیں گے۔ کچھ لوگوں کے نزدیک آج کل میڈیا ہی ہے جو بچوں پر سب سے زیادہ اثر انداز ہورہا ہے۔ گھروں کا ماحول ہی ایسا بن چکا ہے کہ ماں باپ اپنے اپنے موبائل سیٹس ہاتھ میں پکڑے سوشل میڈیا کی مصروفیات میں بندھے ہوئے ہیں اور بچے بھی ٹیب (Tab) اور کمپیوٹر پر طرح طرح کی ویڈیو گیمز کھیلنے میں مصروف ہیں۔ ویڈیو گیمز کے علاوہ بھی بچے سکرین پر کارٹون اور اپنی پسندیدہ
مزید پڑھیے


JITرپورٹ میں نیا انکشاف کیا ہے؟

بدھ 08 جولائی 2020ء
سعدیہ قریشی
11ستمبر 2012ء کو ورک پلیس پر ہونے والی تاریخ کی ہولناک دہشت گردی کراچی میں‘ بلدیہ ٹائون کی گارمنٹس فیکٹری میں ہوئی۔ 260کام کرنے والے ورکروں کو زندہ جلا دیا گیا۔ اس سے بھی بڑا سانحہ یہ ہوا کہ علی انٹر پرائز کی گارمنٹس فیکٹری کو جن نامعلوم افراد نے آگ لگائی تھی انہی نامعلوم افراد نے اس سانحے کا سوگ منایا اور تعزیتی ریفرنس کے لئے کالے جھنڈے لہرائے اور متاثرین کو انصاف دلانے کے لئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا۔یہ نامعلوم افراد اپنے نام شناخت اور عہدے سمیت سب اہل اختیار سے لے کر عوام تک کو معلوم
مزید پڑھیے



ڈاکٹر خورشید رضوی کی بازدید

اتوار 05 جولائی 2020ء
سعدیہ قریشی
بازدید۔دیکھے ہوئے کو دوبارہ دیکھنا‘ڈاکٹر خورشید رضوی کے قلم سے پھوٹی‘نثر کی ایک بہار ہے۔ جو مختلف شخصیات کے رنگا رنگ خاکوں سے سجی سنوری‘لہکتی اور مہکتی ہے۔ ڈاکٹر خورشید رضوی کوکون نہیں جانتا‘عربی زبان و ادب کے عالم بے بدل۔خوشنوا شاعر‘عربی کے مترجم و محقق۔ بے مثل استاد جنہیں پروفیسر ایمریٹس کا درجہ حاصل ہے۔ جو ریٹائر ہو کر بھی ریٹائر نہیں ہوتا۔ تمام عمر علم اور طالب علموں سے جڑا رہتا ہے۔بازدید ‘میں نے 15فروری 2019کو کتابوں کے میلے میں خریدی تھی اور تب سے اب تک میں اسے بارہا پڑھ چکی ہوں۔بازدید میں نہ جانے ایسی کیا بات
مزید پڑھیے


ظلم گزیدہ!!

جمعه 03 جولائی 2020ء
سعدیہ قریشی
ایک چیز جو اللہ کی زمین پر بڑی مستقل مزاجی سے جاری و ساری ہے وہ ظلم ہے۔ خیر کے مقابلے میں شر کی قوتیں زیادہ پائیدار اور مستقل مزاجی سے کارفرما رہتی ہیں۔ خالص اور مستحکم امن‘ دنیا میں کم کم اور نایاب ہے۔ بلکہ خالص امن شاید دنیا کے کسی بھی معاشرے میں موجود نہ ہو۔ ابھی امریکہ میں جس طرح ایک کالے کا گلا گھونٹ کر اس کو سر راہ مار دیا گیا‘ اس سے یہ یقین اور بھی پختہ ہوتا ہے کہ خالص امن کہیں بھی نہیں ہے۔ معاشرے کا کوئی نہ کوئی طبقہ ظلم کی چکی
مزید پڑھیے


سکیورٹی گارڈز

بدھ 01 جولائی 2020ء
سعدیہ قریشی
مجھے اعتراف ہے کہ میں بینکوں‘ ہوٹلوں‘ شاپنگ مالوں اور بڑے بڑے پرشکوہ اور شاندار اداروں کے باہر‘ سکیورٹی گارڈ کو موسم کی سختیاں برداشت کرتے ہوئے ڈیوٹی پر مامور دیکھتی ہوں۔ سکیورٹی گارڈز کو دیکھتے ہوئے کہ کیسے آتے جاتے کو سلام کرتے ہیں‘ دروازے کھولتے ہیں‘ چند ہزار کی تنخواہ پا کر اپنی جان ہتھیلی پر لیے کھڑے رہتے ہیں۔ تو گوناگوں مصروفیات میں جکڑا ہوا میرا دل بھی ان کے لیے درد اور احساس کے ساتھ دھڑکتا ہے۔ میرا جی چاہتا ہے کہ میں کہوں کہ پلیز آپ میرے لیے دروازہ نہ کھولیں۔ پلیز آپ مجھے سلیوٹ
مزید پڑھیے


کوئی مجھ کو بیاضِ وقت پہ تحریر کرتا ہے!

اتوار 28 جون 2020ء
سعدیہ قریشی
27جون 2007ء کا وہ دن میری یادوں میں کبھی مدھم نہیں پڑ سکا وہ لو بھرا ‘ گرم دن میرے صحافتی سفر کا حسین ترین دن تھا۔ آج 27جون 2020ء کو یہ سطریں قلم بند کرتے ہوئے 13برس کے فاصلے پر ہی ہوں۔ اس لو بھرے سنہری دن کی طشتری میں سجی ہوئی وہ انوکھی خوشی محسوس کر سکتی ہوں جس نے مرے دل کو یک گو نہ تشکر اور فخر و انبساط سے بھر دیا تھا۔ ان گزرے تیرہ برسوں میں میری صحافتی زندگی بہت سی رکاوٹوں سے گزر کر کامیابی کے بہت سے سنگ میل عبور چکی ہے۔ بہت
مزید پڑھیے


سورج جیسے لوگ رخصت ہو رہے ہیں

جمعه 26 جون 2020ء
سعدیہ قریشی
تاریکیوں کو منور کرنے والے سورج جیسے لوگ‘ رخصت ہو رہے ہیںچھتنار درختوں جیسے ثمر بار لوگ رخصت ہو رہے ہیں اپنی اپنی بساط میں زمین کا بوجھ اٹھانے والے بڑے لوگ رخصت ہو رہے ہیں۔ کس کا نوحہ کہیں اور کس کو بھول جائیں۔ موت برحق ہے سب پہ آنی ہے سب کی باری سے۔ مگر یہ جو وبا کے سفاک موسم میں ارزانی ہوئی ہے کہ ایسے قیمتی نامور لوگ زرد پتوں کی طرح شجر زندگی سے جھڑتے چلے جاتے ہیں شہر کا منظر نامہ ویران ہو رہا ہے۔ جامع بنوریہ کے مفتی نعیم بھی اسی وبا کے موسم میں
مزید پڑھیے