سعدیہ قریشی



ہوا بہشت کے باغوں کی زلف زلف پھرے


وہ میری ان دنوں کی سہیلی تھی جب زندگی نیلے اور سفید یونیفارم میں ملبوس ‘ بے فکری کی دہلیز پر روز ایک نیا خواب بنا کرتی۔ ماں باپ کی چھتنار چھائوں تلے اٹھکیلیاں کرتی۔ کبھی نہ رکنے والے بے وجہ قہقہوں سے سجی رہتی۔اس سے ملنے کا پہلا دن مجھے آج بھی یاد ہے۔ خان پور میں انگلش طرز تعمیر پر بنی ہوئی ریلوے کالونی کے ایک پرسکون اور سرسبز گوشے میں وہ سکول تھا جسے ہم روانی میں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ریلوے کالونی خان پور کہا کرتے تھے۔ جہاں میرا داخلہ چوتھی کلاس میں ہوا تھا۔ والد صاحب
جمعه 01 فروری 2019ء

کیا اخبار معدوم ہو جائیں گے؟

بدھ 30 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
اخبار کا میڈیا ان دنوں زوال کی زد میں ہے۔ یہ منظر حقیقی ہے یا پھر اس کو مصنوعی طریقے سے پیدا کیا گیا ہے لیکن سامنے نظر آنے والی حقیقت یہی ہے کہ اس وقت اخباری صنعت سے وابستہ ہزاروں کارکنان بیروزگار ہو چکے ہیں، ان میں تجربہ کار صحافی بھی شامل ہیں اور تکنیکی امور کا ماہر سٹاف بھی۔ اخبارات کے صفحات بھی سکڑ چکے ہیں لیکن بدقسمتی سے نوکری سے فارغ ہونے والے ان کم نصیبوں کے گھروں میں تو لالے پڑے ہوئے ہیں کہ خالی جیب زندگی کی گاڑی کو آگے کیسے گھسیٹا جائے۔ ان میں
مزید پڑھیے


روحی بانو کی کلینکل موت

اتوار 27 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
زندگی کا بوجھ ڈھوتے ڈھوتے روحی بانو روز مرتی تھی۔ شاید اسی لیے 25 جنوری 2019ء کو روحی کی کلینکل موت کی خبرمیں کچھ نیا پن نہیں تھا۔ روز مرنے کا ایک تسلسل ہو جیسے۔ ہاں مگر وہ روزمرنے کی اذیت سے نکل کر آسودہ ہوگئی۔ روحی بانو کی موت پر وہ روایتی جملے نہیں لکھے جاتے جو عموماً مشہور اور معروف مرنے والوں کی موت پر کہے جاتے ہیں۔ مثلاً یہ کہ فلاں کی وفات پر بہت دکھ ہوا۔ ان کے جانے سے خلا پیدا ہوگیا وغیرہ وغیرہ۔ روحی بانو کی افسوس بھری زندگی جن کے سامنے تھی‘ انہیں اس
مزید پڑھیے


غم زدہ لوگوں کو پروڈکٹ سمجھنے والا میڈیا

جمعه 25 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے ۔ جس میں ایک صحافی موصوف ایک ننھی بچی سے سوالات کرتے ہوئے‘ بے حسی پر مبنی صحافت کی اعلیٰ مثال قائم کرتے ہیں۔ ننھی بچی جس نے ابھی اپنی آنکھوں سے اپنے ماں اور باپ کے ہولناک قتل کا سانحہ دیکھا ہو۔ اس سے سوال کر رہے ہیں‘ بلکہ کرید کرید کر پوچھ رہے ہیں۔ ’’آپ کے ابو کہاں ہیں؟ آج صبح آپ کی ان سے ملاقات ہوئی؟۔ بچی حیران پریشان جواب دیتی ہے’’ نہیں‘‘پھر وہ موصوف ایک اور سوال داغتے ہیں۔ کیوں ملاقات نہیں ہوئی۔ آپ کے ابو کہاں گئے ہیں۔ بچی معصومانہ انداز میں کہتی ہے’’وہ
مزید پڑھیے


یہ ہوتی ہے تبدیلی…

بدھ 23 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
عمر‘ منیبہ اور ہادیہ۔ تین کم نصیب بچے‘ عمریں بالترتیب 11 سال‘ سات اور چار سال۔ ان کے ساتھ جو ہولناک قیامت بیتی اس کی مذمت کے لیے الفاظ کم پڑ جاتے ہیں۔ 19 جنوری کی صبح گھر سے چاچو کی شادی پر جانے کے لیے نکلے‘ ماں نے بہترین کپڑے بچوں کو پہنائے اور خود بھی اچھی تیاری کی۔ نئے چمکتے دمکتے کپڑے اٹیچی کیسوں میں رکھے‘ شادی پر جانے کی سو تیاریاں ہوتی ہیں‘ کئی ہفتوں سے ماں انہی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی اور پھر خاندان میں شادی ہو تو ناک رکھنے کو بہت سے اضافی خرچے
مزید پڑھیے




گھر میں بے روزگاری کا کہرام

جمعه 18 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی

آج کا اخبار کھولا تو کالم کے صفحات پر جہاں دیدہ سینئر صحافی مجاہد بریلوی صاحب کے کالم پر نظر پڑی۔ کالم کا عنوان تھا’’سعودیہ میں پاکستانیوں پر کیا گزر رہی ہے…؟ اس کالم میں جناب مجاہد بریلوی نے برادر اسلامی ملک سعودی عرب میں مزدوری کے لئے گئے پاکستانیوں کی جس حالت زار کا تذکرہ کیا ہے وہ دل دہلا دینے والا ہے۔ برس ہا برس سے کام کرنے والے غریب پردیسیوں کو کس طرح مالدار بزنس گروپ بیک جنبش قلم بے روزگار کر دیتے ہیں۔ ہزاروں بے روزگار ہونے والے پاکستانی انصاف کے لئے عدالت سے کر سفارت
مزید پڑھیے


واشنگٹن میں قابل فخر پاکستانی۔ قاضی منان

بدھ 16 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
قاضی منان سے ہماری ملاقات واشنگٹن ڈی سی میں حلال سکینہ گرل میں ہوئی جہاں ہم پاکستانی کھانے کی تلاش میں پہنچے۔ ہم تین لوگ تھے پرنٹ میڈیا کی صحافی گلناز نواب‘ ریڈیو آر جے سعدیہ رفیق اور میں۔ واشنگٹن ڈی سی میں ہمیں دو دن ہو چکے تھے اور ہم پاکستانی کھانے کو ترسے ہوئے تھے۔ پاکستانی ریسٹورنٹ گوگل کیے تو اس میں سکینہ حلال گرل کا نام سرفہرست تھا جو ہمارے ہوٹل سے نزدیک ترین مسافت پر تھا۔ جونہی ریستوران کے اندر داخل ہوئے پاکستانی کھانوں کی خوشبو نے ہمارا استقبال کیا۔ کچھ دیر بعد ہم واشنگٹن ڈی
مزید پڑھیے


امریکی میزبانی اور حلال کھانے کی تلاش

اتوار 13 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
دیارِ غیر کے جتنے بھی سفر نامے ہم نے اپنے ادیبوں اور شاعروں کے پڑھ رکھے تھے ان میں جا بجا‘ ان کے پاکستانی مداحوں اور میزبانوں کی طرف سے سجائی گئیں دعوتوں‘ ظہرانوں اور پرتکلف عشائیوں کی کہانیاں پڑھنے کو ملتیں ایک تو ہمارے شاعر اور ادیب اپنی تخلیقات کے بل بوتے پر اتنے مشہور و معروف اور ہر دل عزیز ہوتے ہیں اور بالخصوص بیرون ملک مقیم پاکستانیوں میں جو اردو ادب سے محبت کرتے ہیں۔ دیار غیر میں بسنے والے وہ پاکستانی جو سالہاسال کی پردیسی کاٹ کر جب خوشحالی کے سرسبز خطے میں داخل ہو جاتے
مزید پڑھیے


ڈینور‘ دونا برائسن اور تاریخی ویمن پریس کلب

جمعه 11 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
ڈینور میں قیام کی ایک خوب صورت یاد وہاں کے تاریخی ویمن پریس کلب کا وزٹ تھا جہاں پاکستانی صحافیوں کے وفد کے اعزاز میں ایک پرتکلف کافی کا اہتمام کیا گیا تھا۔ 12دسمبر کو جب ہم اس روز کی مختلف نشستیں اور انٹرایکٹو سیشن نمٹانے کے بعد ڈینور کے تاریخی ویمن پریس کلب پہنچے دن‘ سرمئی شام میں چھل رہا تھا۔ وہاں اتنے روشن اور محبت بھرے چہروں نے ہمارا استقبال کیا کہ دن بھر کی تھکن اور بوریت جیسے ہوا ہو گئی۔ سنہری ‘ گولڈن برائون‘ مہندی رنگ‘ سرمئی اور سفید ہر رنگ کے بالوں والی خواتین‘ خوبصورت لباس پہنے
مزید پڑھیے


ٹیکساس‘وینڈی ہنّہ۔ عافیہ اور اداسی

بدھ 09 جنوری 2019ء
سعدیہ قریشی
امریکہ میں ہمارا تیسرا پڑائو ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں تھا۔ ڈینور سے ڈیلس جاتے ہوئے ہمیں ہوسٹن سے کینکٹڈ فلائٹ لینا تھی ہوسٹن ایئر پورٹ پر چند گھنٹوں کا ٹرانزٹ تھا۔ ٹیکساس اور ہوسٹن کے ساتھ ہی جو تیسرا نام ذہن میں آیا وہ کم نصیب عافیہ صدیقی کا تھا۔ کیونکہ وہ ہوسٹن کی جیل میں جبر مسلسل کی سزا کاٹ رہی ہیں۔ دل پر ایک عجیب سا بوجھ اور اداسی سی چھا گئی اور اپنی اور اپنے ملک کی بے بسی کا شدید احساس ہوا۔ عافیہ کی بہن ڈاکٹر فوزیہ صدیقی ہر آنے والی حکومت سے امید لگاتی
مزید پڑھیے